BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 01 February, 2007, 03:38 GMT 08:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بی بی، بُش ملاقات: خبروں کی نفی

بینظیر بھٹو
توقع ہے کہ بینظیر بھٹو پاکستان میں جمہوریت کی بحالی پر زور دیں گی۔
وائٹ ہاؤس نے ان حالیہ خبروں کی نفی کی ہے کہ پاکستان کی سابق وزیرِاعظم بینظیر بھٹو کی صدر جارج بش کے ساتھ کوئی ملاقات ہونے جارہی ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ صدر بش کی آئندہ کچھ دنوں کی مصروفیات میں بینظیر بھٹو کے ساتھ کوئی ملاقات طے نہیں اور نہ ہی انہیں وائٹ ہاؤس کے کسی پروگرام میں شرکت کے لیے دعوت دی گئی ہے۔

بینظیر بھٹو نے خود صدر بُش سے ملاقات کی ان خبروں کی نہ تردید کی ہے اور نہ تصدیق۔

اس ہفتے کے آغاز پر بینظیر بھٹو کی دبئی سے نیویارک آمد ہوئی جہاں سے وہ اپنے شوہر آصف علی زرداری کے ہمراہ واشنگٹن پہنچی ہیں۔

بعض پاکستانی اور بھارتی اخبارات میں پیپلز پارٹی واشنگٹن کے ذرائع سے شائع شدہ خبروں میں کہا گیا تھا کہ بینظیر بھٹو صدر بش سے ملاقات کرنے کے لیے واشنگٹن کے دورے پر آئی ہیں۔

پاکستان کی سابق وزیرِ اعظم جمعرات کو واشنگٹن میں منعقدہ سالانہ دعائیہ ناشتے میں شرکت کررہی ہیں۔ اس دعائیہ ناشتے میں تین ہزار سے زائد افراد مدعو کئے گئے ہیں۔ پچھلے برسوں کی طرح شرکاء میں اکثریت امریکی عیسائیوں کی ہے جبکہ مسلم دنیا کے بعض سرکردہ لوگوں کے ساتھ یہودی علماء کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔

ناشتے پر دعا کی اس تقریب میں امریکی صدر کے علاوہ کانگریس میں مذہبی نظریات کے حامل ڈیموکریٹ اور ریپبلکن ارکان خاصی تعداد میں شریک ہوتے ہیں۔

واشنگٹن میں سرکردہ کشمیری رہنما غلام نبی فائض گزشتہ برس تک اس سالانہ تقریب میں شریک ہوتے رہے ہیں۔ ان کے مطابق، تقریب میں عمومًا مجمع اتنا بڑا ہوتا ہے کہ صدر بش کے لیے ممکن نہیں ہوتا کہ وہ وہاں موجود ہر شخص سے ملاقات تو دور کی بات سلام دعا بھی کر سکیں۔

اس ’غیر سرکاری‘ تقریب کے انعقاد میں وائٹ ہاؤس کا کوئی کردار نہیں ہوتا۔ انتظام عیسائیوں کی ایک تنظیم ’فیلوشپ فائونڈیشن‘ کرتی ہے جسے مذہبی رجحان رکھنے والے اراکینِ کانگریس کا آشیرواد حاصل ہوتا ہے۔ اس مذہبی تقریب کی زیادہ تشہیر نہیں کی جاتی اور نہ ہی میڈیا کے زیادہ لوگوں کو شرکت کی دعوت دی جاتی ہے۔

دعائیہ ناشتے میں شرکت کے علاوہ اپنے واشنگٹن کے دورے میں توقع ہے کہ بینظیر بھٹو بعض اراکینِ کانگریس اور پالیسی ساز اداروں میں ملاقاتیں کر کے پہلے کی طرح ان پر پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کے لیے زور ڈالیں گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد