بلوچستان: 20ہلاک، ہزاروں بےگھر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان میں تربت، پسنی اورماڑہ اور ادھر جھل مگسی اور بولان میں طوفانِ باد و باراں اور سیلاب سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔ کم از کم بیس افراد کے ہلاک اور پندرہ ہزار سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ جب کہ بڑی تعداد میں لوگ مختلف مقامات پر پھنسے ہوئے ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ امدادی ٹیمیں تربت کی طرف روانہ کی گئی ہیں۔ تربت میں سولبند کے علاقے میں کچھ لوگ اٹھارہ گھنٹے سے ایک مسجد کی چھت پر پناہ لیے ہوئے ہیں جب کہ گندھاوا کے قریب بیس گھنٹے بعد کچھ لوگوں کو پانی سے نکال لیا گیا ہے۔ تربت شہر اور قریبی دیہاتوں میں ہر طرف پانی ہے، بڑی تعداد میں لوگ پھنسے ہوئے ہیں۔ میرانی ڈیم کی جھیل بھر جانے سے ڈیم کے قریب واقع دیہات خالی کر دیے گئے ہیں۔ دشت کے علاقے کو شدید خطرات لاحق ہیں جہاں کئی مکانات کو نقصان پہنچا ہے اور لوگ بے سرو سامانی کی حالت میں کھلے آسمان تلے پڑے ہیں۔
پسنی میں ستر افراد سیلابی ریلے میں پھنس گئے تھے جنہیں ماہی گیروں نے کشتیوں میں محفوظ مقام پر پہنچایا ہے۔ پسنی اورماڑہ کے قریب کئی دیہات پانی میں مکمل ڈوب گئے ہیں جہاں لوگوں نے درختوں اور اونچے ٹیلوں پر پناہ لے رکھی ہے۔ مند اور تربت کے درمیان بجلی کے درجنوں کھمبے بھی گر گئے۔ بلیدہ میں جنتری کور ڈیم کو خطرہ لاحق ہے۔ پنجگور شہر میں شدید بارشوں سے کئی مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔ تحصیل کرخ کے ناظم نے کہا ہے کہ بڑی تعداد میں لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ خضدار، قلات، زہری، گندھاوا، جھل مگسی اور بولان میں کئی علاقے زیر آب آگئے ہیں اور ایک ٹرک اور تین گاڑیوں کے بہہ جانے کی اطلاعات ہیں۔ بلوچستان کے بیشتر جنوبی اضلاع میں سڑکیں ٹوٹ چکی ہیں۔ پل بہہ گئے ہیں اور ڈیم کو خطرات لاحق ہیں لیکن دوسری جانب حکومت کی جانب سے تاحال امدادی کارروائیاں شروع نہیں ہو سکیں۔ اس بارے میں وزیر اعلی بلوچستان جام محمد یوسف نے کہا کہ چار ہیلی کاپٹر متاثرہ علاقوں کی طرف بھیج دیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے علاوہ بحری اور فضائی فوج کے حکام سے رابطے کیے گئے ہیں اور بلوچستان کور اس سلسلے میں کوششیں کر رہی ہے۔ موسم کی خرابی کی وجہ سے ہیلی کاپٹر اب تک امدادی کارروائیاں شروع نہیں کر پا رہے۔ کوئٹہ میں بلوچ طلباء نے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ صورتحال میرانی ڈیم کی ناقص منصوبہ بندی سے پیدا ہوئی ہے۔ ان طلباء نے کہا ہے کہ بلوچستان میں مبینہ فوجی کارروائی کے لیے سینکڑوں ہیلی کاپٹر موجود تھے لیکن اب امداد کے لیے ایک بھی ہیلی کاپٹر نہیں ہے۔ نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک نے کہا ہے کہ اتنی تباہی کے باوجود حکومت نے اب تک کوئی کارروائی شروع نہیں کی ہے۔ | اسی بارے میں طوفان اور بارشیں، ہزاروں لوگ بے گھر27 June, 2007 | پاکستان بارشوں سے تباہی اور ہلاکتیں25 June, 2007 | پاکستان بلوچستان: بارشوں کا سلسلہ شروع25 June, 2007 | پاکستان بلوچستان: بارشیں شروع ہوگئیں25 June, 2007 | پاکستان کراچی: بارش سے سینکڑوں ہلاک24 June, 2007 | پاکستان سرحد، کشمیر: بارشیں، بیس ہلاک20 March, 2007 | پاکستان شدید بارشوں سے 11 افراد ہلاک12 March, 2007 | پاکستان بارش سے سترہ ہلاک، 30 زخمی12 February, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||