BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 25 April, 2007, 02:06 GMT 07:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جمہوری قوتوں کو موقع دیں: بینظیر

بے نظیر بھٹو
بے نظیر بھٹو نے صدر مشرف پر براہ راست کوئی تنقید نہیں کی
سابق وزیر اعظم بےنظیر بھٹو نے کہا ہے کہ پاکستان میں برسر اقتدار مسلم لیگ (ق) اور متحدہ مجلس عمل دونوں طالبان اور دوسرے انتہا پسند عناصر کی حامی سیاسی قوتیں ہیں۔

مسلم لیگ (ق) کو جنرل مشرف کی سیاسی جماعت سمجھا جاتا ہے، لیکن بےنظیر بھٹو کا کہنا تھا کہ ان سیاسی جماعتوں کو اقتدار سے علیحدہ کیے بغیر دہشت گردی کے خلاف جنگ نہیں جیتی جا سکتی۔

اعلیٰ تعلیم کے معروف ادارے لندن سکول آف اکنامکس میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف سب سے بڑی سیاسی قوت ہیں۔

تقریب میں موجود ذرائع ابلاغ کے نمائندے اور دوسرے افراد اس بات کے منتظر رہے کہ بے نظیر بھٹو ان افواہوں کے تناظر میں کوئی بات کریں گی کہ صدر جنرل پرویز مشرف اور ان کے درمیان کوئی ’ڈیل‘ طے پا رہی ہے، لیکن انہوں نے اس حوالے سے نہ تو اپنی تقریر میں اور نہ ہی سوالات کے جواب دیتے ہوئے کوئی بات کی۔

شدت پسندی سے مقابلہ
 پاکستان میں بڑھتی ہوئی شدت پسندی کا مقابلہ کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ ہے مذہبی منافرت سے دور رہنے والی اعتدال پسند سیاسی قوتوں کو جمہوریت کے ساتھ پنپنے کا موقع ملنا
بے نظیر بھٹو

تاہم ان کے لب و لہجہ میں جنرل مشرف کے خلاف وہ جارحیت نظر نہیں آئی جس کا کہ وہ اب تک مظاہرہ کرتی آئی ہیں۔ انہوں نے متحدہ مجلس عمل کے ساتھ ساتھ صدر مشرف کی پروردہ جماعت مسلم لیگ (ق) پر بھی الزام لگایا کہ وہ القاعدہ اور طالبان کی حمایتی رہی ہے۔

تاہم انہوں نے صدر مشرف پر براہ راست کوئی تنقید نہیں کی۔

بےنظیر بھٹو کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بڑھتی ہوئی مذہبی شدت پسندی کا مقابلہ کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ ہے مذہبی منافرت سے دور رہنے والی اعتدال پسند سیاسی قوتوں کو جمہوریت کے ساتھ پنپنے کا موقع ملنا۔

انہوں نے کہا کہ ایم ایم اے کا ملک میں حزب اختلاف ہونے کا یہ مطلب ہر گز نہ لیا جائے کہ پاکستان میں ملائیت کو عوامی حمایت بھی حاصل ہے۔

بےنظیر بھٹو نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور اے آر ڈی میں شامل دوسری جماعتیں ملک میں جمہوریت کی بحالی کی جدوجہد کے لیے مکمل اتفاق رائے رکھتی ہیں۔

وطن واپسی کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ رواں سال کے آخر تک وہ پاکستان میں ہونگی۔

بینظیرہوئی یا نہیں ہوئی
مشرف بینظیر ڈیل پر متضاد حکومتی بیانات
سابق وزیراعظم بینظیر بھٹوبینظیر کی پراعتمادی؟
بینظیر کی پراعتمادی یا مشرف سے ڈیل
بے نظیر’عدالتی بحران‘
حالات قابو سے باہر ہو سکتے ہیں: بے نظیر بھٹو
 بنظیر بھٹومیثاق کا مستقبل
میثاق جمہوریت میں دلچسپی کم ہو رہی ہے۔
بے نظیر’ملک کو حقیر کیا‘
بینظیر کے مطابق مشرف نےملک کو حقیر کیا ہے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد