BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 29 June, 2007, 10:38 GMT 15:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچستان: امداد کا آغاز نہیں ہوا

سیلابی پانی سے زیادہ تر سڑکیں اور پل بہہ گئے ہیں
بلوچستان میں طوفان بارشوں اور پھر سیلاب کے متاثرین کو امدادی اشیاء کی باقاعدہ ترسیل تاحال شروع نہیں ہوسکی جبکہ دوسری جانب حزب اختلاف سے کے قائدین نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان سے انہیں مدد کی کوئی توقع نہیں ہے اس لیے انہوں نے اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی امدادی تنطیموں سے مدد کی اپیل کی ہے۔

کوئٹہ میں ریلیف کمشنر خدا بخش بلوچ نے بتایا ہے کہ مکران ڈویژن کے لیے امدادی جہاز سی ون تھرٹی اسلام آباد اور کراچی سے جائیں گے جبکہ کوئٹہ سے ایک ریل گاڑی جمعہ کی رات کو روانہ ہو رہی ہے۔ یہ ریل گاڑی سبی جائے گی اور پھر وہاں سے ہیلی کاپٹر کے زریعے امدادی اشیاء مختلف علاقوں جیسے جعفرآباد، بولانئ جھل مگسی، گندھاوا، نصیر آباد اور دیگر علاقوں میں پھینکی جائیں گی۔ اسی طرح نوشکی ماشکیل اور دالبندین کے لیے سنیچر کی صبح سڑک کا نظام بحال ہونے کے بعد امدادی سامان روانہ کر دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت تک لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہوئے ہیں جبکہ ہزاروں بند اور چھوٹے ڈیم ٹوٹ چکے ہیں صوبے کی تمام اہم شاہراہوں پر پل بہہ گئے ہیں جبکہ ان چار دنوں میں کل سولہ افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔

بلوچستان اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کچکول علی ایڈووکیٹ اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے جنرل سیکرٹری حبیب جالب ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ انہیں وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے امداد کی کوئی توقع نہیں ہے اس لیے انہوں نے اقوام متحدہ بین الاقوامی امدادی تنظیموں یورپی ممالک اور عرب ممالک سے امداد کی اپیل کی ہے۔

 کشکلات میں ہی بڑی تعداد میں متاثرین نے امداد کی عدم فراہمی پر مظاہرہ کیا جس دوران سرکاری دفاتر میں توڑ پھوڑ بھی کی گئی۔ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کے گولے پھینکے اور لاٹھی چارج کیا ہے جس سے چار افراد بےہوش ہوگئے۔

کچکول علی ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت تو اس قدرتی آفات کی تباہ کاریوں کی خبریں ایسے چھپا رہی ہے جیسے بلوچستان میں فوجی کارروائی سے ہونے والی ہلاکتوں کو چھپایا جا رہا تھا۔

اس قبل ضلع خضدار کی تحصیل کرخ میں جمعہ کو ایک ہی خاندان کے چھ افراد ایک سیلابی ریلے میں بہہ گئے جس کے بعد صوبے میں حالیہ طوفان، بارشوں اور پھر سیلاب سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد کم سے کم اڑتالیس ہوگئی۔

ادھر تربت میں لوگوں نے جمعہ کو امداد نہ ملنے پر مظاہرہ کیا ہے اور سرکاری دفاتر میں توڑ پھوڑ کی ہے ۔

کرخ کے تحصیل ناظم لال جان بلوچ نے بتایا ہے کہ زہری کے قریب بند ٹوٹ جانے سے سیلابی ریلے ان کے علاقے کی طرف آئے ہیں جس سے مکانات بہہ گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دریائے مولہ میں طغیانی سے محمد لقمان نامی شخص بیوی اور چار بچوں سمیت ہلاک ہوئے ہیں جبکہ حکومت کے جانب سے ان کے علاقے میں کسی قسم کی امدادی کارروائیاں شروع نہیں کی گئیں۔

یاد رہے گزشتہ روز صوبائی وزیر جیل خانہ جات حبیب الرحمان محمد حسنی نے تصدیق کی تھی کہ پندرہ افراد سیلابی ریلے میں بہہ گئے ہیں جبکہ اس سے پہلے دو روز میں پسنی اور تربت سے قریباً اکیس افراد جبکہ ہرنائی اور گندھاوا سے تین، تین افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔

تربت میں کشکلات کے علاقے میں لوگ مکان بہہ جانے اور سیلابی پانی سے سخت مشکلات کا شکار ہیں۔ مقامی افراد کے مطابق علاقے میں پانی کی شدید قلت ہے اور بچے پیاس سے بےہوش ہو رہے ہیں۔ کشکلات میں ہی بڑی تعداد میں متاثرین نے امداد کی عدم فراہمی پر مظاہرہ کیا جس دوران سرکاری دفاتر میں توڑ پھوڑ بھی کی گئی۔ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کے گولے پھینکے اور لاٹھی چارج کیا ہے جس سے چار افراد بےہوش ہوگئے۔

گوادر سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق یونین کونسل سنگسر میں حالات انتہائی تشویشناک ہیں جہاں بڑی تعداد میں لوگ کھلے آسمان تلے گرمی میں پڑے ہیں جس سے بچے اور بڑے بیمار ہو رہے ہیں۔

حکومت کی طرف سے امدادی سرگرمیوں کے آغاز کا دعوٰی تو دو دن پہلے سے کیا جا رہا ہے لیکن بڑی تعداد میں لوگ تاحال سرکاری امداد سے محروم ہیں۔ گندھاوا سے مقامی صحافی رحمت اللہ نے بتایا ہے کہ علاقے میں دو ہیلی کاپٹر دیکھےگئے ہیں لیکن کوئی امداد فراہم نہیں کی جا رہی۔

تربت میں پولیس نے احتجاج کرنے والے متاثرین پر آنسو گیس پھینکی

ادھر خاران سے ضلعی ناظم نے بتایا ہے کہ ایک ڈیم ٹوٹ جانے سے پانی شہر کے اندر داخل ہو گیا ہے اور کئی دیہات زیر آب آگئے ہیں۔ مچھ شہر کے قریب پل گر جانے سے مچھ کا رابطہ کوئٹہ اور دیگر علاقوں سے منقطع ہو گیا ہے جبکہ مچھ میں قائم کوئلے کی کانوں میں کام کرنے والے مزدور پھنس گئے ہیں۔ مستونگ کے قریب کھد کوچہ کے مقام پر بھی سیلابی ریلے اور بارشوں سے شدید نقصانات ہوئے ہیں۔

بلوچستان کا سیلابی پانی جھل مگسی سے ہوتے ہوئے سندھ کی حدود میں داخل ہو چکا ہے۔ پانی کے شدید دباؤ کی وجہ سے سیلابی پانی سے بچاؤ کے لیے بنا ئے گئے فلڈ پروٹیکشن بند میں چار مقامات پر شگاف پڑ چکے ہیں۔ سکھر بیراج رائٹ بینک کے چیف انجینئر عطا محمد سومرو نے بی بی سی کو بتا یا ہے کہ ایف پی بند میں چار شگاف بند کرنے کے لیے فوج کی مدد طلب کی گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ آبپاشی کے صوبائی سیکریٹری نے متعلقہ فوجی حکام کو ایسی درخواست بھیج دی ہے۔ تاہم ابھی فوجی جوانوں نے شگاف بند کرنے کا کام تو شروع نہیں کیا لیکن چند فوجی افسران علاقے میں پہنچ گئے ہیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سیلابی پانی کی وجہ سے تحصیل قبو سعید خان کے تیس گاؤں زیر آب آگئے ہیں اور لوگوں نے نقل مقانی شروع کردی ہے۔ محکمۂ آبپاشی کے چیف انجینئر عطا سومرو کے مطابق ماضی میں بلوچستان سے کبھی بھی اتنی بڑی تعداد میں سیلابی پانی سندھ کی حدود میں داخل نہیں ہوا۔

بارش کے بعد بےگھر عورتبارش کے بعد ہیضہ
کراچی میں ہیضہ پھیلنے کا خطرہ
احمد علی شاہ کھارو چھان کا احوال
’سمندری طوفان کی کوئی اطلاع نہیں تھی‘
سمندری طوفان’قدرت کا انتقام‘
سمندری طوفان قدرت سے چھیڑ چھاڑ کا نتیجہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد