BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 23 June, 2007, 17:17 GMT 22:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کراچی میں طوفانی بارش، 44 ہلاک

کراچی بارش
آئندہ اڑتالیس گھنٹوں میں مزید شدید بارش کی پیشین گوئی کی گئی ہے
سنیچر کو سندھ میں ہونے والی طوفانی بارش سے کراچی میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد کم سے کم چوالیس ہو گئی ہے جبکہ دو سو سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

کراچی میں سنیچر کو سارا دن سخت گرمی اور گھٹن کے بعد شام کو ساڑھے چار بجے تیز ہواؤں کے ساتھ بارش کا سلسلہ شروع ہوا۔ ہوا اس قدر شدید تھی کہ کئی مقامات پر درخت، بجلی اور ٹیلیفون کے کھمبے اکھڑ کر سڑکوں پر آگرے، اس کے علاوہ بڑے سائن بورڈ بھی زمین بوس ہوگئے۔

بارش کے دوران درخت، سائن بورڈ اور گھر کی دیواریں گرنے سمیت کرنٹ لگنے سے کم سے کم چوالیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں اور دو سو سے زائد زخمی ہیں، جو جناح، سول ، عباسی شہید اور سعود آباد ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ سر پر چوٹ لگنے کی وجہ سے کئی کی حالت تشویشناک ہے۔

صرف کراچی کے مضافاتی علاقہ گڈاپ کے مقام پر تیرہ افراد ہلاک ہوئے۔

صوبائی وزیر صحت سردار احمد نے ان ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ شہر بھر کی ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ ہے اور تمام ڈاکٹر اور سٹاف موجود ہے۔

محکمۂ موسمیات کا کہنا ہے کہ شہر میں دس سے سترہ ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ محکمۂ موسمیات نے آئندہ اڑتالیس گھنٹوں میں مزید شدید بارش کی پیشین گوئی کی ہے۔ سندھ اور بلوچستان کے ماہی گیروں کوگہرے سمندر میں نہ جانے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

بارش کی وجہ سے موصلات کا نظام درہم برہم ہوگیا، درخت اور سائن بورڈ گرنے سے شاہراہ فیصل، آئی آئی چندریگر روڈ سمیت کئی سڑکوں پر ٹریفک جام ہوگیا۔

کراچی بارش
شدید بارش سے کچھ علاقوں میں ٹریفک جام ہو گیا

بارش ہوتے ہی شہر اندھیرے میں ڈوب گیا تھا کیونکہ ستر فیصد گرڈ سیٹشن ٹرپ ہوگئے ہیں۔ کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کا کہنا ہے کہ باون میں سے پینتیس گرڈ اسٹیشن ٹرپ ہوگئی ہیں۔ کے ای ایس سی کے ترجمان سید سلطان کا کہنا ہے کہ تاروں پر سائن بورڈ اور درخت گرنے سے بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے۔

شہر سے ملحقہ دیہات اور کچی آبادیاں بارش کے بعد زیر آب آگئی ہیں۔اندرون سندھ حیدرآباد، ٹھٹہ، بدین، تھرپارکر اور دیگر علاقوں میں بھی بارش کی اطلاعات ہیں۔

اسی بارے میں
سندھ: سمندری طوفان، ایمرجنسی
23 September, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد