BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 17 May, 2007, 09:22 GMT 14:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مشرف ایم کیوایم روابط پر شک تھا‘

بےنظیر بھٹو کی سوانح عمری
بےنظیر بھٹو کی سوانح عمری پہلی دفعہ 1988 میں شائع ہوئی تھی
پاکستان کی سابق وزیراعظم بےنظیر بھٹو نے اپنی سوانح عمری ’ ڈاٹر آف دی ایسٹ‘ یعنی دخترِ مشرق کے حال ہی میں شائع ہونے والے اضافہ شدہ ایڈیشن میں لکھا ہے کہ انہوں نے اپنے دور میں ایک دفعہ پرویز مشرف کو اس بنیاد پر ترقی نہیں دی تھی کہ ان کے لسانی تنظیم مہاجر قومی موومنٹ سے مبینہ روابط ہیں۔

بےنظیر لکھتی ہیں کہ اگرچہ اس حوالے سے کوئی ثبوت تو نہیں تھے لیکن شک کیا جاتا تھا کہ مشرف کا اس لسانی اور اکثر اوقات تشدد پر یقین رکھنے والی تنظیم سے رابطہ ہے۔ ’میں نے انہیں اپنا ملٹری سیکرٹری بنانے سے بھی انکار کر دیا تھا‘۔

ڈاٹر آف دی ایسٹ پہلی دفعہ 1988 میں شائع ہوئی تھی اور تب اس میں بےنظیر بھٹو نے اپنے وزیراعظم بننے سے پہلے کے حالات زندگی تحریر کیے تھے۔ نئے ایڈیشن میں انہوں نے ’پرائم منسٹر اینڈ بیانڈ‘ کے عنوان کے تحت ایک باب کا اضافہ کیا ہے، جس میں گزشتہ انیس سالوں کا احاطہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

بےنظیر بھٹو اور پاکستان کے فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف کے درمیان ’ڈیل‘ کی افواہیں ان دنوں عام ہیں اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ دوبارہ وزیراعظم بننے کے لیے امریکی آشیرباد کی طلبگار ہیں۔

لیکن اپنی سوانح عمری کے آخری باب میں جس طرح انہوں نے پاکستان کو درپیش مسائل و مشکلات کا تجزیہ کرتے ہوئے پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ اور امریکہ خصوصاً سی آئی اے کو ہدف تنقید بنایا ہے اس سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ انہوں نے کم از کم لکھتے ہوئے کسی ’دانشوارانہ بے ایمانی‘ کا مظاہر نہیں کیا۔

پاکستان واپسی
 مجھے گرفتار بھی کیا جا سکتا ہے، فلپائن کے بینِگنو اکینو کے 1983 میں قتل کی طرح مجھے بھی ایئرپورٹ پر اترتے ہی مارا جا سکتا ہے

نئے ایڈیشن کے پیش لفظ اور پھر اضافہ شدہ باب میں بے نظیر بھٹو نے اس سال پاکستان واپس جانے کے مضبوط ارادے کا اظہار کیا ہے۔ ’مجھے گرفتار بھی کیا جا سکتا ہے، فلپائن کے بینِگنو اکینو کے 1983 میں قتل کی طرح مجھے بھی ایئرپورٹ پر اترتے ہی مارا جا سکتا ہے ۔۔۔۔ القاعدہ نے مجھے قتل کرنے کی پہلے بھی کئی کوششیں کی ہیں‘۔

بےنظیر کا کہنا ہے کہ القاعدہ کے خالد شیخ محمد کے (جنہوں نے حال ہی میں گوانتانامو بے میں امریکی حراست کے دوران صحافی ڈینیئل پرل کے قتل کا مبینہ طور پر اعتراف کیا ہے) بھتیجے رمزی یوسف نے انہیں مارنے کی دو ناکام کوششیں کیں اور 1995 میں جب اسے اسلام آباد سے گرفتار کیا گیا تو اس کے پاس سے ایسے منصوبے برآمد ہوئے جن کے تحت امریکی مسافر جہازوں کو ہائی جیک کر کے دہشت گرد حملوں میں استعمال کیا جانا تھا۔

وہ لکھتی ہیں کہ گیارہ ستمبر 2001 کے واقعات سے وہ دکھی ضرور ہوئی تھیں لیکن انہیں وہ سب دیکھ کر کوئی تعجب نہیں ہوا تھا۔ ’مجھے بس یہ حیرانی ہوئی تھی کہ وہ عملی طور ایسا کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں‘۔

