BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 26 June, 2007, 00:46 GMT 05:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’سائیکلون یمین بلوچستان سےٹکرائےگا‘

طوفان کی پیش گوئی
طوفان کراچی کے ساحل سے اسیّ کلومیٹر کے فاصلے سے گزرے گا
پاکستان کے محکمۂ موسمیات کے ایک سینیئر ڈائریکٹر نے کہا کہ بحیرۂ میں چلنے والا طوفان کراچی کے قریب سے گزرتا ہوا بلوچستان کے ساحلی علاقوں سے ٹکرائے گا۔

متوقع طوفان کی وجہ سے گوادر اور پسنی سے لوگ محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہوگئے ہیں جبکہ جنوبی بلوچستان میں گندھاوا شہر میں سیلابی پانی داخل ہو گیا ہے۔

گوادر پسنی اور اورماڑہ میں وقفے وقفے سے بارش ہو رہی ہے اور تیز ہوآئیں چل رہی ہیں جبکہ سمندر میں اُونچی اُونچی لہریں موجود ہیں۔

پسنی سے آمدہ اطلاعات کے مطابق طوفان پیشگوئی اور اعلانات کے بعد بڑی تعداد میں لوگوں نے مغربی جانب ریت کے ٹیلوں پر پناہ لے لی ہے۔ ایک یونین کونسل کے ناظم پیر بخش نے بتایا کہ لگ بھگ اسی فیصد لوگ شہر چھوڑ کر محفوظ مقامات کی طرف چلے گئے ہیں اور ان کی مدد کے لیے پولیس کی صرف تین گاڑیاں موجود تھیں باقی ادارے اور تنظیمیں کہیں نظر نہیں آرہی تھیں۔

گوادر سے مقامی صحافی بہرام بلوچ نے بتایا کہ سمندر کے قریب آباد لوگوں نے شہر کے مضافات میں کوۂ باطل پر پناہ لے لی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ گوادر شہر مکمل طور پر خالی ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کہیں کہیں اب بھی لوگ گھروں میں موجود ہیں اور حالات کا جائزہ لے رہے ہیں۔

طوفان
سنیچر کے طوفان نے یہ راستہ اختیار کیا

اس کے علاوہ ادھر جنوبی بلوچستان کے ضلع جھل مگسی کی تحصیل گندھاوا میں پانی شہر کے اندر داخل ہو گیا ہے۔ کوئٹہ میں قائم ایمر جنسی سیل کے حکام نے بتایا ہے کہ انہیں فی الحال ابتدائی اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ مکانوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ جبکہ گدھاوا سے مقامی صحافی رحمت اللہ نے بتایا ہے کہ کئی دیہات زیر آب آچکے ہیں اور کچے مکانات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

اس سے قبل سینیئر ڈائریکٹر حضرت میر نے منگل کی پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق صبح تقریباً پانچ بجے بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ طوفان کراچی سے ایک سو کلومیٹر کے فاصلے پر ہے اور شمال مغرب کی طرف بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یمین نامی یہ طوفان بلوچستان کے ساحلی علاقوں سے ٹکرائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس کا اثر کراچی میں بھی ہوگا لیکن یہ شہر کو ’ہِٹ‘ نہیں کرے گا۔ کراچی میں بارش بھی ہوگی اور ہوا بھی چلے گی۔ کراچی میں ہواؤں کی رفتار چالیس سے اسّی ناٹ فی گھنٹہ ہو سکتی ہے۔

بحیرہ عرب میں گرمی
 ماہرین کے مطابق اس سال خلاف معمول بحیرہ عرب زیادہ گرم رہا۔ معمول کے مطابق موسم گرما میں سب سے زیادہ گرم خلیج بنگال رہتا ہے۔اس وجہ سے پانی کے بھاپ بن کر اڑنے کا عمل زیادہ شدت سے جاری ہے اور غیر معمولی موسم کو جنم دے رہا ہے۔
ممکنہ نقصان کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بعد دوپہر یہ بلوچستان کے علاقوں پسنی، گودار، جیوانی اور نشیبی علاقوں میں ’ہِٹ‘ کر سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ محکمۂ موسمیات نے بلوچستان کے نشیبی علاقوں کو خالی کروانے کہ لیے کہہ دیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یمین خلیجِ بنگال میں پیدا ہوا اور انڈیا کی ریاست گجرات سے ہو کر بحیرۂ عرب میں پہنچا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ مونسون سے پہلے اس طرح کے طوفان بنتے رہتے ہیں لیکن اس بار یہ کراچی کے بالکل قریب آ گیا ہے۔ اگلے چوبیس گھنٹوں کے دوران کراچی میں اس طوفان کی وجہ سے مزید بارش ہو گی۔

ممکنہ ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے فوج کو الرٹ کردیا گیا ہے اور ساحلی علاقے کے مکینوں کو مکان خالی کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ حکومت سندھ کے مطابق ساحلی علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منقتل کیا جا رہا ہے۔

ماہرین موسمیات کے مطابق سندھ اور بلوچستان کے ماہی گیروں کو اگلے تین روز تک سمندر کا رخ نہ کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔

سندھ کے صوبائی مشیر داخلہ وسیم اختر کے مطابق سمندر کے قریب علاقوں سے لوگوں کو ہٹایا جارہا ہے اور ان کی رہائش کے لئے اسکولوں میں انتظامات کئے گئے ہیں۔ ساحل کو تفریح کے لیے بند کردیا گیا ہے۔

ٹھٹھہ اور بدین کے اضلاع میں شدید بارشوں کے پیش نظر رینجرز نے کیمپ لگا لیے ہیں۔

اس سے قبل طوفانی بارش کے تین روز بعد زندگی معمول پر لوٹ رہی تھی مگر طوفان کی پیشگوئی کے بعد لوگوں میں خوف کی فضا چھائی ہوئی ہے۔

برطانیہ کی لیورپول یونیورسٹی سے وابستہ ماہر موسمیات محمد حنیف کے مطابق یہ طوفان جن علاقوں کے پاس سے گزرے گا، وہاں ایک سو سے ایک سو پچاس کلومیٹر کی رفتار سے ہوائیں چلیں گی۔

بدھ کو جیوانی گوادر اور پسنی سمیت بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں شدید بارش ہوگی۔ اندرون بلوچستان بھی موسلادھار بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ جس سے بلوچستان کے ندی نالوں میں طغیانی اور سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

رواں موسم کے دوران یہ بحیرہ عرب میں پیدا ہونے والا دوسرا سمندری طوفان ہے۔ اس سے قبل جون کے پہلے ہفتے میں اسی قسم کے ایک طوفان نے عمان میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلائی تھی۔ عمان بھی اس طوفان کی زد میں آئے گا۔

تباہی
کئی علاقوں میں ابھی تک بجلی غائب ہے

برطانیہ کے ہیڈلے سیٹر کے ماہرین نے جنوری میں پیش گوئی کی تھی کہ دو ہزار سات تاریخ کا گرم ترین سال ہو سکتا ہے۔

اس سے قبل، انیس سو نواسی گرم ترین سال کہا جاتا ہے۔ ہیڈلے سینٹر لندن کی پیش گوئیاں عموماً ستر فیصد درست ثابت ہوتی ہیں۔ بحیرہ عرب میں بننے والے ان غیر معمولی طوفانوں کی وجہ گلوبل وارمنگ یا عالمی حدت میں اضافہ بتایا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس سال خلاف معمول بحیرہ عرب زیادہ گرم رہا۔ معمول کے مطابق موسم گرما میں سب سے زیادہ گرم خلیج بنگال رہتا ہے۔اس وجہ سے پانی کے بھاپ بن کر اڑنے کا عمل زیادہ شدت سے جاری ہے اور غیر معمولی موسم کو جنم دے رہا ہے۔

طوفانِ باد و باراں
کراچی میں گرمی کے بعد طوفانی بارش اور ہلاکتیں
ایدھی فاؤنڈیشن کراچی: ایدھی بے بس
مسلح افراد نے گھنٹوں لاشیں نہیں اتارنے دیں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد