بلوچستان: 250 لاپتہ، 54 ہلاکتیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان میں سنیچر کے روز بارشوں اور سیلاب سے کوئی ڈھائی سو افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ سنیچر کی شام تک مختلف علاقوں سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق صوبے میں ہلاکتوں کی تعداد چون ہوگئی تھی۔ بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں امدادی کارروائیاں باقاعدہ طور پر شروع نہیں ہو سکیں جس کی وجہ انسانی حقوق کی ایک تنظیم نے حکومت کی بد نیتی بتایا ہے۔ خضدار کی تحصیل نال میں سیلابی ریلا آنے سے ڈیڑھ سو افراد لاپتہ ہیں جبکہ چوبیس لاشیں ڈاک کے قریب اور پھر پانچ لاشیں جاوا کے قریب سے نکالی گئی ہیں۔ قلات سے آنے والا یہ سیلابی پانی نال سے ہو کر جاوا اور پھر ہنگول میں جاتا ہے۔ تحصیل نال کے ناظم میر خالد بزنجو نے بتایا کہ مزید لاشوں کی تلاش کا کام جاری ہے۔ سنیچر کو تربت کی تحصیل بلیدہ میں چار بچیاں پانی میں ڈوب گئی ہیں، ان میں تین آپس میں سگی بہنیں بتائی گئی ہیں۔ قلات کے ضلعی ناظم نعمت اللہ زہری نے بتایا ہے کہ ان کے علاقے میں فصلیں اور باغات ختم ہو گئے ہیں اور کئی دیہات زیر آب ہیں۔ قلات میں ایک خاتون اور بچہ پانی میں بہہ گئے ہیں جبکہ دو بچوں اور ایک خاتون سمیت چار افراد مکان کی چھت گرنے سے ہلاک ہوگئے ہیں۔ ادھر خاران سے صوبائی وزیر داخلہ میر شعیب نوشیروانی نے کہا ہے کہ خاران شہر کا ستر فیصد علاقہ پانی میں ڈوب چکا ہے اور کئی دیہات صفحہ ہستی سے مٹ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں لیکن کہیں سے تصدیق شدہ اطلاعات تاحال موصول نہیں ہو رہیں۔ خاران کے ضلعی ناظم شوکت بلوچ نے بتایا ہے کہ ایک دیہات سے سات افراد کی لاشیں ملی ہیں۔ ادھر جھل مگسی میں پانچ افراد پانی میں بہہ گئے ہیں اور تین افراد کی لاشیں نکالی گئی ہیں ۔ گندھاوا سے مقامی صحافی رحمت اللہ بلوچ نے بتایا ہے کہ سنیچر کو شہر کے قریب بچہ بند ٹوٹ جانے سے پانی جھل مگسی شہر کے اندر داخل ہو گیا ہے۔ جھل مگسی اور جعفر آباد کے سرحدی علاقے میں میری بات ایک نوجوان سے ہوئی جسے جھل مگسی سے کوئی بیس کلومیٹر دور ایک دیہات سے بچا کر لایا گیا ہے۔ اس نے بتایا کہ وہاں کوئی ساٹھ افراد لاپتہ ہیں اور وہ خود مشکل سے جان بچا کر آئے ہیں۔ ضلع بولان میں تحصیل بھاگ کے دو دیہاتوں میں کوئی ڈیڑھ ہزار افراد چاروں طرف سے پانی میں گھرے ہوئے ہیں۔ منطور نامی ایک شخص نے بتایا کہ وہاں کل ڈیڑھ سو افراد ہیں اور پانی کی سطح مسلسل بڑھ رہی ہے۔ بھوک پیاس سے بچے بے ہوش ہو رہے ہیں لیکن ان کی مدد کو کوئی نہیں آیا ہے۔
بیشتر لوگوں کا کہنا ہے کہ انہیں امداد نہیں مل رہی لیکن صوبائی حکومت کے ترجمان رازق بگٹی نے کہا ہے کہ امداد کی فراہمی کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیم کے بلوچستان کے صدر ظہور شاہوانی ایڈووکیٹ نے ایک اخباری کانفرنس میں کہا ہے کہ امدادا کی ترسیل میں تاخیر سے حکومت کی بد نیتی نظر آتی ہے۔ جھل مگسی بچہ بند ٹوٹنے سے پانی جھل مگسی شہر کے اندر داخل ہوگیا ہے۔ سیلابی ریلے سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے جہاں پانچ افراد پانی میں بہہ گئے ہیں اور تین لاشیں پانی سے نکالی گئی ہیں۔ قلات میں سوراب کے قریب ایک دیہات سے بوڑھی عورت کی لاش ملی ہے۔ لوگوں نے کہا ہے کہ انہیں کہیں سے کوئی امداد نہیں مل رہی۔ ہمارے نامہ نگار نثار کھوکھر کے مطابق سنیچر کو صوبے کے مختلف علاقوں میں بارشوں کا نیا سلسلا شروع ہوگیا ہے جس سے جھل مگسی، نصیر آباد اور جعفرآباد اضلاع میں امدادی کام شروع نہیں ہو سکا۔ جعفرآباد ضلع کے ڈی سی او شاہد سلیم نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ تحصیل گنداخاہ کے گاؤں باغ ہیڈ میں تین سو کے قر یب متاثرہ افراد پھنسے ہوئے ہیں۔ انہیں نکالنے کے لیے فوجی ہیلی کاپٹروں کی ضرورت ہے۔ ’ فوج کو ایک دن قبل گذارش کی تھی مگر ابھی تک ہیلی کاپٹرز علاقے میں نہیں پہنچے ہیں۔‘ باغ ہیڈ نصیر آباد ضلع کا وہ علاقہ ہے جہاں سے چار دن قبل دو معصوم بچیاں سیلابی پانی میں بہہ گئی تھیں۔ نصیرآباد ضلع کے شہروں کا آپس میں زمینی رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔ سڑکیں زیرآب آنے کے بعد سکھر سے چار کشتیاں طلب کی گئی ہیں جن میں سے اب تک ایک کشتی علاقے میں پہنچ سکی ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے علاقے میں متاثرہ لوگوں کو چار دن کے بعد بھی امدادی سامان نہیں ملا ہے۔ متاثرہ افراد کو بارشوں میں بھی سر چھپانے کی کوئی جگہ نہیں مل رہی۔ ڈی سی او نصیرآباد کا کہنا تھا کہ متاثرہ افراد کی بحالی کے لیے ایک سو عارضی ٹینٹ لگائے گئے ہیں۔ مگر آٹا،گھی، دال، چینی اور چائے وغیرہ ان لوگوں تک نہیں پہنچائے جاسکے۔ بارشوں کے نئے سلسلے کی وجہ سے امدادی کام میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔ علاقے کے منتخب ناظمین اور ارکان اسمبلی نے الزام لگایا ہے کہ ’ایف پی حفاظتی بند‘ کو محکمۂ آبپاشی کے عملداروں نےجان بوجھ کر نقصان پہنچایا کیونکہ ایف پی بند کے مرمتی کام میں کی گئی بدعنوانیوں کی جانچ شروع ہونے والی تھی۔ محکمۂ آبپاشی کے چیف انجینئر عطامحمد سومرو نے بی بی سی کو بتا یا ہے کہ سیلابی پانی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ پانی کی تیز رفتاری کی وجہ سے حفاظتی بند میں پڑی شگافیں چوبیس گھنٹوں میں بھی بند نہیں ہو سکی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ جُمعہ کو بارش کی وجہ سے بلوچستان کے ساحلی اور دیگر متاثرہ علاقوں میں امدادی کام بُری طرح متاثر ہوئے ہیں جبکہ مزید طوفان کے خدشے کے پیشِ نظر حکومت نے پاک فوج کے مزید دستوں کو ہنگامی صورتِحال کے حوالے سے تیار رہنے کا حُکم دیا گیا ہے۔ |
اسی بارے میں ’بچے بھوک سے بےہوش ہو رہے ہیں‘30 June, 2007 | پاکستان گلیشیئر پھگلنے سے گاؤں زیرِ آب30 June, 2007 | پاکستان ’طوفان کی پیشگی اطلاع نہ ملی‘29 June, 2007 | پاکستان امداد میں مشکل، مزید ہلاکتوں کا خدشہ29 June, 2007 | پاکستان بلوچستان: امداد کا آغاز نہیں ہوا29 June, 2007 | پاکستان بلوچستان: امدادی کام میں دشواریاں28 June, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||