بےنظیر کے مطابق جون 1989 میں بطور وزیراعظم اپنے دورۂ امریکہ کے دوران انہوں نے صدر بش (سینئر) سے کہا: ’افغانستان میں سوویت یونین کو شکست سے دوچار کرنے کے جوش میں ہم (امریکہ اور پاکستان) ایک ایسی بلا تخلیق کر بیٹھے ہیں جو آئندہ ہمارا پیچھا کرتی رہے گی‘۔

بےنظیر لکھتی ہیں کہ سپر پاور سوویت یونین کی ہار اور نتیجتاً اس کی شکست و ریخت نے انتہا پسندوں کو مخمور کر دیا اور انہوں نے سوچنا شروع کر دیا کے وہ اب مغرب کو بھی سبق سکھا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستانی جرنیل بھی اسی سرمستی میں یہ بھول گئے کہ سوویت یونین کی شکست کے پیچھے صرف جہادی عناصر نہیں بلکہ امریکی سٹنگر میزائیل، بین الاقوامی مالی مدد، سفارتکاری اور سیاست کا بھی اہم کردار تھا۔

غالباً اسی خمار میں پاکستانی فوجی منصوبہ سازوں نے افغانستان کے ساتھ کنفیڈریشن قائم کرنے اور سری نگر پر پاکستانی جھنڈا لہرانے کے منصوبے بنائے، جنہیں بےنظیر بھٹو نے مسترد کیا۔

انتہاپسندی کا آفریت
 افغانستان میں سوویت یونین کو شکست سے دوچار کرنے کے جوش میں ہم (امریکہ اور پاکستان) ایک ایسی بلا تخلیق کر بیٹھے ہیں جو آئندہ ہمارا پیچھا کرتی رہے گی

بےنظیر لکھتی ہیں کہ آئی ایس آئی اور سی آئی اے کے اتحاد نے جہاں مجاہدین کو جدید ہتھیار اور ٹیکنالوجی فراہم کی وہیں پاکستان کے پرامن معاشرے میں تشدد، کلاشنکوف، ہیروئن اور انتہا پسند اسلام بھی متعارف کرایا۔

بےنظیر کے خیال میں مغربی انٹیلیجنس ادارے پاکستان میں ان کی نسبت جرنیلوں کے ساتھ زیادہ بہتر محسوس کرتے ہیں۔ ’مغرب پاکستانی فوجی آمروں کی اس وقت تک حمایت کرتا رہتا جب تک وہ علاقے میں اس کے سیاسی مقاصد کو پورا کرتے رہتے ہیں‘۔

بے نظیر کہتی ہیں کہ وہ انتہائی دکھ کے ساتھ دیکھ رہی ہیں کہ امریکہ ایک اور فوجی آمر پرویز مشرف کے ساتھ تعلق میں اپنی ضیاء والی غلطی دہرا رہا ہے۔ ’پاکستانی آمر کبھی کبھار دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کی حمایت میں کوئی اقدام کر کے مغرب کے ساتھ فلرٹ کر رہا ہے، نتیجتاً امریکہ اور برطانیہ اس کی پشت پر ہیں اور دوسری طرف پاکستان کے قبائلی علاقوں میں طالبان دوبارہ منظم ہو کر افغانستان میں نیٹو افواج پر حملے کر رہے ہیں‘۔

آگے جا کر بےنظیر لکھتی ہیں ’مجھے حیرانی نہیں ہوتی جب دہشت گردی کے ہر واقعہ کا سرا پاکستان سے جا ملتا ہے، ہم کیوں حیران ہوں؟ فوجی حکمرانوں نے ہمیشہ انتہا پسندی کو پروان چھڑایا، اسے مضبوط کیا اور استعمال کیا‘۔

مشرفجوابی خودکش حملے
’مشرف کے لیے حکمت عملی پر نظرثانی کا وقت‘
جنرل مشرف’جہاد پر اختیار‘
جہاد صرف حکومت ہی کر سکتی ہے: جنرل مشرف
بے نظیر’عدالتی بحران‘
حالات قابو سے باہر ہو سکتے ہیں: بے نظیر بھٹو
صدر پرویز مشرفمشرف اور 2007
سن 2007 کے انتخابات اور صدر کے حربے؟
بے نظیر’ملک کو حقیر کیا‘
بینظیر کے مطابق مشرف نےملک کو حقیر کیا ہے
جہادی اور پاک فوج
پاکستانی فوج اور جہادیوں کا اتحاد و اختلاف؟
بے نظیر بھٹوبےنظیر کا دورۂ بھارت
سابق وزیرِ اعظم بے نظیر بھٹو پھر بھارت جا رہی ہیں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد