اجتماعی استعفوں پر عمومی اتفاق | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما میاں نواز شریف کی طرف سے لندن میں بلائی جانے والی آل پارٹیز کانفرنس میں صدر جنرل پرویز مشرف کی طرف سے موجودہ اسمبلیوں سے دوبارہ منتخب ہونے کی کوشش میں قومی اسمبلی سے اجتماعی استعفوں اور موجودہ حکومت کے خلاف تحریک شروع کرنے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں پر مشتمل اتحاد بنانے کی تجاویز سامنے آئی ہیں۔ آل پارٹیز کانفرنس کے افتتاحی اجلاس میں میاں نواز شریف کے علاوہ متحدہ مجلس عمل کے رہنماؤں قاضی حیسن احمد، مولانا فضل الرحمان، پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمیٹیرین کے چیئرمین مخدوم امین فہیم، عوامی نیشل پارٹی کے صدر اسفند یار ولی، پختون خواہ ملی عوامی پارٹی کے محمود خان اچکزئی، تحریک انصاف کے رہنما عمران خان اور تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کےعلامہ ساجد نقوی نے خطاب کیا۔ آل پارٹیز کانفرنس کے آغاز پر پاکستان کے سیاسی اکابرین نے نواب اکبر خان بگٹی، بارہ مئی کو کراچی میں ہلاک ہونے والے سیاسی کارکنوں، بلوچستان میں سیلاب اور بارشوں سے کی نذر ہونے والےاور مسجد حفصہ کے تنازعہ میں ہلاک ہونے والوں کے لیے فاتحہ بھی پڑھی گئی۔ تاہم تمام سیاسی جماعتوں پر مشتمل ایک نیا اتحاد یا الائنس بنانے کی تجویز پر جو ابتدائی طور پر مولانا فضل الرحمان کی طرف سے پیش کی گئی اور عمران خان اور محمود خان اچکزئی کی طرف سے بھر پور تائید کی گئی باقی جماعتوں کی طرف سے رائے کا اظہار کیا جانا باقی ہے۔ اتحاد برائے بحالی جمہوریت کے نام پر میاں نواز شریف کی طرف سے بلائی جانے والی اس کانفرنس میں افتتاحی تقریر کرتے ہوئے میاں نواز شریف نے کہا کہ حزب اختلاف کی جماعتوں کے ارکان کی طرف سے اسمبلیوں سے اجتماعی طور پر مستعفی ہوجانے کی صورت میں صدر کا حلقہ انتخاب غیر معتبر ہو جائے گا اور ایسے انتخاب کی کوئی سیاسی، قانونی اور اخلاقی وقعت برقرار نہیں رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی سیاسی جماعت کے ارکان اسمبلیوں میں بیٹھے رہے تو یہ ایک غاصب حکمران کی مدد کرنے کے مترادف ہوگا۔انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو صدر مشرف سے انفرادی اور اجتماعی رابطوں کا سلسلہ ختم کر دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کا یہ واضح موقف ہے کہ موجود حکومت کے تحت ملک میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات ممکن نہیں ہیں۔ متحدہ مجلس عمل کے رہنما قاضی حسین احمد نے میاں نواز شریف کی تقریر کی بھرپور حمایت کی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ آل پارٹیز کانفرنس کا دارومدار اتحاد برائے بحالی جمہوریت پر ہے جس میں پاکستان مسلم لیگ کے ساتھ پاکستان پیپلز پارٹی بھی ایک اہم حصہ ہے۔ انہوں نےانتخابات کے حوالے سے کہا کہ جب تک ایجنسیاں مداخلت کرتی رہیں گی ملک میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ قاضی حسین احمد نے آل پارٹیز کانفرنس کے سامنے تحویز پیش کی کہ یہ اجلاس ایک کمیٹی تشکیل دے اور وہ صدر مشرف کے خلاف عوامی تحریک شروع کرنے کے پروگرام وضع کرے۔ پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنیٹیرین کے چیئرمین مخدوم امین فہیم کہا کہ پی پی پی صدر مشرف کی طرف سے دوبارہ صدر منتخب ہونے کی مزاحمت کرے گی اور اس کے لیے استعفی بھی دینے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے اس بات کی بھی تائید کی کہ موجودہ حکومت کے تحت آزادانہ اور منصفانہ انتخابات ممکن نہیں ہیں۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ تمام سیاسی جماعتوں کی اتفاق سے قومی حکومت تشکیل دی جانے چاہیے جو ایک آزاد اور خود مختار الیکش کمیش کے تحت ملک میں آئندہ انتخابات کا انعقاد کرائے۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں یہ وعدہ کریں کہ آئندہ وہ کسی فوجی طالع آزما کو قبول نہ کریں۔ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عمران خان نے کہا کہ صدر مشرف کو اقتدارسے علیحدہ ہونے کے لیے ایک تاریخ دینی چاہیے اور اسی تاریخ کے بعد صدر مشرف کے خلاف اپوزیش ایک اتحاد کی صورت میں صدر مشرف کے خلاف تحریک چلائیں۔ محمود خان اچکزئی نے تمام سیاسی جماعتوں پر مشتمل ایک اتحاد بنانے کی تجویز پر اتفاق کیا اور کہا کہ اس اتحاد کا پہلا جلسہ کوئٹہ میں منعقد کیا جائے اور جہاں انہوں نے کہا کہ ایک لاکھ افراد کے جمع ہونے کی وہ گارنٹی دیتے ہیں۔ | اسی بارے میں اے پی سی: سیاسی قیادت لندن میں06 July, 2007 | پاکستان ’مشرف کے طیارے پر ناکام حملہ‘06 July, 2007 | پاکستان طوفان سے زلزلے جتنا نقصان: مشرف07 July, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||