BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 12 July, 2007, 21:00 GMT 02:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سمجھوتہ نہیں ہو رہا: بنظیر بھٹو

بنظیر بھٹو کے مطابق مشرف سے مذاکرات تعطل کا شکار ہیں
پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما بینظیر بھٹو نے اس زور پکڑتے تاثر کی پُر زور نفی کی ہے کہ ان کی جماعت کا حزبِ اختلاف کے وسیع اتحاد میں شامل نہ ہونے کا فیصلہ مشرف حکومت کے ساتھ ممکنہ سمجھوتے کے مدِنظر کیا گیا ہے۔

لندن میں جمعرات کی شام اخباری کانفرنس سے خطاب میں پاکستان کی سابق وزیرِاعظم نے کہا کے مشرف حکومت کے ساتھ ہماری بات چیت سن ننانوے سے وقتًا فوقتاً جاری ہے لیکن یہ مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔

بینظیر بھٹو نے کہا کہ پاکستان میں فوجی آمریت کے خاتمے اور جمھوریت کی بحالی سے متعلق آل پارٹیز کانفرنس کا مشترکہ اعلامیہ حزبِ اختلاف کی بڑی کامیابی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اے آر ڈی اور نئے وجود میں آنے والے گرینڈ الائنس کے مقاصد ایک ہی ہیں لیکن یہ مقاصد حاصل کرنے کے لئے طریقہء کار پر حکمت عملی میں فرق ہے۔

مستقبل میں کیا ہوگا؟
 ابھی تک اے آر ڈی کی کسی جماعت نے اتحاد کے چیئرمین کو اتحاد سے علیحدہ ہونے کا نوٹس نہیں دیا۔ تاہم اس بات کا امکان ہے کہ آنے والے دنوں میں اے آر ڈی کی کچھ جماعتیں اتحاد سے علیحدگی کا فیصلہ کریں
بینظیر بھٹو

انہوں نے کہا پیپلز پارٹی سمجھتی ہے کہ مشرف حکومت کے خلاف وسیع عوامی مہم شروع کرنے کا ابھی وقت نہیں آیا اور اس کا تعین کرنے میں جلد بازی سے کام نہیں لیا جائے گا۔ انہوں نے مستقبل میں کسی مرحلے پر گرینڈ الائنس کی مشرف مخالف تحریک میں شامل ہونے کو خارج از امکان قرار نہیں دیا۔

پریس کانفرنس میں بعض مرحلوں پر متحدہ مجلسِ عمل بینظیر بھٹو کی خاص تنقید کا نشانہ نظر آئی۔ بینظیر بھٹو نے کہا: ’ہمارے ایم ایم اے کے بارے میں تحفظات اور خدشات ہیں کہ وہ حکومت میں ہوتے ہوئے کس طرح حزبِ اختلاف کی تحریک کا حصہ بن رہے ہیں۔‘

انہوں نے کہا ماضی میں ایم ایم اے نے ایل ایف او کے خلاف جدوجہد میں حزبِ اختلاف کو استعمال کیا اور بعد میں جا کر جنرل مشرف کو وردی میں صدر رہنے کا راستہ فراہم کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم انتہاپسندوں اور ایسی جماعتوں کے ساتھ ایک نہیں ہو سکتے جنہوں نے ماضی میں دہشتگردی کی حمایت کی۔‘

بینظیر بھٹو کا اصرار تھا کہ نئے گرینڈ الائینس کی تشکیل کے باوجود اتحاد برائے بحالیء جمھوریت (اے آرڈی) اپنی جگہ پر قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تک اے آر ڈی کی کسی جماعت نے اتحاد کے چیئرمین کو اتحاد سے علیحدہ ہونے کا نوٹس نہیں دیا۔ تاہم ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اس بات کا امکان ہے کہ آنے والے دنوں میں اے آر ڈی کی کچھ جماعتیں اتحاد سے علیدگی کا فیصلہ کریں۔

اخباری کانفرنس میں بینظیر بھٹو نے عام انتخابات میں ووٹر لسٹوں سے متعلق مبینہ دھاندلی کے بارے میں اپنے خدشات پر بھی تفصیلی روشنی ڈالی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد