ملاقات پر مِلا جُلا عوامی ردِ عمل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے فوجی صدر جنرل پرویز مشرف اور پاکستان پیپلز پارٹی کی سربراہ بے نظیر بھٹو کے درمیان گزشتہ روز ابوظہبی میں ہونے والی ملاقات اور ممکنہ ڈیل کو اگر ایک طرف بعض پاکستانی آمریت سے جمہوریت کی طرف ایک مثبت قدم قرار دے رہے ہیں جبکہ دوسری طرف بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ ایک جماعت کی بجائے تمام سیاسی پارٹیوں سے ملکرایک قومی حکومت تشکیل دی جانی چاہیے۔ پشاور میں ایک میڈیکل اسٹور کے مالک امجد علی بابر بے نظیر اور جنرل مشرف کی ملاقات سے خاصے پر امید ہیں۔انکے مطابق یہ ایک اہم پیشرفت ہے کیونکہ بے نظیر اور جنرل مشرف کے درمیان تعلقات بہتر ہونے سے جمہوریت بحال ہوگی اور فوج واپس بیرکوں میں چلے جائے گی۔ ’ہم لوگ فوج سے اکتا گئے ہی۔ ملک میں ترقی کا پہیہ رک گیا ہے اور بے روزگاری میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے، لہذا ڈیل کے نتیجے میں حالات درست ہوجائیں گے اور آئندہ سیٹ اپ میں سیاستدانوں کو چاہیے کہ وہ ماضی میں نواز شریف اور بے نظیر کی طرح ایک وسرے کی ٹانگیں کھینچنے سے گریز کریں۔‘
انکا کہنا تھا کہ بے نظیر ہر صورت میں واپس آنا چاہتی ہیں اسکے لیے’وہ ہر جائز اور ناجائز طریقہ اختیار کریں لہذا یہ ملاقات پاکستان کے عوام کے مفاد میں نہیں ہے۔‘ پشاور ہی کے تئیسں سالہ نوجوان جمال باری کا خیال ہے کہ جنرل مشرف اور بے نظیر کے درمیان ہونے والی ممکنہ ڈیل کے نتیجے میں پاکستان امن و امان کی خراب صورتحال سے نکل آئے گا۔انکے مطابق’موجودہ سیٹ اپ ملک کی خراب صورتحال سے نمٹنے میں ناکام ہوگئی ہے اور مجھے امید ہے کہ سیٹ اپ میں تبدیلی کی وجہ سے صورتحال میں بہتری آجا ئے گی۔ بے نظیر سیاسی طور پر صورتحال کو کنٹرول کرسکتی ہیں کیونکہ ایم ایم اے اور مسلم لیگ ( ق ) ملک کو گھمبیر صورتحال سے نکالنے میں ناکام ہوگئے ہیں۔میں چاہتا ہوں کہ جنرل مشرف مزید دس سال تک اقتدار میں رہیں۔‘ پشاور ہی کے رہائشی فضل الہی کا کہنا ہے کہ جنرل مشرف کی بے نظیر کیساتھ ہونے والی ملاقات سے یہ بات عیاں ہوگئی ہے کہ اقتدار پر انکی ( جنرل مشرف) گرفت کمزور ہوگئی ہے۔انکے بقول’ مجھے یوں لگ رہا ہے کہ جنرل پرویز مشرف کا بے نظیر کیساتھ ملاقات کا مطلب یہ ہے کہ صورتحال پر اب مزید انکا کوئی کنٹرول نہیں رہا اسی لیے انہوں نے بے نظیر کیساتھ ڈیل کرنے کی کوششیں شروع کردی ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ اگر ایک فوجی جرنیل ملک کی صورتحال کو کنٹرول نہیں کرسکے ہیں تو بے نظیر بھٹواس پر کس طرح قابو پاسکیں گی۔‘
کراچی سے ریاض سہیل: محمد عرفان کراچی میں ریفریجریٹر اور ایئر کنڈیشنر کے مستری ہیں ان کا کہنا ہے کہ بینظیر اور مشرف کا اتحاد اگر ملک کے مفاد میں ہے تو ہونا چاہیے اور بینظیر بھٹو کو واپس آجانا چاہیے۔ کراچی کے محمد آصف کہتے ہیں کہ بینظیر بھٹو کو واپس آنا چاہیے ان کی حکومت میں بیروزگاری کا تو خاتمہ ہو جائے گا۔ محمد نسیم کراچی کے ایک رکشہ ڈرائیور ہیں، وہ بھی بینظیر کو واپس حکومت میں آنے کی حمایت کرتے ہیں ان کا کہنا ہے بینظیر حکومت غریبوں کے لئے بہت اچھی ہے باقی تو سبھی ایک جسیے ہی ہیں ۔ خالد سعید کراچی میں فروٹ کی ریڑھی لگاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ دونوں رہنماؤں کی ملاقات سے اس ملک کو فائدہ پہنچتا ہے تو اس سے اچھی اور کیا بات ہوسکتی ہے محمد عمر مزدوری کرتے ہیں ان کا کہنا ہے مشرف بینظیر ملاقات اور اتحاد صحیح ہے کیونکہ دونوں انسان ہیں بینظیر کو واپس آنا چاہیے۔ | اسی بارے میں ’ڈیل‘، چودھری برادران کی مشکل26 July, 2007 | پاکستان بینظیر مشرف بات چیت بےنتیجہ ختم27 July, 2007 | پاکستان سمجھوتہ نہیں ہو رہا: بنظیر بھٹو12 July, 2007 | پاکستان ’گرفتاری کے امکان کے باوجود واپسی‘ 30 May, 2007 | پاکستان ووٹروں نے فیصلہ کرنا ہے‘26 July, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||