BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 04 April, 2007, 17:21 GMT 22:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بھٹو کی برسی اور اقتدار کی امید

بھٹو کی برسی
پوری رات جاری رہنے والی اس تقریب میں مشاعرہ بھی ہوا اور ایک دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی
پاکستان کے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے مرقد گڑھی خدا بخش میں ان کی اٹھائیسویں برسی کے موقع پر جمع ان ہی کی تشکیل دی گئی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنان اور رہنماؤں میں ایک نیا جوش و خروش نظر آیا۔

پاکستان میں متوقع عام انتخابات سے قبل ہونے والی اس پی پی پی کی اس مرکزی تقریب میں زیادہ تر تقاریر اور نعروں میں دوبارہ اقتدار میں آنے کی امید کی ایک جھلک نظر آ رہی تھی۔

برسی کی تقریب کی صدارت کرنے والے پی پی پی کے سینئر وائس چیئرمین سید یوسف رضا گیلانی نے اعلان کیا کہ آئندہ برس چار اپریل کی تقریب سرکاری سطح پر منائی جائے گی ’کیونکہ ہم اقتدار میں ہونگے اور بےنظیر بھٹو سٹیج پر موجود ہونگی۔‘

پوری رات جاری رہنے والی اس تقریب میں مشاعرہ بھی ہوا اور ایک دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی۔ اس فلم میں شامل کی گئی ذوالفقار علی بھٹو کی تقاریر نے ماحول کو گرما دیا۔

عدالتوں سے رجوع کریں گے
 صدر پرویز مشرف نے اگر موجودہ اسمبلیوں سے اپنا انتخاب کروایا تو پیپلز پارٹی عدالتوں سے رجوع کرے گی
بے نظیر بھٹو

اس موقع پر پیپلز پارٹی کی خود ساختہ جلاوطن چیئر پرسن بےنظیر بھٹو کی پہلے سے ریکارڈ کی گئی تقریر بھی سنائی گئی۔ انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ صدر پرویز مشرف نے اگر موجودہ اسمبلیوں سے اپنا انتخاب کروایا تو پیپلز پارٹی عدالتوں سے رجوع کرے گی۔

انہوں نے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو بحال کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

بےنظیر بھٹو نے شاید پہلی بار ایک عوامی اجتماع میں نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کی مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا ’فوجی حکومتوں میں ہی علیحدگی پسند تحریکیں زور پکڑتی ہیں۔‘

بےنظیر بھٹونے کوئی نام لیے بغیر کہا کہ ہماری حکومت میں تو بلوچ قوم پرست رہنماء افغانستان سے واپس آگئے تھے۔ تقریب کے سٹیج پر پہلی مرتبہ پارٹی جھنڈے کے ساتھ پاکستان کا پرچم بھی لگایا گیا تھا۔

چار اپریل کی رات کو دو بج کر بارہ منٹ پر مکمل خاموشی اختیار کی گئی۔ پی پی پی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کو اٹھائیس برس قبل اسی وقت پھانسی دی گئی تھی۔

ادھر راولپنڈی میں اس جیل کی پرانی عمارت کے قریب پی پی پی کارکنان جمع ہوئے، جہاں ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی تھی۔ جیل کی پرانی عمارت کو ایک پارک میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔

یوسف رضا کا کہنا تھا کہ آئندہ برس بھٹو کی برسی سرکاری طور پر منائی جائے گی

پی پی پی اسلام آباد شعبہ خواتین کی صدر نرگس سعید ملک ،شکیل عباسی ، عمران حیات و دیگر کارکنان کو راولپنڈی پولیس نے پرانی پھانسی گھاٹ میں پھول رکھنے اور نعرہ بازی کرنے سے منع کردیا۔ تاہم پولیس کی نفری کے باوجود چند خواتین پھول رکھنے میں کامیاب ہوگئیں۔

کراچی میں بےنظیر بھٹو کی رہائش گاہ بلاول ہاؤس میں قرآن خوانی کی گئی۔ جس میں پارٹی کارکنان اور مسجد کے طلبہ نے شرکت کی۔ اس موقع پر لنگر بھی بانٹا گیا۔

جبکہ پیپلز پارٹی مرکزی سیکریٹریٹ اسلام آباد میں بھی قرآن خوانی کی گئی جس میں پی پی پی سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی زمرد خان ، نیئر بخاری رخسانہ بنگش اور دیگر نے شرکت کی۔

’پارا تھرمامیٹر دا‘
ملک بھر میں انتخابی صف بندی کا آغاز
’یہ سال اچھا ہے‘
عوامی سیاست کا جادو اور ڈِیل کا منتر
مسٹر بھٹوپاکستان پیپلز پارٹی
انقلاب سے احتساب تک کا انتالیس سالہ سفر
چاہِ یوسف سے صدا
بے نظیرگیلانی کو شاعر سمجھ بیٹھیں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد