گوادر: آخرِ کار امدادی کام شروع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے ساحلی شہرگوادر میں پانچ دن کے انتظار کے بعد فوجی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے ان ہزاروں لوگوں کے لیے امدادی سامان کی فراہمی شروع ہوگئی ہے جو سیلاب کے بعد پہاڑوں میں پناہ لینے پر مجبور تھے۔ امداد کی فراہمی کا سلسلہ گوادر کے نائب ناظم غفار ہوتی کی جانب سے مقامی لوگوں کے ہمراہ خود سوزی کی دھمکی کے بعد شروع ہوا ہے۔ انہوں نے یہ دھمکی اس وقت دی تھی جب گودار ائرپورٹ پر امدادی کارروائی کے لیے موجود دو ہیلی کاپٹروں میں سے ایک تربت میں گورنر اور وزیرِاعٰلی کی پروٹوکول ڈیوٹی کے لیے روانہ کر دیا گیا تھا جبکہ دوسرے کی واپسی کی تیاری کی جا رہی تھی۔ پہلی امدادی پرواز سنیچر کو تقریباً گیارہ بجےگوادر ائیرپورٹ سے دشت کے علاقے موجو کے لیے روانہ ہوئی تھی۔اس امدادی پروازی کی مدد سے ایرانی سرحد سے بالکل قریب پہاڑوں پر موجود ان لوگوں کو خیمے، صاف پانی اور خوراک پہنچائی گئی جو قریباً پانچ دن سے وہاں پھنسے ہوئے تھے۔ گوادر آرمی ریلیف انچارج بشیر اورکزئی کا کہنا ہے کہ’پہلے مرحلے میں لوگوں کی جان بچانے کے لیے اقدامات کی ضرورت ہے جب حالت نارمل ہو جائیں گے تب نقصانات کا جائزہ لیا جائے گا‘۔ فضائی امداد کے کام میں سنیچر کو آرمی اور نیوی کے پانچ ہیلی کاپٹروں نے حصہ لیا۔ تاہم ان پروازوں کے دریعے کسی شخص کو ان علاقوں سے نہیں نکالا گیا جہاں یہ ابھی تک پھنسے ہوئے ہیں۔ اس حوالے سےگوادر کے نائب ناظم غفار ہوتی کا کہنا ہے کہ بلوچ لوگ اس تکلیف میں بھی اپنی سرزمین چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہیں اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ انہیں ان کی زمینوں کے قریب ہی ٹینٹ، خوراک اور ادویات دی جائیں۔انہوں نےگودار کے سیلاب سے متاثرہ افراد کے لیے مرکزی اورصوبائی حکومت کی جانب سے امداد کو آٹے میں نمک کے برابر قرار دیا اور کہا کہ حکومت متاثرہ افراد کی وہ امداد نہیں کر رہی جس کے وہ مستحق ہیں۔ ادھر سیلاب اور مسلسل بارشوں کی وجہ سے کراچی اورگوادر کے درمیان ساحلی سڑک پر اب بھی درجنوں افراد پھنسے ہوئے ہیں اور ضلعی ناظم میر غفور کلمتی نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ شادی کور ڈیم، اورماڑہ، پسنی اور کوسٹل ہائی وے کے دیگر مقامات پر پھنسے ہوئے لوگوں کو نکالنے کے لیے فوری طور پر ہیلی کاپٹر فراہم کیے جائیں۔ گوادر کے ضلعی انتظامی آفسر اقبال ندیم نے کہا ہے کہ گوادر شہر میں چیزوں کی مصنوعی قلت کو روکنے کے لیے کراچی سے لانچوں کے ذریعے اشیائے خورد و نوش منگوالی گئی ہیں کیونکہ بارشوں کے بعد سےگوادر ملک کے دیگر علاقوں سے سڑک کے راستے منسلک نہیں رہا۔ گوادر میں قریباً ڈیڑھ ہفتے سے بجلی نہ ہونے کی وجہ شہر کے اکثر حصوں میں پینے کے پانی کی سپلائی میں بھی دشواری کا سامنا ہے۔ ضلعی حکومت کا کہنا ہے کہ حالیہ طوفان اور بارشوں سے بارہ بڑے ٹاورگر چکے ہیں۔ | اسی بارے میں بلوچستان: 250 لاپتہ، 54 ہلاکتیں30 June, 2007 | پاکستان گلیشیئر پگھلنے سے گاؤں زیرِ آب30 June, 2007 | پاکستان ’بچے بھوک سے بےہوش ہو رہے ہیں‘30 June, 2007 | پاکستان خضدار: 150 لاپتہ، 15 لاشیں برآمد30 June, 2007 | پاکستان بلوچستان: سیلاب اور امداد30 June, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||