اسلام آباد: سٹیج تیار، انتظام مکمل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دارالحکومت اسلام آباد میں پارلیمان کے سامنے سنیچر کو حکمران مسلم لیگ کی جانب سے صدر جنرل پرویز مشرف کی حمایت میں ہونے والے جلسے کا سٹیج سج چکا ہے اور لوگوں کی آمد شروع ہوگئی ہے۔ ڈیڑھ درجن سے زائد کنٹینرز رکھ کر سٹیج تیار کیا گیا ہے ہر طرف صدر جنرل پرویز مشرف، قائد اعظم، چودھری شجاعت حسین اور پرویز الہیٰ کی دیو قامت تصاویر، بینر اور پرچم لگے ہیں۔ سکیورٹی کے انتظامات انتہائی سخت ہیں اور جلسہ گاہ میں داخلہ کے لیے سکینرز لگائے گئے ہیں۔ انٹیلیجنس اور سپیشل برانچ کی بیسیوں اہلکاروں کے ساتھ ساتھ اسلام آباد اور راولپنڈی پولیس کے اہلکار تعینات ہیں جبکہ رینجرز کے دستے گشت کر رہے ہیں۔ کیپیٹل ڈیولپمینٹ اتھارٹی یعنی ’سی ڈی اے‘ کی گاڑیوں پر مسلم لیگ کے پرچم لگے ہیں۔ حکومتی انتظام میں رفع حاجت کے لیے عارضی باتھ روم قائم کیے گئے ہیں جہاں سرکاری وردی پہنے خاکروبوں کو تعینات کیا گیا ہے۔ جلسہ گاہ میں سی ڈی اے کے ملازمین اور گاڑیوں کی موجودگی سرکاری وسائل استعمال نہ کرنے کے حکومتی دعوے کی نفی کر رہی ہے۔ پریڈ گراؤنڈ کی دونوں اطراف پینے کے پانی سبیلیں لگائی گئی ہیں جبکہ قناتیں لگا کر کیمپ بھی قائم کیے ہیں۔ جہاں صدر مشرف اور دیگر رہنماؤں کی تصاویر والے کتبوں کے ڈھیر لگے ہیں۔ اسلام آباد میں واقع مسلم لیگ ہاؤس کے سامنے دوپہر تک بیس کے قریب گاڑیاں اور چند درجن مسلم لیگی کارکن کھڑے نظر آئے۔
مسلم لیگ کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف کی حمایت میں پنجاب اور صوبہ سرحد کے بعض شہروں سے جلوس اسلام آباد کے لیے روانہ ہوچکے ہیں۔ اسلام آباد سے آنے والی اطلاعات کے مطابق جسٹس افتخار محمد چودھری اسلام آباد سے پی آئی اے کی پرواز PK-301 میں اپنے وکیل اعتزاز احسن کے ہمراہ کراچی کے لیے روانہ ہوئے تھے۔ اس سے پہلے کراچی جانے والی ایک اور پرواز جس میں راولپنڈی اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے وکلاء نے کراچی جانا تھا منسوخ کردی گئی اور یہ خدشہ پیدا ہو چلا تھا کہ کہیں چیف جسٹس کی پرواز کا شیڈول بھی متاثرنہ ہو جائے۔ لاہور سے بی بی سی کے نامہ نگار علی سلمان کے مطابق پنجاب کے مختلف شہروں سے حکمران مسلم لیگ کے قافلے اسلام آباد کے لیے روانہ ہوگئے ہیں جہاں ایک بڑی ریلی منعقد کی جارہی ہے۔ ایک ہزار سے زائد گاڑیوں کا ایک قافلہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے صاحبزادے مونس الہی کی قیادت میں پاکستانی وقت کےمطابق صبح پونے گیارہ بجے لاہور کے ٹھوکر نیاز بیگ چوک سے روانہ ہوا۔ قافلہ میں لوگ بڑی تعداد شریک تو تھے لیکن اس جوش و جذبے سے عاری محسوس ہوتے تھے جو چیف جسٹس کی ریلیوں کے شرکاءمیں پایا جاتا ہے۔ گاڑیوں پر حکمران مسلم لیگ کے جھنڈے اور صدرپرویز مشرف اور وزیر اعلیٰ چودھری پرویز الہیٰ کی تصاویر لگی تھیں۔
