احتجاج اور عدالتوں کا بائیکاٹ جاری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسلام آباد میں سپریم جوڈیشل کونسل میں چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف صدارتی ریفرنس کی سماعت کے موقع پر منگل کو اسلام آباد، کراچی، لاہور اور پشاور سمیت کئی شہروں میں مظاہرے کیے گئے ہیں۔ بی بی سی کے نامہ نگار ذوالفقار علی نے بتایا کہ صدارتی ریفرنس اور چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی درخواست کی سماعت کے موقع پر سپریم کورٹ کی عمارت کے باہر وکلاء اور حزبِ مخالف کی جماعتوں نے احتجاج کیا۔ حزبِ اختلاف کے کارکن اور وکلاء صبح آٹھ بجے سے ہی ٹولیوں کی شکل میں سپریم کورٹ کی عمارت کے سامنے جمع ہونا شروع ہوئے اور دوپہر تک آتے رہے۔ اس موقع پر پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی اور سپریم کورٹ جانے والے تمام راستے عام ٹریفک کے لیے بند کردیے گئے تھے۔ احتجاج میں وکلاء کے علاوہ متحدہ مجلس عمل کے حافظ حسین احمد، تحریک انصاف کے عمران خان اور متحدہ قومی موؤمنٹ کے کارکنان بھی شریک ہوئے۔ اے آر ڈی کی قیادت مخدوم امین فہیم اور راجہ ظفر الحق کر رہے تھے۔ اس موقع پر مخدوم امین فہیم نے کہا کہ احتجاج کے نتیجے میں پاکستان میں جمہوریت آئے گی اور آمریت کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہوگا۔
احتجاجی مظاہرے میں شامل ایک پابہ زنجیر شخص کے ہاتھ میں لالٹین جبکہ آنکھوں پر پٹی باندھی ہوئی تھی۔ ایک شخص نے ترازو اٹھایا ہوا تھا جس کے ایک پلڑے میں فوجی بوٹ اور دوسرے میں قانون کی کتاب تھی اور بوٹ والا پلڑا جھکا ہوا تھا۔ کچھ مظاہرین نے صدر جنرل پرویز مشرف کا پتلا اٹھا رکھا تھا جس کے گلے میں پھندا تھا۔ بعد میں انہوں نے پتلے کو علامتی طور پر پھانسی دی اورپھر اسے نذر آتش کردیا۔ اسی دوران شاہراہ دستور پر پارلیمنٹ لاجز کے قریب حکمران مسلم لیگ( ق) کے سربراہ چودھری شجاعت حسین نے صدر مشرف کے حق میں نکالی گئی ریلی کی قیادت کی جس میں وزیرِ اطلاعات محمد علی درانی، خوراک و زراعت کے وزیر سکندر حیات ،وزیر صحت نصیر خان ، وزیر بہبود آبادی چودھری شہباز حسین، انفارمیشن ٹیکنالوجی کے وزیر اویس لغاری، وزیر سرحدی امور یار محمد رند وزیر، وزیر مملکت پٹرولیم نصیر خان مینگل، مملکت برائے امور خارجہ خسرو بختیار، قومی تعمیرِ نو بیورو کے چئرمین دانیال عزیز، وزیر مملکت برائےخزانہ عمر ایوب خان ، پارلیمانی امور کے وزیر مملکت کامل علی آگاہ شریک ہوئے۔ مسلم لیگی کارکن مختلف شہروں سے ایک دن پہلے اسلام آباد پہنچائے گئے۔ لاہور میں بی بی سی کے نمائندے عبادالحق کے مطابق احتحاجی مظاہرے میں بڑی تعداد میں وکلاء، سیاسی جماعتوں کے کارکنوں اور سول سوسائٹی کی تنظیموں نے حصہ لیا۔ شرکاء میں پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) کے کارکن شامل تھے۔ مظاہرین نے اپنی اپنی جماعتوں کے جھنڈے اٹھا رکھے تھے اور وہ صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف ’گو مشرف گو‘ اور عدلیہ کی آزادی کے لیے ’ لے کے رہیں گے آزادی‘ اور ’عدلیہ کی آزادی تک جنگ جاری رہے گی‘ کے پرجوش نعرے لگا رہے تھے۔ لاہور میں دو احتجاجی جلوس نکالے گئے جن میں سے ایک ڈسٹرکٹ بار لاہور کے زیر اہتمام ایوان عدل سے ہائی کورٹ تک آیا۔ اس جلوس میں جی پی او چوک سے سیاسی کارکن بھی شامل ہوگئے۔
شرکاء نے بڑے جلوس کی شکل میں پنجاب اسمبلی تک مارچ کیا۔ جلوس پر راستے میں گل پاشی بھی کی گئی۔ جلوس سے لاہور ہائی کورٹ بار کے صدر احسن بھون اور ڈسٹرکٹ بار کے صدر سید محمد شاہ نے بھی خطاب کیا۔ وکلاء نے صدر مشرف کے پتلے پر لاٹھیاں برسائیں اور بعد میں پنجاب اسمبلی کے سامنے اس کو آگ لگا دی۔ جلوس کے شرکاء نے مال روڈ پر سینیٹر خالد رانجھا کے آفس کے سامنے ان کے خلاف نعری بازی کی۔ مال روڈ پر جلوس کے باجود دکانیں کھلی تھیں۔ جلوس کے شرکاء میں پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب کے سیکرٹری جنرل چودھری غلام عباس اور ایم پی اے عظمی بخاری، طلعت یعقوب اور ساجدہ بھی نمایاں تھیں جبکہ ہیومین رائٹس کمیشن کی چئیر پرسن عاصمہ جہانگیر بھی احتجاج میں شریک تھیں۔
