BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 29 April, 2007, 14:35 GMT 19:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’زیادہ تر مقامی لوگ ہی نشانہ بنے‘

چارسدہ دھماکہ
دھماکے میں ہلاک ہونے والے ایک شخص کے والد غم سے نڈھال ہیں
چارسدہ خودکش حملے کے ہدف کے بارے میں تو شک کی کوئی گنجائش نہیں کہ یہ وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ ہی تھے لیکن اس حملے کی وجہ کیا تھی یہ پوری طرح سے واضح نہیں۔

اس حملے کی وجہ آفتاب شیرپاؤ جس حکومت کا حصہ ہیں اس کی متنازعہ پالیسیاں تھی یا ان کی اپنی سیاسی سوچ؟

لیکن ماضی کے ہر حملے کی طرح اس مرتبہ بھی ہلاک یا زخمی ہونے والے تمام افراد شاید آفتاب شیرپاؤ کی سیاست یا ان کی حکومت کی پالیسیوں کے حامی نہ ہوں۔

یہ عام مشاہدہ ہے کہ خودکش حملہ آور نے اپنے ہدف کے ساتھ ساتھ عام لوگوں کو بھی بڑی تعداد میں نقصان پہنچایا ہے اور اس مرتبہ بھی عینی شاہدین کے مطابق ہلاک و زخمی افراد میں بڑی تعداد اردگرد کے علاقے کے تجسس بھرے کم عمر لڑکے بھی تھے اور اپنی گلی یا نالی کی پختگی سے لے کر نوکری تک کے مسائل کی درخواستیں تھامے عام شہری بھی۔

ضلع ناظم چارسدہ نصیر محمد خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جلسہ گاہ سٹیشن کرونہ نامی گنجان علاقے میں واقع ہے انہوں نے کہا ’ہمارے ملک میں تو روایت ہے کہ جہاں دو لوگ اکھٹے ہوئے وہیں مجمع لگ گیا۔ یہاں بھی قریبی آبادی سے بڑی تعداد میں لوگ سیاسی وابستگی سے قطع نظر اور بچے محض تماشے کی خاطر وہاں جمع تھے‘۔

جلسہ گاہ ایک کھلا میدان تھا جس میں ہر کوئی بغیر کسی پوچھ گچھ کے آ جا سکتا تھا۔ اس کی کوئی چار دیواری نہیں تھی۔ عینی شاہدین کے مطابق سکیورٹی بھی زیادہ نہیں تھی اور کئی لاشوں کی شناخت نہ ہونے سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ یہ عام لوگ ہی ہوں گے۔

 ہمارے ملک میں تو روایت ہے کہ جہاں دو لوگ اکھٹے ہوئے وہیں مجمع لگ گیا۔ یہاں بھی قریبی آبادی سے بڑی تعداد میں لوگ سیاسی وابستگی سے قطع نظر اور بچے محض تماشے کی خاطر وہاں جمع تھے۔
ضلع ناظم چارسدہ

عام لوگوں کے علاوہ ہلاک و زخمیوں میں بڑی تعداد سرکاری اہلکاروں کی بھی تھی۔ اس دھماکے میں وزیر داخلہ کے ایک سیکرٹری اور تین پولیس سپاہی ہلاک جبکہ گریڈ بیس کے ایک افسر اور سرکاری میڈیا کے تین نمائندے زخمی بھی ہوئے۔

چارسدہ کے مقامی صحافیوں کو تو شاید سکیورٹی اہلکاروں نے دور رکھا ہوا تھا جس کی وجہ سے وہ محفوظ رہے تاہم سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے زخمی ہونے والے سینئر رپورٹر ایاز خان نے بتایا کہ وہ اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داری کی وجہ سے وزیر داخلہ کے قریب ہی تھے۔

انہوں نے بتایا ’دھماکے کے فورا بعد دو لاشیں مجھ پر آ گریں جس سے میں بھی گر پڑا اور بچ گیا۔ اگر میں کھڑا رہتا تو شاید زندہ نہ رہ پاتا‘۔ ایاز خان کو تو سینے اور ٹانگ پر معمولی زخم آئے تاہم پی آئی ڈی کے کیمرہ مین ارشد بابر شدید زخمی ہوئے اور وہ اب بھی ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔ پی آئی ڈی کے ہی ایک اور اہلکار نصیر خان بھی زخمیوں میں شامل ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد