پاکستان:گرمی سے 32 ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے بیشتر میدانی علاقے ان دنوں شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں اور اخباری اطلاعات کے مطابق دو روز کے دوران کم ازکم تیس افراد گرمی کی وجہ سے جاں بحق ہوچکے ہیں۔ محکمہ موسمیات نے پیشنگوئی کی ہے کہ گرمی کی یہ لہر ابھی جاری رہے گی۔ محکمہ موسمیات کی رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ گرمی وسطی پنجاب کے علاقے سرگودھا میں پڑ رہی ہے جہاں درجہ حرارت سینتالیس سیلسیئس تک چلاگیا ہے۔لاہور میں اب تک کے موسم کاآج گرم ترین دن ہے یہاں درجہ حرارت چھیالیس اشاریہ دو ہے جو کل سے زیادہ ہے۔ اسلام آباد، جہلم، سیالکوٹ، پشاور، ڈیرہ اسماعیل خان میں درجہ حرارت پینتالیس سیلسیئس سے زیادہ رہا ہے۔ شدید گرمی کی وجہ سے دوپہر میں شہروں میں ٹریفک کا رش قدرے کم اور بازاروں کی رونقیں مانند نظر آتی ہیں۔
لاہور کے بیچ سے گزرنے والی نہر میں نہانے والے لڑکوں کا رش بڑھ گیا ہے جبکہ مختلف واٹر پارک بھی بھرے دکھائی دیتے ہیں۔ شہر میں جگہ جگہ گرمی کے پھل تربوز اور خربوزوں کے ڈھیر نظر آتے جوزیادہ خریداری کے باعث شام ہوتے تک کم ہوجاتے ہیں لیکن بعض مقامات پر رات کو بھی ان کی فروخت جاری رہتی ہے۔ ملک بھر میں تقریبا تمام تعلیمی ادارے گرمی کی وجہ سے بند ہیں اور سالانہ چھٹیاں جاری ہیں۔ لوگ پہاڑی علاقوں کا رخ کر رہے ہیں لیکن وہاں بھی معمول سے کچھ زیادہ درجہ حرارت ہے محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ پر فضا مقام مری میں بھی درجہ حرارت بتیس اعشاریہ پانچ ہوگیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے ڈپٹی ڈائریکٹر اجمل شاد نے بی بی سی کو بتایاکہ خلیج بنگال سے اٹھنے والی مون سون ہوائیں کمزور ہیں اور بھارت کے ساحلی علاقوں میں ہی دم توڑ جاتی ہیں اس لیے گرمی کی موجودہ لہر جولائی کے پہلے ہفتے تک جاری رہے گی۔ محکمہ موسمیات کا کہنا ہے سندھ کے مشرقی حصے اور پنجاب کے جنوبی علاقے ملتان ڈیرہ غازی خان اور بہاولپور بہاولنگر میں ہلکے بادل اور تیز ہواؤں کی وجہ سے درجہ حرارت میں کل کی نسبت کمی آئی ہے لیکن یہ عارضی ہے اور درجہ حرارت چالیس سینٹی گریڈ سے نیچے نہیں جاۓ گا۔ ادھر زیادہ درجہ حرارت کے باعث پہاڑوں پر برف پگھلنے کی مقدار میں اضافہ ہوا ہے جس سے دریاۓ کابل میں درمیانے درجے کاسیلاب آگیا ہے اور حکام نے دریا کے کنارے واقع بستیاں خالی کرنے کی ہدائت جاری کر دی ہے۔ محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ اس سال دریاۓ سندھ میں پانی مقدار ماضی کے چند سالوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||