’زیادہ تر مقامی لوگ ہی نشانہ بنے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چارسدہ خودکش حملے کے ہدف کے بارے میں تو شک کی کوئی گنجائش نہیں کہ یہ وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ ہی تھے لیکن اس حملے کی وجہ کیا تھی یہ پوری طرح سے واضح نہیں۔ اس حملے کی وجہ آفتاب شیرپاؤ جس حکومت کا حصہ ہیں اس کی متنازعہ پالیسیاں تھی یا ان کی اپنی سیاسی سوچ؟ لیکن ماضی کے ہر حملے کی طرح اس مرتبہ بھی ہلاک یا زخمی ہونے والے تمام افراد شاید آفتاب شیرپاؤ کی سیاست یا ان کی حکومت کی پالیسیوں کے حامی نہ ہوں۔ یہ عام مشاہدہ ہے کہ خودکش حملہ آور نے اپنے ہدف کے ساتھ ساتھ عام لوگوں کو بھی بڑی تعداد میں نقصان پہنچایا ہے اور اس مرتبہ بھی عینی شاہدین کے مطابق ہلاک و زخمی افراد میں بڑی تعداد اردگرد کے علاقے کے تجسس بھرے کم عمر لڑکے بھی تھے اور اپنی گلی یا نالی کی پختگی سے لے کر نوکری تک کے مسائل کی درخواستیں تھامے عام شہری بھی۔ ضلع ناظم چارسدہ نصیر محمد خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جلسہ گاہ سٹیشن کرونہ نامی گنجان علاقے میں واقع ہے انہوں نے کہا ’ہمارے ملک میں تو روایت ہے کہ جہاں دو لوگ اکھٹے ہوئے وہیں مجمع لگ گیا۔ یہاں بھی قریبی آبادی سے بڑی تعداد میں لوگ سیاسی وابستگی سے قطع نظر اور بچے محض تماشے کی خاطر وہاں جمع تھے‘۔ جلسہ گاہ ایک کھلا میدان تھا جس میں ہر کوئی بغیر کسی پوچھ گچھ کے آ جا سکتا تھا۔ اس کی کوئی چار دیواری نہیں تھی۔ عینی شاہدین کے مطابق سکیورٹی بھی زیادہ نہیں تھی اور کئی لاشوں کی شناخت نہ ہونے سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ یہ عام لوگ ہی ہوں گے۔ عام لوگوں کے علاوہ ہلاک و زخمیوں میں بڑی تعداد سرکاری اہلکاروں کی بھی تھی۔ اس دھماکے میں وزیر داخلہ کے ایک سیکرٹری اور تین پولیس سپاہی ہلاک جبکہ گریڈ بیس کے ایک افسر اور سرکاری میڈیا کے تین نمائندے زخمی بھی ہوئے۔ چارسدہ کے مقامی صحافیوں کو تو شاید سکیورٹی اہلکاروں نے دور رکھا ہوا تھا جس کی وجہ سے وہ محفوظ رہے تاہم سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے زخمی ہونے والے سینئر رپورٹر ایاز خان نے بتایا کہ وہ اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داری کی وجہ سے وزیر داخلہ کے قریب ہی تھے۔ انہوں نے بتایا ’دھماکے کے فورا بعد دو لاشیں مجھ پر آ گریں جس سے میں بھی گر پڑا اور بچ گیا۔ اگر میں کھڑا رہتا تو شاید زندہ نہ رہ پاتا‘۔ ایاز خان کو تو سینے اور ٹانگ پر معمولی زخم آئے تاہم پی آئی ڈی کے کیمرہ مین ارشد بابر شدید زخمی ہوئے اور وہ اب بھی ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔ پی آئی ڈی کے ہی ایک اور اہلکار نصیر خان بھی زخمیوں میں شامل ہیں۔ | اسی بارے میں شیرپاؤ پر حملہ: مرنے والے 28 ہو گئے29 April, 2007 | پاکستان ’ کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی‘ 28 April, 2007 | پاکستان ’حملہ آور شیرپاؤ کے قریب بڑھ رہا تھا‘28 April, 2007 | پاکستان چار ماہ میں آٹھ خودکش حملے28 April, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||