کراچی سے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق سندھ میں عدالتی کارروائی کا مکمل بائیکاٹ کیا گیا اور وکلاء نے احتجاجی جلوس نکالے۔ سٹی کورٹس سے وکلاء نے ایک احتجاجی جلوس نکالا جس میں بعد میں ہائی کورٹ کے وکلاء بھی شامل ہوگئے۔ وکلاء نے ہاتھوں میں چھتریاں اٹھائی ہوئی تھیں جن پر چیف جسٹس کو بحال کرنے کے مطالبات درج تھے۔ جلوس جب پریس کلب پہنچا تو جماعت اسلامی، عوامی نیشنل پارٹی، تحریک انصاف، سندھ ترقی پسند پارٹی اور عورت فاؤنڈیشن کے کارکن بھی اس میں شامل ہوگئے۔ پریس کلب کے باہر جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن کے صدر ابرار الحسن نے حکمرانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وکلاء کی جدو جہد میں اب ملک کے باشعور عوام بھی شامل ہوگئے ہیں کیونکہ وہ عدلیہ کی آزادی چاہتے ہیں۔ بار کے ایک رکن ابوالاانعام کا کہنا تھا وکلاء کی جدو جہد نے عدلیہ کو بھی ہمت دی ہے اور انہوں نے بھی چیف جسٹس سے یکجہتی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اب عدلیہ بھی اپنے پیروں پر کھڑی ہونے کے قابل ہوچکی ہے۔ اندرون سندھ حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ، نواب شاھ اور میرپورخاص میں بھی وکلاء برادری نے احتجاج کیا ہے۔
پشاور سے بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق پشاور میں بھی وکلاء اور سیاسی کارکنوں نے احتجاجی مظاہرے کیے۔ صوبہ سرحد میں وکلاء نے عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کیا۔ منگل کی صبح میں پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اور سرحد بار کونسل نے بار روم میں مشترکہ اجلاس منعقد کیا۔ وکلاء نے ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر لطیف آفریدی کی قیادت میں ہائی کورٹ کے سامنے دھرنا بھی دیا اور نعرے بازی کی۔ چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس کی کاپیاں پھاڑیں گئیں۔ سیاسی پارٹیوں میں سےمسلم لیگ (ق) کے رہنماؤں امیر مقام اور نثار محمد خان کی قیادت میں مسلم لیگ سیکریٹریٹ سے جلوس نکالا اور ’سیاسی جج نہیں مانتے‘ کے نعرے لگائے۔ پیپلز یوتھ آرگنائزیشن نے بھی پشاور پریس کلب کے سامنے مظاہرہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اسلام آباد جا کر احتجاج میں شامل ہونا چاہتے تھے لیکن ان کو اٹک کے پاس روک لیا گیا۔ کوئٹہ سے نامہ نگار عزیزاللہ خان نے بتایا کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی معطلی کے خلاف وکلا ء اور سیاسی جماعتوں نے علیحدہ علیحدہ مظاہرے کیے۔ جسٹس افتخار محمد چودھری سے اظہارِ یکجہتی کے لیے وکلاء کی ریلی ضلع کچہری سے نکلی جو عدالت روڈ، کندھاری بازار اور میزان چوک سے ہوتی ہوئی منان چوک پر پہنچی جہاں وکلاء نے سخت نعرہ بازی کی۔ تحریکِ انصاف اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں نے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے منگل کو پہلی بار حکمران مسلم لیگ سے وابستہ وکلاء نے صدر پرویز مشرف کی حمایت میں اخباری کانفرنس سے خطاب کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وکلاء تنظیموں کو اِن مظاہروں میں شرکت نہیں کرنی چاہیے کیونکہ صدارتی ریفرنس عین آئین کے مطابق ہے۔ |
اسی بارے میں کونسل سماعت، ملک گیر احتجاج18 April, 2007 | پاکستان پاکستان بھر میں وکلاء کا احتجاج13 March, 2007 | پاکستان ملک بھر میں وکلاء کا احتجاج، ہڑتال12 March, 2007 | پاکستان وکلا کا احتجاج اور بائیکاٹ12 March, 2007 | پاکستان پاکستان بھر میں احتجاج جاری19 March, 2007 | پاکستان ریفرنس پر سماعت دو مئی تک ملتوی24 April, 2007 | پاکستان جسٹس سردار محمد رضا کا انکار24 April, 2007 | پاکستان ملک گیر احتجاج، پر امن مظاہرے26 March, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||