قافلے کے منتظمین نے اس بات کا خاص خیال رکھا تھا کہ بسیں اور ویگنیں خالی نہ جائیں ٹھوکر نیاز بیگ پر حکمران مسلم لیگ کا ایک کیمپ لگا تھا جس میں حاضری لگائی جاتی رہی ہر بس کاایک منتظم تھا جو بس کے شرکاء کی فہرست کیمپ میں دکھاتا اور کیمپ منتظمین میں سے کوئی ایک بس میں جھانک کر تعدادکا سرسری جائزہ لے لیتا۔ٹھوکر نیاز بیگ چوک پر بسوں کے شرکاء کو کھانے کے ڈبے ان کی حاضری کے مطابق فراہم کردیے گئے۔ مونس الہیٰ کے پاس حکمران مسلم لیگ کا کوئی عہدہ نہیں ہے لیکن عملی طور پر لاہورمیں سیاسی محاذ وہ ہی سنبھالےہوئے ہیں۔ وہ اپنی گاڑی میں جلوس کی قیادت کرتے ہوئے روانہ ہوئے تو ان کےہمراہ صوبائی وزیر عبدالعلیم خان، ضلعی ناظم میاں عامر محمود اورمیاں منیر بھی تھے۔ جلوس کے شرکاءکو بتایا گیا تھا کہ ٹول پلازہ پر خصوصی کیمرے لگائے گئے ہیں تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ کس کی بس میں کتنے لوگ تھے۔ اس جلوس کے لیے بسوں کی پکڑ دھکڑ دوروز سے جاری تھی اور لاہور کے قذافی سٹیڈیم اور مینار پاکستان کی گڈی گراؤنڈ میں انہیں اکٹھا کیا جاتا رہا۔ گاڑیوں کے مالکان کے مطابق انہیں فی گاڑی دو ہزار روپے دینے کا وعدہ کیا گیا ہے جس میں سے نصف ایڈوانس دیاگیا ہے۔ شرکاء کو اکٹھا کرنے اور ان کےلیے کھانے اور گاڑیوں کا انتظام کرنے کے لیے صوبہ بھر کے بلدیاتی نمائندوں کو ہدایت کی گئی تھی لیکن حکمران مسلم لیگ نے کہا ہے کہ اس ریلی کے اخراجات خود مسلم لیگی عہدیدار برداشت کریں گے۔
گوجرانوالہ میں مقامی انتظامیہ نے بسیں اور ویگنیں پکڑ کر گوجرانوالہ کے مسلم لیگی عہدیداروں اور وزراء کے گھروں تک پہنچا دی تھیں جو سنیچر کی صبح اسلام آباد کی جانب روانہ ہوگئیں۔ جنوبی اور پنجاب کے دیگر حصوں سے بھی بسیں لاہور اکٹھی ہوئی تھیں۔ ملتان سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق کوئی اسُی بسوں کا ایک قافلہ کل رات لاہور روانہ ہوا تھا جس نے ناشتہ لاہور کرنے کے بعد پروگرام کے مطابق لنچ اسلام آباد کے راستے میں کرنا تھا۔ اطلاعات کے مطابق پنجاب کے مختلف شہروں سے بعض قافلے براہ راست اسلام آباد بھی گئے ہیں۔ منڈی بہاءالدین، وزیر آباد اور ارد گرد کے شہروں سے قافلے گجرات اکٹھےہوئے تھے اور چودھری وجاہت حسین کی سربراہی میں اسلام آباد کی جانب روانہ ہوگئے۔ فیصل آباد، اوکاڑہ اور قصور سے بھی قافلوں کی روانگی کی اطلاعات ملی ہیں۔ |
اسی بارے میں ہمارے رپورٹرز سے: لمحہ بہ لمحہ12 May, 2007 | پاکستان صدر کے جلسے کی تیاریاں مکمل12 May, 2007 | پاکستان کراچی: جسٹس افتخار اسلام آباد روانہ، 30 ہلاک12 May, 2007 | پاکستان کراچی: کشیدگی، ہلاکتیں، گرفتاریاں11 May, 2007 | پاکستان لاہور بار: سات وکلا کی رکنیت ختم11 May, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||