BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 24 June, 2007, 06:58 GMT 11:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کراچی: بارش سے سینکڑوں ہلاک

کراچی میں طوفان
شہر بھر کے ہسپتالوں میں تاحال ایمرجنسی نافذ ہے

کراچی میں سنیچر کی شام تین گھنٹے تک جاری رہنے والے طوفانِ باد و باراں سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد دو سو سے زائد ہے۔ سندھ کی حکومت نے کہا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کے ورثاء اور زخمیوں کو فوری طور پر معاوضہ دیا جائے گا۔

بارشوں میں سائن بورڈ گرنے سے ہلاکتوں کے بعد حکومت نے شہر بھر میں آویزاں بڑے سائن بورڈ ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے اور کہا کہ اس پر فوری عمل کیا جائیگا، دوسری جانب شھر میں کے ای ایس سی کے تمام تر دعووں کے باوجود کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی بحال نہیں ہوسکی ہے۔

اس سے پہلے خبر رساں ادارے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے وزیر صحت سردار احمد نے بتایا تھا کہ ابتدائی طور پر تنتالیس افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی تھی تاہم اب ایک نجی ویلفیئر تنظیم نے مزید ایسے ایک سو پچاسی افراد کی لاشیں وصول کی ہیں جو بارش سے متعلقہ واقعات میں ہلاک ہوئے اور’ اب بارش سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 228 ہو چکی ہے‘۔

بی بی سی کے شعیب حسن کے مطابق مرنے والے زیادہ تر افراد کرنٹ لگنے سے ہلاک ہوئے۔ اس سے قبل ایدھی فاؤنڈیشن کے چیف رضاکار رضوان ایدھی نے بی بی سی اردو کو بتایا تھا کہ اتوار کی صبح تک ایدھی کے سرد خانے میں ایک سو پندرہ لاشیں پہنچائی گئی ہیں جن میں زیادہ تر طوفانِ باد و باراں کے دوران ہلاک ہوئے ہیں۔

شہر میں دس سے سترہ ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی

رضوان ایدھی کا کہنا تھا کہ یہ افراد دیواریں، سائن بورڈ اور درخت گرنے، کرنٹ لگنے اور سڑک حادثات میں ہلاک ہوئے جبکہ کچھ طبعی اموات بھی ہوئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ لاشیں شہر کے مختلف علاقوں، ہسپتالوں سے پہنچائی گئی ہیں جن میں کئی لاوارث بھی ہیں۔ رضوان ایدھی نے بتایا کہ بڑی تعداد میں لوگ ایدھی سرد خانہ پہنچ گئے ہیں جہاں وہ اپنے رشتہ داروں کی شناخت کر رہے ہیں۔

اس طوفان میں زخمی ہونے والے دو سو سے زائد افراد کو، جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں جناح، سول ، عباسی شہید اور سعود آباد ہسپتالوں میں داخل کروایا گیا ہے۔ زخمیوں میں سے کئی کی حالت تشویشناک ہے جبکہ تا حال ہسپتالوں میں ہنگامی حالت نافد ہے۔

طوفانِ باد و باراں کے بعد سڑکوں پر ابھی تک زندگی بحال نہیں ہوئی ہے۔ رات بھر شہری حکومت کا عملہ اہم شاہراہوں سے بارش کا پانی نکالنے میں مصروف رہا مگر شہر کے مصافاتی علاقوں سمیت کلفٹن، کنٹونمنٹ اور ڈیفنس کے کئی علاقے ابھی تک زیرِ آب ہیں۔ شہری حکومت کی جانب سے کئی مقامات پر ایمرجنسی سینٹر بھی قائم کیے گئے ہیں۔

ہورڈنگز سٹی حدود میں نہیں گرے
سٹی حکومت کی حدود میں کوئی بھی ہورڈنگز نہیں گرا جتنے بھی ہورڈنگز گرے ہیں وہ تمام کینٹونمنٹ کے علاقوں میں گرے ہیں
سٹی ناظم مصطفیٰ کمال

کراچی کے کئی علاقوں میں رات بھر بجلی کی فراہمی معطل رہی۔ بارش میں کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کے ٹرپ ہونے والے پینتیس گرڈ سٹیشنوں میں سے اکثر بحال کردیے گئے ہیں تاہم کچھ علاقوں میں بجلی کی فراہمی تاحال معطل ہے جس کے خلاف سنیچر کی رات اور اتوار کی صبح لوگوں نے احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔

کراچی میں بارش کے دوران ہلاک ہونے والوں میں کئی لوگ ایسے بھی تھے جو اپنی منزل کی طرف سفر کر رہے تھے کہ راستے میں ان کے اوپر درخت یا سائن بورڈ گر پڑے۔

شہر کی تمام اہم شاہراؤں پر لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے بڑے بڑے پبلسٹی سائن بورڈ آویزاں ہیں اور گزشتہ روز کی طوفانی بارش کے دوران یہ سائن بورڈ یا تو راہ گیروں پر گرے یا بجلی اور ٹیلی فون کی تاروں پر جس سے مواصلاتی نظام درہم برہم ہوگیا۔ گزشتہ سال ہونے والی بارش میں بھی اسی طرح درخت اور سائن بورڈ گرے تھے، جس کے بعد ان کے خلاف مہم شروع کی گئی تھی۔

سٹی ناظم مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ کراچی میں تیرہ ادارے ہیں جو شہر کا نظام چلا رہے ہیں اور وہ ان تمام کے بارے میں فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں رکھتے۔

ان کا کہنا تھا کہ سٹی حکومت نے ایک قانون پاس کیا تھا جس کے تحت سٹی حکومت کی حدود میں لگائی گئیں ہورڈنگس کا سائز کم کیا گیا اور سال بھر میں بتیس بڑی ہورڈنگز گرا دی گئیں۔

گزشتہ روز کی طوفانی بارش کے دوران یہ سائن بورڈ یا تو راہ گیروں پر گرے یا بجلی اور ٹیلی فون کی تاروں پر

ان کا کہنا تھا کہ بارش کے دوران سٹی حکومت کی حدود میں کوئی بھی ہورڈنگز نہیں گرا جتنے بھی ہورڈنگز گرے ہیں وہ تمام کینٹونمنٹ کے علاقوں میں گرے ہیں۔گزشتہ روز سندھ کے محکمۂ داخلہ کے مشیر وسیم اختر نے کہا تھا کہ گرنے والی تمام بڑی ہورڈنگز کے مالکان کے خلاف غفلت کا مقدمہ دائر کیا جائےگا۔

کراچی میں سنیچر کو سارا دن سخت گرمی اور گھٹن کے بعد شام کو ساڑھے چار بجے تیز ہواؤں کے ساتھ بارش کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔ ہوا اس قدر شدید تھی کہ کئی مقامات پر درخت، بجلی اور ٹیلیفون کے کھمبے اکھڑ کر سڑکوں پر آگرے، اس کے علاوہ بڑے سائن بورڈ بھی زمین بوس ہوگئے تھے۔

محکمۂ موسمیات کا کہنا ہے کہ شہر میں دس سے سترہ ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ محکمۂ موسمیات نے آئندہ اڑتالیس گھنٹوں میں مزید شدید بارش کی پیشین گوئی کی ہے۔ سندھ اور بلوچستان کے ماہی گیروں کوگہرے سمندر میں نہ جانے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد