BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 27 June, 2007, 05:06 GMT 10:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
طوفان اور بارشیں، ہزاروں لوگ بے گھر

سمندری طوفان
کئی مقامات پر سڑکوں کو نقصان پہنچا ہے
بلوچستان میں یمین طوفان کے بعد شدید بارشوں اور سیلابی ریلوں سے کوئی پندرہ سے بیس ہزار لوگ بے گھر ہو گئے ہیں، جبکہ بعض علاقوں سے ہلاکتوں کی اطلاعات بھی ہیں۔

صوبائی حکومت کے ترجمان رازق بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان حکومت نے وفاق سے مدد کی اپیل کی ہے اور اس سلسلے میں نقصانات کا اندازہ لگانے کے لیے جلد ہی ایک ٹیم متاثرہ علاقوں کا فضائی دورہ کرے گی۔



سیلاب اور بارشوں سے نقصانات کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے آٹھ اضلاع سے آنے والی اطلاعات کے مطابق پندرہ سے بیس ہزار افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔

میرانی ڈیم کے قریب دس کے لگ بھگ دیہاتوں کے لوگ مختلف مقامات کی جانب منتقل ہو گئے ہیں، جبکہ بلیدہ میں جنتری کور ڈیم اور تربت میں ایک چھوٹے ڈیم کے ٹوٹنے کا خدشہ ہے۔

امدادی کاروائیاں
 بلوچستان کے بیشتر جنوبی اضلاع میں لوگوں میں خوف پایا جاتا ہے جہاں بڑی تعداد میں لوگ بے گھر ہو گئے ہیں جبکہ سرکاری سطح پر کسی قسم کی امدادی کارروائیاں شروع نہیں کی جا سکی ہیں

تربت مند تمپ بلیدہ اور دیگر علاقوں میں ایسے مقامات ہیں جہاں چاروں طرف پانی پھیل چکا ہے اور بڑی تعداد میں لوگ پھنسے ہوئے ہیں۔

ادھر خضدار، قلات، زہری کرخ، جھل مگسی اور گندھاوا میں سیلابی ریلوں سے کئی دیہات زیر آب آگئے ہیں اور سینکڑوں مکانات منہدم ہو چکے ہیں۔ کرخ کے قریب ایک بس پانی میں پھنسی ہوئی ہے جبکہ ایک شخص پانی کے ریلے میں بہہ گیا ہے۔

گندھاوا کے قریب کچھ لوگوں نے ایک ٹیلے پر پناہ لے رکھی ہے جن کے چاروں طرف سیلابی پانی کا ریلہ گزر رہا ہے۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ وہاں موجود لوگوں نے سیلابی ریلوں میں کم از کم تین افراد کی لاشیں دیکھی ہیں، لیکن سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں ہو رہی۔

ادھر ساحلی علاقوں میں طوفان سے اورماڑہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جہاں درجن سے زیادہ مکانات گر گئے ہیں جبکہ سیکڑوں مکانات کو نقصان پہنچا ہے اور دس کشتیاں ڈوب گئی ہیں۔

پسنی سے یونین کونسل کے ناظم عزیز پیر بخش نے بتایا ہے کہ شادی کور اور سنزئی ندی میں ظغیانی سے پانی شہر میں آ گیا ہے۔ ان کے مطابق پانی گرڈ سٹیشن اور شہر کے بڑے رہائشی علاقوں میں پانی داخل ہو گیا ہے۔

فائل فوٹو
گوادر، پسنی اور اورماڑہ میں وقفے وقفے سے بارش ہو رہی ہے

مکران ڈویژن کے شہر مند تمپ کے علاوہ لسبیلہ میں بھی شدید بارشوں سے سیلابی ریلے آئے ہیں۔

بلوچستان کے بیشتر جنوبی اضلاع میں لوگوں میں خوف پایا جاتا ہے جہاں بڑی تعداد میں لوگ بے گھر ہو گئے ہیں جبکہ سرکاری سطح پر کسی قسم کی امدادی کارروائیاں شروع نہیں کی جا سکی ہیں۔

کوئٹہ میں محکمۂ موسمیات کے حکام نے بتایا تھا کہ سمندری طوفان یمین بلوچستان کے ساحل سے ٹکرا گیا ہے لیکن زمین سے ٹکراتے وقت اس کی شدت کافی کم ہو چکی تھی۔

طوفانِ باد و باراں
کراچی میں گرمی کے بعد طوفانی بارش اور ہلاکتیں
ایدھی فاؤنڈیشن کراچی: ایدھی بے بس
مسلح افراد نے گھنٹوں لاشیں نہیں اتارنے دیں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد