’مشرف ایم کیوایم روابط پر شک تھا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی سابق وزیراعظم بےنظیر بھٹو نے اپنی سوانح عمری ’ ڈاٹر آف دی ایسٹ‘ یعنی دخترِ مشرق کے حال ہی میں شائع ہونے والے اضافہ شدہ ایڈیشن میں لکھا ہے کہ انہوں نے اپنے دور میں ایک دفعہ پرویز مشرف کو اس بنیاد پر ترقی نہیں دی تھی کہ ان کے لسانی تنظیم مہاجر قومی موومنٹ سے مبینہ روابط ہیں۔ بےنظیر لکھتی ہیں کہ اگرچہ اس حوالے سے کوئی ثبوت تو نہیں تھے لیکن شک کیا جاتا تھا کہ مشرف کا اس لسانی اور اکثر اوقات تشدد پر یقین رکھنے والی تنظیم سے رابطہ ہے۔ ’میں نے انہیں اپنا ملٹری سیکرٹری بنانے سے بھی انکار کر دیا تھا‘۔ ڈاٹر آف دی ایسٹ پہلی دفعہ 1988 میں شائع ہوئی تھی اور تب اس میں بےنظیر بھٹو نے اپنے وزیراعظم بننے سے پہلے کے حالات زندگی تحریر کیے تھے۔ نئے ایڈیشن میں انہوں نے ’پرائم منسٹر اینڈ بیانڈ‘ کے عنوان کے تحت ایک باب کا اضافہ کیا ہے، جس میں گزشتہ انیس سالوں کا احاطہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ بےنظیر بھٹو اور پاکستان کے فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف کے درمیان ’ڈیل‘ کی افواہیں ان دنوں عام ہیں اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ دوبارہ وزیراعظم بننے کے لیے امریکی آشیرباد کی طلبگار ہیں۔ لیکن اپنی سوانح عمری کے آخری باب میں جس طرح انہوں نے پاکستان کو درپیش مسائل و مشکلات کا تجزیہ کرتے ہوئے پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ اور امریکہ خصوصاً سی آئی اے کو ہدف تنقید بنایا ہے اس سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ انہوں نے کم از کم لکھتے ہوئے کسی ’دانشوارانہ بے ایمانی‘ کا مظاہر نہیں کیا۔
نئے ایڈیشن کے پیش لفظ اور پھر اضافہ شدہ باب میں بے نظیر بھٹو نے اس سال پاکستان واپس جانے کے مضبوط ارادے کا اظہار کیا ہے۔ ’مجھے گرفتار بھی کیا جا سکتا ہے، فلپائن کے بینِگنو اکینو کے 1983 میں قتل کی طرح مجھے بھی ایئرپورٹ پر اترتے ہی مارا جا سکتا ہے ۔۔۔۔ القاعدہ نے مجھے قتل کرنے کی پہلے بھی کئی کوششیں کی ہیں‘۔ بےنظیر کا کہنا ہے کہ القاعدہ کے خالد شیخ محمد کے (جنہوں نے حال ہی میں گوانتانامو بے میں امریکی حراست کے دوران صحافی ڈینیئل پرل کے قتل کا مبینہ طور پر اعتراف کیا ہے) بھتیجے رمزی یوسف نے انہیں مارنے کی دو ناکام کوششیں کیں اور 1995 میں جب اسے اسلام آباد سے گرفتار کیا گیا تو اس کے پاس سے ایسے منصوبے برآمد ہوئے جن کے تحت امریکی مسافر جہازوں کو ہائی جیک کر کے دہشت گرد حملوں میں استعمال کیا جانا تھا۔ وہ لکھتی ہیں کہ گیارہ ستمبر 2001 کے واقعات سے وہ دکھی ضرور ہوئی تھیں لیکن انہیں وہ سب دیکھ کر کوئی تعجب نہیں ہوا تھا۔ ’مجھے بس یہ حیرانی ہوئی تھی کہ وہ عملی طور ایسا کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں‘۔ بےنظیر کے مطابق جون 1989 میں بطور وزیراعظم اپنے دورۂ امریکہ کے دوران انہوں نے صدر بش (سینئر) سے کہا: ’افغانستان میں سوویت یونین کو شکست سے دوچار کرنے کے جوش میں ہم (امریکہ اور پاکستان) ایک ایسی بلا تخلیق کر بیٹھے ہیں جو آئندہ ہمارا پیچھا کرتی رہے گی‘۔ بےنظیر لکھتی ہیں کہ سپر پاور سوویت یونین کی ہار اور نتیجتاً اس کی شکست و ریخت نے انتہا پسندوں کو مخمور کر دیا اور انہوں نے سوچنا شروع کر دیا کے وہ اب مغرب کو بھی سبق سکھا سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستانی جرنیل بھی اسی سرمستی میں یہ بھول گئے کہ سوویت یونین کی شکست کے پیچھے صرف جہادی عناصر نہیں بلکہ امریکی سٹنگر میزائیل، بین الاقوامی مالی مدد، سفارتکاری اور سیاست کا بھی اہم کردار تھا۔ غالباً اسی خمار میں پاکستانی فوجی منصوبہ سازوں نے افغانستان کے ساتھ کنفیڈریشن قائم کرنے اور سری نگر پر پاکستانی جھنڈا لہرانے کے منصوبے بنائے، جنہیں بےنظیر بھٹو نے مسترد کیا۔
بےنظیر لکھتی ہیں کہ آئی ایس آئی اور سی آئی اے کے اتحاد نے جہاں مجاہدین کو جدید ہتھیار اور ٹیکنالوجی فراہم کی وہیں پاکستان کے پرامن معاشرے میں تشدد، کلاشنکوف، ہیروئن اور انتہا پسند اسلام بھی متعارف کرایا۔ بےنظیر کے خیال میں مغربی انٹیلیجنس ادارے پاکستان میں ان کی نسبت جرنیلوں کے ساتھ زیادہ بہتر محسوس کرتے ہیں۔ ’مغرب پاکستانی فوجی آمروں کی اس وقت تک حمایت کرتا رہتا جب تک وہ علاقے میں اس کے سیاسی مقاصد کو پورا کرتے رہتے ہیں‘۔ بے نظیر کہتی ہیں کہ وہ انتہائی دکھ کے ساتھ دیکھ رہی ہیں کہ امریکہ ایک اور فوجی آمر پرویز مشرف کے ساتھ تعلق میں اپنی ضیاء والی غلطی دہرا رہا ہے۔ ’پاکستانی آمر کبھی کبھار دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کی حمایت میں کوئی اقدام کر کے مغرب کے ساتھ فلرٹ کر رہا ہے، نتیجتاً امریکہ اور برطانیہ اس کی پشت پر ہیں اور دوسری طرف پاکستان کے قبائلی علاقوں میں طالبان دوبارہ منظم ہو کر افغانستان میں نیٹو افواج پر حملے کر رہے ہیں‘۔ آگے جا کر بےنظیر لکھتی ہیں ’مجھے حیرانی نہیں ہوتی جب دہشت گردی کے ہر واقعہ کا سرا پاکستان سے جا ملتا ہے، ہم کیوں حیران ہوں؟ فوجی حکمرانوں نے ہمیشہ انتہا پسندی کو پروان چھڑایا، اسے مضبوط کیا اور استعمال کیا‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||