BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 01 March, 2007, 12:52 GMT 17:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بینظیر لندن اے پی سی میں نہیں‘

بینظیر بھٹو
بینظیر کی نمائندگی پیپلز پارٹی کا ایک وفد کرے گا
پاکستان پیپلز پارٹی کے سرکردہ رہنما مخدوم امین فہیم نے کہا ہے کہ چوبیس مارچ کو لندن میں مسلم لیگ نواز کی میزبانی میں ہونے والی کل جماعتی کانفرنس میں بینظیر بھٹو شرکت نہیں کریں گی۔

دبئی سے فون پر بات کرتے ہوئے انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ کل جماعتی کانفرنس میں پیپلز پارٹی کا اعلیٰ سطحی وفد شریک ہوگا۔

جب ان سے بینظیر بھٹو کی عدم شرکت کی وجہ پوچھی گئی تو امین فہیم نے کہا کہ ’محترمہ کی رائے ہے کہ کل جماعتی کانفرنس اس وقت بلائی جائے جب صدر جنرل پرویز مشرف خود کو موجودہ اسمبلیوں سے منتخب کرانے کا اعلان کریں‘۔

مخدوم امین فہیم نے کہا کہ لندن میں چوبیس اور پچیس مارچ کو ہونے والی دو روزہ کانفرنس کا اعلامیہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کے رہنما مرتب کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ پہلے پیپلز پارٹی کے رہنما کہتے رہے ہیں کہ ’اے پی سی، کا میزبانی اتحاد برائے بحالی جمہوریت یعنی ’آے آر ڈی، کے پلیٹ فارم سے ہونی چاہیے۔

اس بارے میں جب مسلم لیگ نواز کے سیکریٹری اطلاعات احسن اقبال سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ میڈیا کے ذریعے اطلاع ملی ہے کہ بینظیر بھٹو شریک نہیں ہوں گی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا ایک وفد کل جماعتی کانفرنس میں شریک ہوگا اور اس کی شرکت اتنی ہی اہمیت کی حامل ہوگی جتنی محترمہ کی شرکت۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی پینتیس سیاسی اور مذہبی جماعتوں کو لندن میں منعقد ہونے والی کانفرنس کے دعوت نامے جاری کیے گئے ہیں اور بیشتر نے شرکت کی یقین دہانی کرائی ہے۔

پی پی پی کے وفد کی شرکت اتنی ہی اہمیت کی حامل ہوگی جتنی محترمہ کی شرکت:احسن اقبال

مسلم لیگی رہنما نے بتایا کہ کل جماعتی کانفرنس کا چھ نکاتی ایجنڈا ہے جس میں صدر مشرف کی آئینی ترامیم ختم کر کے اصل حالت میں آئین کی بحالی، صدر جنرل پرویز مشرف کو ہٹا کر قومی نگران حکومت قائم کر کے آزادانہ انتخابات کرانا، حزب مخالف کی مشاورت سے الیکشن کمیشن تشکیل دینا، آزاد عدلیہ کا قیام، جلا وطن قومی رہنماؤں کی راہ میں رکاوٹیں ختم کرنا اور موجودہ اسمبلیوں سے صدر مشرف کے انتخاب کا راستہ روکنا شامل ہے۔

پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز ایک دوسرے کی حریف جماعتیں ہیں لیکن صدر جنرل پرویز مشرف کے اقتدار میں آنے کے بعد وہ اتحاد برائے بحالی جمہوریت کے پلیٹ فارم پر متحد ہوئیں۔ تاہم ایک اتحاد میں شامل ہوتے ہوئے بھی دونوں جماعتیں مختلف معاملات پر پارلیمان میں ایک دوسرے سے کھل کر اختلاف رائے کرتی رہی ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد