ہورڈنگ ہٹانے کے لیے کہا تھا: گورنر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ کے گورنر عشرت العباد نے کہا کراچی میں بارش سے چھیاسٹھ افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ ابھی مزید اعداد و شمار آ رہے جن میں ایدھی سنٹر کی طرف سے فراہم کردہ اعداد و شمار بھی شامل ہیں لیکن ان کی ابھی تصدیق نہیں ہوئی۔ اس سے قبل ایدھی فاؤنڈیشن کے چیف رضاکار رضوان ایدھی نے بی بی سی اردو کو بتایا تھا کہ اتوار کی صبح تک ایدھی کے سرد خانے میں ایک سو پندرہ لاشیں پہنچائی گئی ہیں جن میں زیادہ تر طوفانِ باد و باراں کے دوران ہلاک ہوئے ہیں۔ گورنر نے اتوار کی رات کو بی بی سی اردو سروس کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ طوفان سے بہت زیادہ نقصان ہوا جس میں سائین بورڈ، کھمبے اور درخت گِر گئے۔ انہوں نے کہا کہ بارش کی وجہ سے بجلی کا بحران بھی پیدا ہوا جس کی وجہ سے لوگوں نے غصے کا اظہار کیا اور کہیں کہیں ہنگامہ آرائی بھی ہوئی، لیکن یہ بجلی کا مسئلہ بارش شروع ہونے سے پہلے جاری تھا۔ گورنر سندھ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ کراچی میں ایک درجن سے زیادہ ایجنسیاں بڑے اشتہاری بورڈ لگانے کی مجاز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال بڑے بورڈوں کو ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور آج بھی کہا گیا ہے اور جہاں کسی بورڈ کے گرنے کی وجہ سے نقصان ہوا ہے تو اس سلسلے میں مقدمات درج ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہلاک ہونے والوں کے لواحقین اور زخمیوں کو حکومت فوری طور پر معاوضہ ادا کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ سڑکوں سے طوفان کے دوران گرنے والی رکاوٹیں ہٹا دی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جتنے بھی بورڈ اور درخت گرے تھے انہیں ہٹانے میں تیزی سے کام لیا گیا۔ شہر کی تمام اہم شاہراؤں پر لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے بڑے بڑے پبلسٹی سائن بورڈ آویزاں ہیں اور گزشتہ روز کی طوفانی بارش کے دوران یہ سائن بورڈ یا تو راہ گیروں پر گرے یا بجلی اور ٹیلی فون کی تاروں پر جس سے مواصلاتی نظام درہم برہم ہوگیا۔ گزشتہ سال ہونے والی بارش میں بھی اسی طرح درخت اور سائن بورڈ گرے تھے، جس کے بعد ان کے خلاف مہم شروع کی گئی تھی۔ کراچی میں سنیچر کو سارا دن سخت گرمی اور گھٹن کے بعد شام کو ساڑھے چار بجے تیز ہواؤں کے ساتھ بارش کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔ ہوا اس قدر شدید تھی کہ کئی مقامات پر درخت، بجلی اور ٹیلیفون کے کھمبے اکھڑ کر سڑکوں پر آگرے، اس کے علاوہ بڑے سائن بورڈ بھی زمین بوس ہوگئے تھے۔ محکمۂ موسمیات کا کہنا ہے کہ شہر میں دس سے سترہ ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ محکمۂ موسمیات نے آئندہ اڑتالیس گھنٹوں میں مزید شدید بارش کی پیشگوئی کی ہے۔ سندھ اور بلوچستان کے ماہی گیروں کوگہرے سمندر میں نہ جانے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ | اسی بارے میں کراچی میں طوفانی بارش، 44 ہلاک23 June, 2007 | پاکستان سیلاب و آسمانی بجلی سے 16 ہلاک16 June, 2007 | پاکستان پاکستان شدیدگرمی کی لپیٹ میں 09 June, 2007 | پاکستان پاکستان:’سنگین‘ موسمیاتی تبدیلیاں11 June, 2007 | پاکستان صوبہ سرحد: شدید طوفان، ’19 ہلاک‘18 May, 2007 | پاکستان کشمیر: تودہ گرنے سے آٹھ افراد ہلاک22 March, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||