اتحادی اور فوج: اتحاد تا اختلاف | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بی بی سی کو ایسی شہادتیں ملی ہیں جو یہ ظاہر کرتی ہیں کہ پاکستان کی آرمی اور شدت پسندوں کا آپس میں کتنا قریبی تعلق تھا اور اسی تعلق کی وجہ پرویز مشرف پر پانچ قاتلانہ حملے ہوئے۔ اٹک قلعے میں قائم کی گئی جس فوجی عدالت صدر پرویز مشرف پر قاتلانہ حملے کے الزام میں جن نو افراد پر مقدمہ چلایا جا رہا ہے ان میں ایک فوجی کمانڈو بھی شامل ہے۔ بند کمرے میں ہونے والی اس مقدمے کی سماعت میں ایسی شہادتیں سامنے آئی ہیں جن کے مطابق 25 دسمبر 2003 سے پرویز مشرف پر ہونے والے حملوں میں عمر سعید شیخ کا کتنا ہاتھ تھا۔ پرویز مشرف پر حملے کی تحقیق کرنے والوں کے سامنے ایک نام بار بار آیا اور وہ تھا برطانیہ میں پیدا ہونے والے شدت پسند عمرسعید شیخ کا جو امریکی صحافی ڈینیل پرل کے قتل کے الزام میں جیل میں ہے۔ عمر سعید شیخ صدر مشرف پر قاتلانہ حملے کے ملزموں میں شامل نہیں ہے کیونکہ قاتلانہ حملے کے وقت وہ جیل میں تھا۔ صدر مشرف پر حملہ کرنے والے کے کورٹ مارشل کے دوران ایسے شواہد سامنے آئے ہیں جن کے مطابق عمر سعید شیخ نے پاکستان کی فوج میں گھس کر اپنے رابطے بنائے اور فوجیوں کو اپنےگروہ میں شامل کیا۔ عمر سعید شیخ نے فوجیوں کو قائل کیا کہ پاکستان کے فوجی ہونے سے پہلے اللہ کے فوجی ہیں اور انہیں اس کی راہ میں جہاد کرنا چاہیے۔
فوجی عدالت کو بتایا گیا ہے کہ عمر شیخ تبلیغ کے بہانے اکثر فوجی گیریژنوں میں جاتے رہتے تھے اور اس طرح وہ دو فوجی کمانڈوز کو اپنے گروپ میں شامل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ دو فوجی کمانڈوز میں نائیک ارشد محمود ان نو لوگوں میں شامل ہے جن کا اٹک میں کورٹ مارشل ہو رہا ہے جبکہ دوسرا فوجی کمانڈو ظفر اقبال ڈوگر استغاثہ کے گواہ کے طور پر عدالت کے سامنے ہیں۔ ظفر اقبال ڈوگر نے عدالت کو بتایا ہے کہ عمر سعید شیخ نے صدر پرویز مشرف پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی۔ ظفر اقبال ڈوگر نے عدالت کو بتایا کہ وہ پہلی دفعہ عمر سعید شیخ سے 2001 میں اس وقت ملا تھا جب وہ ایک فوجی گیریژن میں تبلیغ کرنے کی عرض سے آیا ہوا تھا۔ ظفر اقبال ڈوگر نے عدالت کو بتایا کہ 2001 میں افغانستان پر امریکی حملے کے بعد عمر شیخ اور ان فوجی کمانڈوز کی کئی دفعہ ملاقاتیں ہوئیں۔ ظفر اقبال ڈوگر نے بتایا کہ صدر مشرف کو قتل کرنے کی شازش کے لیے پہلی میٹنگ عمر سعید شیخ نے طلب کی جس میں پچیس کے قریب شدت پسندوں نے شرکت کی۔ اس میٹنگ میں عمر شیخ نے لوگوں سے حلف لیا کہ وہ امریکہ اور اس کے حواریوں بشمول صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف جہدوجہد کریں گے۔ ان شدت پسندوں میں کئی ایسے تھے جن کو پاکستان کے سکیورٹی اداروں نے تربیت دی اور جو کشمیر میں بھارت کے خلاف لڑ تے رہے تھے۔ پاکستان کے حکام کے کو یہ سمجھنے میں کافی دیر لگی کہ انہیں کے تربیت یافتہ لوگوں نے اب اپنی بندوقوں کا رخ اپنے آقاؤں پر کر لیا ہے۔ کئی مبصرین کا خیال ہے کہ صدر مشرف پر چھ قاتلانہ حملوں کے بعد پاکستان فوج کے اعلی عہدیدار اس نتیجے پر پہنچے کہ شدت پسند ہاتھ سے نکلتے جا رہے ہیں اور ان کے خلاف کارروائی کا وقت آ گیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||