BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 25 April, 2007, 04:37 GMT 09:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جسٹس کیس میں تاخیر پر تشویش
جسٹس سجاد علی شاہ
’فوج کو سیاست سے الگ ہونا چاہیے کیونکہ آئین میں اس کی ممانعت ہے‘
سپریم کورٹ آف پاکستان کے سابق چیف جسٹس سجاد علی شاہ نے ’جسٹس افتخار کیس‘ میں کسی نتیجہ پر پہنچنے میں بڑھتی ہوئی عدالتی تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ سب لوگوں کی نظریں اس کیس پر لگی ہوئی ہیں اور یہ ایک اہم نوعیت کا آئینی معاملہ ہے، جسے روزانہ سماعت کر کے بھی نمٹایا جا سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہر پیشی پر دونوں طرف سے طاقت کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور ہلڑ بازی ہوتی ہے، جو کوئی مناسب بات نہیں۔

بی بی سی اردو سروس کے ثقلین امام سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا ’ کبھی کبھی ایسی ایمرجنسی بھی ہوتی ہے کہ جج صاحبان دیر گئے تک کام کرتے رہتے ہیں‘۔

اس حکومتی الزام پر ان کی رائے معلوم کی گئی کہ حزب مخالف کی سیاسی جماعتیں اس معاملے سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہیں تو سابق چیف جسٹس آف پاکستان کا کہنا تھا کہ یہ حکومت ایک منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر وجود میں آئی تھی۔ ’انہوں نے وزیر اعظم کو نظر بند اور آئین کو معطل کر کے اقتدار سنبھالا‘۔

اقتدار پر قبضہ
 یہ حکومت ایک منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر وجود میں آئی تھی۔ انہوں نے وزیر اعظم کو نظر بند اور آئین کو معطل کر کے اقتدار سنبھالا
جسٹس سجاد علی شاہ

جسٹس سجاد علی شاہ کا کہنا تھا کہ ملک کے آئین میں لکھا ہوا ہے کہ فوج سیاست میں ملوث نہیں ہو سکتی۔ ’انہوں نے (فوج) سیاست سے دور رہنے کا حلف کیا ہوتا ہے ۔۔۔۔ اگر فوج کو منع ہے تو وہ کیسے دوسروں کو کہہ سکتی ہے کہ سیاست میں نہ آئیں‘۔

انہوں نے اس موضوع پر مزید بات کرتے ہوئے محمد علی جناح، گاندھی اور نہرو کی مثالیں دیتے ہوئے کہا ’ آپ وکالت کو سیاست سے الگ نہیں کر سکتے، لیکن فوج کو سیاست سے الگ ہونا چاہیے کیونکہ آئین میں اس کی ممانعت ہے‘۔

سپریم کورٹ اور سپریم جوڈیشل کونسل کے دائرہ کار کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دوسرا ادارہ پہلے ادارے کا حصہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جسٹس افتخار نے صدارتی ریفرنس، جبری چھٹی اور غیر فعال کیے جانے کے حوالے سے جو پٹیشن دائر کی ہے اس کے فیصلے تک سپریم کورٹ حکمِ امتناعی کے ذریعے سپریم جوڈیشل کونسل کو صدارتی ریفرنس کی مزید سماعت سے روک سکتی ہے۔

تاہم جسٹس سجاد علی شاہ کا کہنا تھا کہ حکمِ امتناعی سے صدارتی ریفرنس کی حیثیت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

داتو پرام کمارا سوامے جیورسٹس کمیشن
پاکستان میں عدلیہ کی آزادی پر تشویش
مزاحمت کی علامت
چیف جسٹس کا سپریم کورٹ میں نیا محاذ
احتجاجسیاسی میلے
وکلا کے جذبے میں کوئی کمی دکھائی نہیں آئی
جسٹس افتخار کیس
’غیر فعال‘ چیف جسٹس کیس میں کب کیا ہوا
سجاد علی شاہسابق چیف جسٹس
’عدلیہ کی ساکھ کو بڑا دھچکا لگا ہے‘
اسی بارے میں
سماعت ملتوی، صدر کو نوٹس
19 April, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد