قہر برساتا سورج، متعدد ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی ایشیا ان دونوں شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے اور ہندوستان ، پاکستان اور بنگلہ دیش میں گرمی کی وجہ سے درجنوں لوگ ہلاک ہو رہے ہیں۔ اخباری اطلاعات کے مطابق پاکستان کے مختلف شہروں میں ایک ہفتے کے دوران کم از کم ستر افراد دم توڑ چکے ہیں۔ سورج مسلسل آگ برسا رہا ہے اور محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال جولائی کے پہلے ہفتے میں اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک مون سون ہوائیں پاکستان پہنچنے میں کامیاب نہیں ہو تیں۔ ملک کا گرم ترین شہر سرگودھا رہا جہاں درجہ حرارت انچاس اعشاریہ پانچ سیلسیئس تک چلا گیا۔ لاہور میں تین روز سےگرمی کی شدت برقرار ہے اور زیادہ سےزیادہ درجہ حرارت چھیالیس اعشاریہ دو سیلسیئس رہا۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں دس سال کےدوران شدید ترین گرمی پڑ رہی ہے اور درجہ حرارت چھیالیس سیلسیئس کی حد پار کر گیا ہے جو دس سال کے دوران ایک ریکارڈ ہے۔ چولستان میں پانی کے ذخائر کم ہوگئے ہیں کنوؤں میں پانی زیادہ گہرائی میں چلا گیا ہے اور جوہڑ خشک ہونا شروع ہوگئے ہیں جس کے بعد انسانوں اور جانوروں نے نقل مکانی شروع کر دی ہے۔ حالیہ گرمیوں میں کئی روز ایسے رہے ہیں جب بہاولنگر ملک کا گرم ترین شہر رہا۔بہاولنگر کے محلہ نظام پورہ کا رونگ و روغن کرنے والا ایک بوڑھا محنت کش کام کے دوران طبیعت خراب ہونے سے اپنے گھر پہنچ کر دم توڑ گیا۔ اس کے علاوہ مدنی کالونی میں ایک نوے سالہ شخص بھی گرمی کی تاب نہ لا کر چل بسا۔ محکمہ موسمیات کے حکام نے ہدایات جاری کی ہیں لوگ گھروں سے نکلتے ہوۓ احتیاط کریں۔ پنجاب کے مختلف شہروں سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق سڑک پر چلتے لوگ گر کر ہلاک ہوگئے۔ لاہور کے مختلف ہسپتالوں میں لو لگ جانے کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوگیا ہے۔ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ گھر سے خالی پیٹ نہ نکلا جائے اور ان دونوں زیادہ سے زیادہ پانی پیا جائے۔ لو کا شکار ہونے والوں میں زیادہ تعداد بچوں اور بوڑھے افراد کی ہے۔گرمی کی وجہ سے گھروں میں ائر کنڈیشنڈ،ائر کولر اور پنکھوں کا استعمال بڑھ گیا ہے جس سے بجلی کی کھپت میں اضافہ ہوا ہے جبکہ دباؤ زیادہ ہونے کی وجہ سے شہروں میں بجلی کی رو بار بار منقطع ہو رہی ہے جو گرمی سے پریشان لوگوں کے لیے مزید پریشانی کا سبب بن رہی ہے۔
لوگوں میں ٹھنڈے مشروبات کا استعمال بڑھ گیا ہے لاہور کے بیچ سے گذرنے والی نہر کے ٹھنڈے پانی میں نہانے والوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔ محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ گرمی کے دورانیہ میں اضافہ کا سبب مون سون میں تاخیر ہے۔محکمہ موسمیات کے ڈپٹی ڈائریکٹر اجمل شاد نے بی بی سی کو بتایاکہ عام طور مون سون کی مرطوب ہوائیں جون کے آخری پندرہ دن میں پاکستان تک پہنچ جاتی ہیں لیکن اس بار ایسا نہیں ہوا اور یہ اب جولائی کے پہلے ہفتے سے آنا شروع ہونگی۔ اس تاخیر کی وجہ انہوں نے بحیرہ عرب سے اٹھنے والے ایک درمیانے درجے کے طوفان کو قرار دیا اور کہا کہ اس طوفان نے بلوچستان میں گرمی کی شدت کو بڑھنے نہیں دیا جس سے کم دباؤ پیدا نہیں ہواجس نے مخالف سمت یعنی خلیج بنگال سے اٹھنے والی مون سون ہواؤں کو کھینچنا ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے مون سون کی ہوائیں ہندوستان کے وسط سے پہلے ہی دم توڑ جاتی ہیں اور دہلی اور راجھستان وغیرہ میں نہیں پہنچ پاتیں تاہم انہوں نے کہا کہ طوفان کا زور ٹوٹ گیا ہے اور اگلے ہفتے سے بلوچستان میں کم دباؤ پیدا ہونا شروع ہوجائےگا جو جولائی کے پہلے ہفتے سے بارشوں کا سبب بن جائے گا۔ محکمہ موسمیات نے پیشن گوئی کی ہے کہ لاہور سے راولپنڈی تک کے علاقے میں اگلے ایک دو روز تک گرمی کی شدت برقرار رہے گی۔ اڑتالیس گھنٹے بعد افغانستان اور ترکمانستان سے آنے والی مغربی ہوائیں ان علاقوں کے درجہ حرارت میں دو تین سلسئیس کی کمی کریں گی لیکن پھر بھی درجہ حرارت اکتالیس بیالیس سلسئیس سے نیچے نہیں آۓ گا۔تاہم محکمہ موسمیات کاکہنا ہے کہنا ہے کہ وسطی اور جنوبی پنجاب اور بالائی سندھ اور بلوچستان میں یہ مغربی ہوائیں کوئی فرق نہیں ڈالیں گی۔ محکمہ موسمیات نے تجزیہ کیا ہے کہ اس سال جولائی میں بارشیں پندرہ سے بیس فی صد کم ہونگی جبکہ اگست اور ستمبر میں پندرہ سے بیس فی صد زائد ہونگی۔ اس سال برفباری معمول سے زیادہ ہوئی ہے اور گرمی کی طوالت میں بھی اضافہ ہوا ہے جس سے پنجاب کے مخلتف دریاؤں میں سیلاب کی پیشن گوئی کی گئی ہے جبکہ دریاۓ سوات اور دریاۓ کابل پہلے ہی طغیانی کا شکار ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||