’سی جے ہاؤس سیاسی مرکزبن چکاہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جنرل پرویز مشرف کے وکیل نے جسٹس افتخار محمد چودھری کی طرف سے لگائے جانے والے ان الزام کو غلط قرار دیا ہے کہ جب انہوں نے استعفی دینے سے انکار کیا تو انہیں کئی گھنٹوں تک صدر ہاؤس میں حراست میں رکھا گیا تھا۔ سید شریف الدین پیرزادہ نے یہ مؤقف اپنے تحریری جواب میں اختیار کیا ہے جو بدھ کے روز سپریم کورٹ کے تیرہ رکنی بنچ کے سامنے سماعت شروع ہونے سے قبل پیش کیا گیا۔ بدھ کے روز جسٹس افتخار چودھری کی آئینی درخواستوں پر سماعت کے دوران سید شریف الدین پیرزادہ نے اپنے تحریری بیان پر مزید دلائل جاری رکھے۔ سپریم کورٹ میں بدھ کو سماعت کے دوران وقفے سے قبل صدر جنرل پرویز مشرف کے وکلاء اس نقطے پر دلائل دیتے رہے کہ جسٹس افتخار محمد چودھری کی آئینی درخواست قابلِ سماعت نہیں ہے اور انہیں مسترد کرکے سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کو بحال کر دیا جانا چاہیے۔ سید شریف الدین پیرزادہ نے مؤقف اختیار کیا کہ چیف جسٹس آف پاکستان بھی سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی سے مبرا نہیں ہیں اور ان کا معاملہ بھی اس کے سامنے پیش کیا جا سکتا ہے۔ صدر جنرل مشرف کے وکیل سید شریف الدین پیرزادہ نے جسٹس افتخار محمد چودھری کی آئینی درخواست میں لگائے گئے الزامات کے تحریری جواب میں کہا کہ جسٹس افتخار کا یہ الزام کہ صدر کی طرف سے انہیں استعفیٰ دینے پر مجبور کیا گیا تھا غلط ہے اور وہ واقعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں۔ جسٹس افتخار محمد چودھری نے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں الزام لگایا تھا کہ انہیں نو مارچ کو ساڑھے پانچ گھنٹے تک صدر ہاؤس میں حراست میں رکھا گیا اور انہیں وہاں سے اس وقت جانے دیا گیا جب قائم مقام چیف جسٹس نے حلف لے لیا تھا۔
صدر پرویز مشرف کے وکیل نے کہا کہ یہ الزام غلط ہے کہ جسٹس افتخار اور ان کے خاندان کی نقل و حرکت پر کوئی پابندی ہے بلکہ ’حقیقت تو یہ ہے کہ چیف جسٹس ہاؤس سیاسی مرکز بن چکا ہے‘۔ جواب میں کہا گیا ہے کہ اعتزاز احسن جسٹس افتخار کے خلاف کارروائی کو سیاسی تحریک میں بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ صدر کے وکیل کا کہنا تھا کہ جسٹس افتخار محمد چودھری سپریم جوڈیشل کونسل کے ممبران پر تعصب کا الزام لگا کر ہتک عزت کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ صدر مشرف کے وکیل نے کہا کہ حکومت نے جسٹس افتخار محمد چودھری کی ’جان بوجھ‘ کر ہتک نہیں کی ہے۔ شریف الدین پیرزادہ نے چیف جسٹس کے اس الزام کا جواب کہ جب وہ تیرہ مارچ کو سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے پیش ہونے کے لیے آ رہے تھے تو پولیس نے ان کے ساتھ بدسلوکی کی، یہ کہہ کر دینے سے انکار کر دیا کہ معاملہ عدالت کے سامنے ہے اس لیے وہ اس پر اپنی رائے نہیں دیں گے۔ صدر مشرف کے وکیل نے یہ بھی کہا ہے کہ حکومت کو جسٹس افتخار محمد چودھری کی طرف سے انسانی حقوق کے متعلق مقدموں کی شنوائی سے کوئی پریشانی نہیں تھی اور نہ انہیں سٹیل ملز کی نج کاری کے عمل کو روکنے کی وجہ سے ’معطل‘ کیا گیا۔ صدر جنرل مشرف کے وکیل کا موقف ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل ججوں کے احتساب کا ایک آئینی ادارہ ہے اور کوئی جج خواہ وہ چیف جسٹس ہی کیوں نہ، یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس کا معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے نہیں جا سکتا۔ شریف الدین پیرزادہ نے کہا کہ جسٹس افتخار چودھری کی درخواست میں کوئی اہم نوعیت کا معاملہ نہیں اٹھایا گیا ہے اور اس کو خارج کر دیا جانا چاہیے۔ |
اسی بارے میں ’کوریج میں احتیاط، میڈیا کو ہدایت‘14 March, 2007 | پاکستان جسٹس کیس: کب کیا ہوا؟05 May, 2007 | پاکستان فل کورٹ کی ہیئت کیا ہوسکتی ہے؟07 May, 2007 | پاکستان جوڈیشل کونسل کی کارروائی معطل07 May, 2007 | پاکستان نشریات کے تعطل پر واک آؤٹ08 May, 2007 | پاکستان پیمرا کا ’آج‘ ٹی وی کو نوٹس23 April, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||