BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 09 June, 2007, 14:58 GMT 19:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان شدیدگرمی کی لپیٹ میں

لاہور
لاہور کے شہریوں کی بڑی تعداد نہر پر نہانے میں مصروف رہی

پاکستان کے میدانی علاقے ان دنوں شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں۔ لاہور میں زیادہ سے زیادہ درجۂ حرارت کا اٹھہتر برس پرانا ریکارڈ برابر ہوگیا ہے جبکہ لاڑکانہ میں گرمی کا گیارہ برس پرانا ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے۔

محکمۂ موسمیات کی رپورٹ کے مطابق لاڑکانہ، میانوالی اور سبی میں سنیچر کو زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت اکیاون ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا اور اس طرح لاڑکانہ کے علاقہ میں گیارہ برس پرانا گرمی کا ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے۔ انیس سو چھیانوے میں لاڑکانہ میں سب سے زیادہ درجہ حرارت پچاس ریکارڈ کیا گیا تھا ۔

سرگودھا اور بنوں میں درجہ حرارت پچاس، نواب شاہ اور جیکب آباد میں انچاس سینی گریڈ تک رہا۔لاہور کے علاوہ ملتان ، فیصل آباد ،بھکر ،جوہر آباد، نور پور تھل ،ڈیرہ غازی خان اور ڈیرہ اسماعیل خان میں درجہ حرارت اڑتالیس سینٹی گریڈ تک جا پہنچا ہے۔

شدت بڑھ سکتی ہے
 محکمہ موسمیات نے پیشنگوئی کی ہے کہ گرمی کی موجودہ لہر آئندہ تین سے چار روز تک جاری رہے گی بلکہ اس کی شدت میں اضافہ بھی ہوسکتا ہے ۔

محکمۂ موسمیات کے چیف میٹرولوجسٹ شوکت علی اعوان نے بی بی سی کو بتایا کہ آٹھ جون انیس سو انتیس کو لاہور میں درجہ حرارت اڑتالیس سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا تھا اور اگر ایک دو روز کے اندر ہوا نہ چلی تو پھر لاہور کا اٹھہتر برس پرانا ریکارڈ ٹوٹ سکتا ہے۔

شوکت علی اعوان کے مطابق’گرمی کی وجہ جنوب کی جانب سے آنے والی گرم ہوائیں ہیں۔یہ ہوائیں چولستان،تھر کے ریگستانوں سے ہوکر پہنچ رہی ہیں اور سخت گرم اور خشک ہیں‘۔

انہوں نے بتایا کہ گرمی بڑھ جانے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ’اس بار جون کے مہینے میں مسلسل گرمی پڑتی رہی، نہ بارش ہوئی، نہ بادل آئے اور نہ ہوا چلی جس کی وجہ سے بتدریج گرمی میں اضافہ ہوتا چلا گیا‘۔

محکمہ موسمیات کی رپورٹ کے مطابق پشاور میں درجہ حرارت چھیالیس ،اسلام آباد میں پینتالیس، کراچی اور کوئٹہ میں سینتیس سینٹی گریڈ تک ریکارڈ کیا گیا۔

گرمی کی حالیہ شدید لہر کی وجہ سے لوگوں کی معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوئے ہیں اور ملک کی اہم اور بڑی مارکیٹیں میں ویران رہیں جبکہ کئی شہروں میں لوگوں گرمی کی وجہ سے بے ہوش ہوگئے۔

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ شدیدگرمی زراعت کے لیے فائدہ مند ہے اور اس سے تربوز اور خربوزے کی مٹھاس میں اضافہ ہوگا۔ گرمی سے فصلوں کو لگنے والے کیڑے کا خاتمہ ہو جائے گااور زمین کی زرخیزی بڑھے گی۔

اسی بارے میں
بدترین خشک سالی کا خطرہ
08 May, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد