شمالی ہند شدید لُو کی لپیٹ میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شمالی ہندوستان آج کل شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے۔ گزشتہ چند روز سے جاری زبردست گرمی اور لو سے شمال مغربی علاقوں میں تقریباً پینتیس افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ محکمہ موسمیات کا کہنا ہے آئندہ چند روز میں گرمی اور لُومیں مزید اضافہ کا امکان ہے۔ محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر بی پی یادو نے بی بی سی کوبتایا ہے کہ جون کی ابتداء ہی سے حدت میں اضافہ ہونا شروع ہوا تھا اور فی الوقت شمال مغربی علاقوں میں اوسطاً بیالیس سے چوالیس ڈگری تک درجہ حرارت ہے۔’ اس کی وجہ یہ ہے کہ کئی دنوں سے گرج دار طوفانی ہواؤں کے ساتھ بارش کی بوچھاریں نہیں آئی ہیں اور فی الوقت شمال مغرب کی طرف سے ہوا چل رہی ہے جس سےگرمی میں اضافہ ہوا ہے۔‘
ایک سوال کے جواب میں مسٹر یادو نے کہا کہ ابھی سے شمال اور مرکزی حصوں میں مون سون کے متعلق کچھ نہیں کہا جا سکتا۔’ آئندہ چند روز تک درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہےگا اور اس میں جلدی کمی آنے کا امکان نہیں ہے۔‘ لو سے زیادہ اموات ریاست اتر پردیش میں ہوئی ہیں جہاں ایک تخمینے کے مطابق پچیس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ گزشتہ روز لکھنؤ میں درجہ حرارت چوالیس ڈگری تک پہنچ گيا تھا۔ راجستھان میں چار اور پنجاب میں پانچ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ ان ریاستوں کے بیشتر حصوں میں درجہ حرارت معمول سے چار یا پانچ ڈگری زیادہ چل رہا ہے۔ دارالحکومت دلی میں بھی زبردست گرمی پڑ رہی ہے۔ ایسے موسم میں دلی میں لوڈ شیڈنگ ایک عام بات ہے جس سے عوام کودوہری پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دلی میں مستقل تین روز سے رات کے گیارہ بجے تک جھلستی ہوئی لو چل رہی ہے۔
جنوبی ہندوستان میں مون سون پہنچ چکا ہے اور کیرلا، مہاراشٹر اور آندھرا پردیش کے کئی علاقوں میں بارشیں شروع ہوگئی ہیں جس سے درجہ حرارت بھی کم ہوا ہے۔ | اسی بارے میں شمالی انڈیا میں گرمی کی لہر07 May, 2006 | انڈیا سوا سو سے زیادہ گرمی سےہلاک20 June, 2005 | انڈیا شمالی انڈیا میں شدیدگرمی01 May, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||