بھٹو کی برسی اور اقتدار کی امید | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے مرقد گڑھی خدا بخش میں ان کی اٹھائیسویں برسی کے موقع پر جمع ان ہی کی تشکیل دی گئی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنان اور رہنماؤں میں ایک نیا جوش و خروش نظر آیا۔ پاکستان میں متوقع عام انتخابات سے قبل ہونے والی اس پی پی پی کی اس مرکزی تقریب میں زیادہ تر تقاریر اور نعروں میں دوبارہ اقتدار میں آنے کی امید کی ایک جھلک نظر آ رہی تھی۔ برسی کی تقریب کی صدارت کرنے والے پی پی پی کے سینئر وائس چیئرمین سید یوسف رضا گیلانی نے اعلان کیا کہ آئندہ برس چار اپریل کی تقریب سرکاری سطح پر منائی جائے گی ’کیونکہ ہم اقتدار میں ہونگے اور بےنظیر بھٹو سٹیج پر موجود ہونگی۔‘ پوری رات جاری رہنے والی اس تقریب میں مشاعرہ بھی ہوا اور ایک دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی۔ اس فلم میں شامل کی گئی ذوالفقار علی بھٹو کی تقاریر نے ماحول کو گرما دیا۔
اس موقع پر پیپلز پارٹی کی خود ساختہ جلاوطن چیئر پرسن بےنظیر بھٹو کی پہلے سے ریکارڈ کی گئی تقریر بھی سنائی گئی۔ انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ صدر پرویز مشرف نے اگر موجودہ اسمبلیوں سے اپنا انتخاب کروایا تو پیپلز پارٹی عدالتوں سے رجوع کرے گی۔ انہوں نے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو بحال کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ بےنظیر بھٹو نے شاید پہلی بار ایک عوامی اجتماع میں نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کی مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا ’فوجی حکومتوں میں ہی علیحدگی پسند تحریکیں زور پکڑتی ہیں۔‘ بےنظیر بھٹونے کوئی نام لیے بغیر کہا کہ ہماری حکومت میں تو بلوچ قوم پرست رہنماء افغانستان سے واپس آگئے تھے۔ تقریب کے سٹیج پر پہلی مرتبہ پارٹی جھنڈے کے ساتھ پاکستان کا پرچم بھی لگایا گیا تھا۔ چار اپریل کی رات کو دو بج کر بارہ منٹ پر مکمل خاموشی اختیار کی گئی۔ پی پی پی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کو اٹھائیس برس قبل اسی وقت پھانسی دی گئی تھی۔ ادھر راولپنڈی میں اس جیل کی پرانی عمارت کے قریب پی پی پی کارکنان جمع ہوئے، جہاں ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی تھی۔ جیل کی پرانی عمارت کو ایک پارک میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔
پی پی پی اسلام آباد شعبہ خواتین کی صدر نرگس سعید ملک ،شکیل عباسی ، عمران حیات و دیگر کارکنان کو راولپنڈی پولیس نے پرانی پھانسی گھاٹ میں پھول رکھنے اور نعرہ بازی کرنے سے منع کردیا۔ تاہم پولیس کی نفری کے باوجود چند خواتین پھول رکھنے میں کامیاب ہوگئیں۔ کراچی میں بےنظیر بھٹو کی رہائش گاہ بلاول ہاؤس میں قرآن خوانی کی گئی۔ جس میں پارٹی کارکنان اور مسجد کے طلبہ نے شرکت کی۔ اس موقع پر لنگر بھی بانٹا گیا۔ جبکہ پیپلز پارٹی مرکزی سیکریٹریٹ اسلام آباد میں بھی قرآن خوانی کی گئی جس میں پی پی پی سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی زمرد خان ، نیئر بخاری رخسانہ بنگش اور دیگر نے شرکت کی۔ |
اسی بارے میں ہم بھی وکلاء کے ساتھ ہیں: پی پی پی15 March, 2007 | پاکستان مشرف الیکشن نہیں کراسکتے: کھر28 February, 2007 | پاکستان ’خفیہ ایجنسیوں کی مداخلت روکیں‘25 January, 2007 | پاکستان پولیس کا بینظیرکی حامیوں پر تشدد22 January, 2007 | پاکستان وزیراعظم کے لیے امیدوار ہوں: بینظیر06 January, 2007 | پاکستان گرینڈ الائنس؟ نہیں: امین فہیم18 October, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||