طوفان سے زلزلے جتنا نقصان: مشرف | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جنرل پرویز مشرف نے دوسرے روز بلوچستان اور سندھ کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا جہاں انہوں نے کہا ہے کہ حکومت کے پاس صورتحال سے نمٹنے کے لیے کافی وسائل ہیں اور ان علاقوں کی بحالی کے لیے ضرورت سے زیادہ فنڈز فراہم کریں گے۔ بلوچستان میں صدر نے جعفر آباد، نصیر آباد، جھل مگسی کے فضائی دورے کے بعد اوستہ محمد میں متاثرین سے خطاب میں کہا ہے کہ جن لوگوں کے مکانات بہہ گئے ہیں انہیں حکومت مکان تعمیر کر کے دے گی اور اس کے علاوہ سڑکوں اور نہری نظام کو جو نقصان پہنچا ہے اسے بحال کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب سے بلوچستان اور سندھ میں اتنا ہی نقصان ہوا ہے جتنا کشمیر اور سرحد میں زلزلے سے ہوا تھا اور حکومت ہنگامی بنیادوں پر بحالی کا کام شروع کر رہی ہے۔
صدر نے گزشتہ روز بلوچستان کے مکران ڈویژن میں تربت کا دورہ کیا تھا اور وہاں جن لوگوں کے مکان گرے ہیں انہیں ابتدائی طور پر پندرہ پندرہ ہزار روپے دیے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں سیلاب اور بارشوں سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے، پندرہ اضلاع بری طرح متاثر ہوئے ہیں جن میں سے کئی سے رابطے تاحال بحال نہیں ہو سکے لیکن صدر پرویز مشرف نے وقتی طور پر چند ہزار روپے نقد رقم دے دی ہے اور باقاعدہ منصوبے کا اعلان نہیں کیا ہے کہ یہاں بحالی کا کام کس طرح کیا جائے گا۔ فنڈز کی فراہمی کے حوالے سے وزیر اعلیٰ بلوچستان کا کہنا ہے کہ اسی ارب روپے سے زیادہ کا نقصان ہوا ہے جس کے لیے بین الاقوامی سطح پر مدد کی اپیل کی جائے۔ | اسی بارے میں گیارہ لاکھ متاثرین، امداد کی اپیل نہیں02 July, 2007 | پاکستان بلوچستان: امدادی کارروائیاں، بیماریاں05 July, 2007 | پاکستان سیلاب: امدادی کارروائیاں تیز کریں06 July, 2007 | پاکستان سیلاب کے متاثرین، امداد کے منتظر07 July, 2007 | پاکستان گوادر: آخرِ کار امدادی کام شروع01 July, 2007 | پاکستان ہلاکتیں70، امداد ناکافی، بچے بھوک سے بےحال01 July, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||