| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
مشرف پر حملہ اور پولیس چھاپے
صدر پرویز مشرف پر قاتلانہ حملے کے شبہ میں سبزہ زار لاہور سے گرفتار ہونے والے تمام دس افراد بے گناہ قرار دے کر چھوڑ دیے گئے ہیں ۔لیکن پولیس کا یہ آپریشن کئی سوالات چھوڑ گیا ہے۔ اس روز پولیس کی کارروائی کے بارے میں مدرسوں کے منتظمین کا کہنا ہے ’انہیں یوں محسوس ہو رہا تھا کہ وہ کشمیر میں ہیں اور بھارتی فوج نے ان پر دھاوا بول دیا ہے‘۔ یہ دس جنوری کی شام کی بات ہے، دارالعلوم مدنیہ المسلمات کی طالبات پڑھ کر واپس جا رہی تھیں جب اچانک پولیس کی درجنوں گاڑیوں اور سینکڑوں اہلکاروں نے انہیں گھیرے میں لے لیا۔ کھٹ کھٹ کی سہما دینے والی آوازوں کے ساتھ متعدد اہلکاروں نے اپنی رائفلیں بولٹ چڑھاکر طالبات پر تان لیں۔ بلٹ پروف جیکٹوں میں ملبوس پولیس کمانڈوز نے لڑکیوں سے نقاب ہٹا کر چہرہ دکھانے کا مطالبہ کیااورساتھ ہی یہ وضاحت بھی کی کہ انہیں شبہ ہے کہ برقعہ میں ان کا مطلوب دہشت گرد ہو سکتا ہے۔ طالبات اور ان کی استانی نے پولیس کا مطالبہ ماننے سے انکار کردیا اور تجویز پیش کی کہ وہ باری باری ان کے نام پوچھ لیں تو آواز سے پہچان ہوجاۓ گی۔ لیکن پولیس کے اہلکار نہیں مانے اور انہیں واپس مدرسہ میں لے گئے جہاں موجود تیس طالبات اور ان کی استانیاں کئی گھنٹے بندوق کی نوک پر ان کی حراست میں رہیں۔ اس دوران پولیس اہلکار لڑکیوں کے ہاسٹل کے کمروں کے تالے توڑتے، ان کے سامان کی تلاشی لیتے رہے۔ بعدازاں وائر لیس پیغامات کے ذریعے لیڈیز پولیس بلائی گئی اور جامہ تلاشی کے بعد پولیس کو اطمینان ہو گیا کہ برقعہ میں کوئی دہشت گرد نہیں ہے۔ اس رات لاہور میں سبزہ زار خواتین کے اس مدرسہ کے ساتھ واقع ’ باقیات الشہداء‘ نامی ایک مدرسہ پر بھی چھاپہ مارا گیاتھا۔
مدرسہ کے بچے قاعدہ سامنے رکھے اونچی آواز میں سبق پڑھ رہے تھے۔ ان کے استاد نے بتایا ’جب ہمسائے کے گھر کی چھت پھلانگ کر اچانک پولیس ان کے مدرسے میں داخل ہوئی تو بچے سخت خوفزدہ ہوگئے تھے۔ لیکن ان بچوں سے زیادہ پولیس خود اس وقت خوفزدہ ہو گئی جب پولیس اہلکار مختلف کمرے کھولتے ہوۓ ایک اندھیرے کمرے میں داخل ہوئی تو لحاف میں لیٹا دس سالہ یتیم بچہ محمود اچانک اٹھ بیٹھا‘۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس اہلکار دیوانوں کی طرح ہینڈز اپ، ہینڈز اپ چلانے لگے، بچہ بھی سہم کر رونے لگا جس پر ممتہم نے مداخلت کی اور انہیں بتایا کہ یہ بچہ بیمار ہے اس لیے کمرے میں سورہا ہے۔ پولیس اس ہمساۓ سمیت جس کی چھت کے ذریعے پولیس مدرسہ میں داخل ہوئئ تھی، دس افراد کو پکڑ کر تھانہ سبزہ زار لے گئی جہاں ایس ایس پی آپریشن آفتاب چیمہ ان سے سوالات کرتے رہے۔ محمد اسماعیل بتاتے ہیں کہ وہ ایک گول چہرے اور چھوٹی داڑھی والے کسی شخص کی تصویر دکھاتے اور اس کے بارے میں پوچھتے اس تصویر پر اس کا نام احسان قادری لکھا تھا اور یہ بھی لکھا تھا کہ ان کے بارے میں نفیس الحسینی سے پوچھا جاۓ۔
پچاسی سالہ سید نفیس الحسینی راقم عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی نائب صدر اور مدرسہ باقیات الشہداءاور اس سے متصل خانقاہ سید الشہداء کے بانی سرپرست ہیں۔اس رات وہ بیمار تھے اور مدرسے سے بارہ کلومیٹر دور راوی روڈ پر واقع اپنے گھر میں موجود تھے۔ نفیس الحسینی کہتے ہیں کہ ان سے بھی وہ ہی تصویر دکھا کر پوچھا گیا۔ ممتہم محمد اسماعیل کا کہنا ہے کہ ڈیجٹل کیمرے سے ان کی دو تصاویر بنائی گئیں۔ پولیس افسران کا کہنا تھا کہ یہ تصاویر انٹر نیٹ کے ذریعے بیرون ملک بھجوائی جائیں گی ۔ پولیس حکام کہتے ہیں کہ انہوں نے کسی کو گرفتارنہیں کیا لیکن مدرسے کے ننھے بچے بتاتے ہیں کہ ان کے اساتذہ، مدرسہ ملازمین ،باورچی اور دیگر افراد دو روز تک غائب رہے تھے ۔ محمد اسماعیل کہتے ہیں کہ انہیں دیگر نوساتھیوں سمیت دو دن دو راتیں، تھانہ سبزہ زار میں گزارنی پڑیں ۔ تاہم ان پر کوئی ذہنی یا جسمانی تشدد نہیں کیا گیا۔ باقیات الشہداء مدرسے میں کشمیر اور افغانستان میں اسلام کے نام پر لڑی جانے والی جھڑپوں میں شہید ہونے والوں کے یتیم بچے رکھے جاتےہیں۔ اس مدرسہ میں تیس بچے داخل ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||