بلوچستان طوفان، 40 کشتیاں غرق | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں گونو نام کے طوفان نے تباہی مچادی ہے جس سے چالیس کے لگ بھگ کشتیاں ڈوب گئی ہیں اور ڈیڑھ سو کشتیوں کو نقصان پہنچا ہے۔ گوادر سے مچھیروں نے بتایا ہے کہ فش ہاربر اور جے ٹی نہ ہونے کی وجہ سے صبح سویرے شدید طوفان سے ان کی متعدد کشتیاں ڈوب گئیں اور سینکڑوں کو نقصان پہنچا جب کہ انجن اور جال تباہ ہوگئے۔ بلوچستان کے دیگر ساحلی علاقے جیسے جیونی اور پسنی میں بھی مچھیروں کی املاک کو نقصان پہنچا ہے۔ کوئٹہ میں محکمہ موسمیات کے انچارج ضیاءالدین نے بتایا ہے کہ یہ سمندری طوفان بلوچستان کے ساحلی علاقوں کے قریب سے اٹھا ہے اور اس سے خلیجی ممالک کے ساحل بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جس طرح امریکہ میں طوفان کو قطرینہ کا نام دیا گیا اس طرح اس طوفان کو گونو کا نام دیا گیا ہے اور یہ طوفان آئندہ چوبیس گھنٹوں میں تھم جائے گا۔ ماہی گیروں نے بتایا ہے کہ حکومت گوادر کی ترقی اور گہرے پانی کی بندرگاہ کے دعوے تو بہت کر رہی ہے لیکن ماہی گیروں کے لیے کوئی فش ہاربر قائم نہیں کی گئی جس کی وجہ سے انہیں ہر سال نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ | اسی بارے میں سرحد: آندھی اور طوفان، تین ہلاک01 June, 2006 | پاکستان طوفان نے تباہی مچا دی: 11 ہلاک22 May, 2006 | پاکستان سندھ: ساحلی علاقوں میں طوفان 02 October, 2004 | پاکستان سمندری طوفان: خطرہ کم ہورہاہے10 May, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||