BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 25 June, 2007, 09:57 GMT 14:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
طوفان کےبعد زندگی معمول کی طرف

کراچی میں طوفان کے بعد ہلاکتیں
مختلف اندازوں کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی کل تعداد دو سو سے زائد ہے
کراچی میں بارش کی تباہ کاریوں کے تیسرے دن آج شہر میں کاروبارِ زندگی بحال ہوگیا ہے۔ سڑکوں پر ٹریفک معمول کے مطابق رواں دواں ہے جبکہ شہر کے کئی علاقوں میں پانی اور بجلی کی فراہمی اب تک معطل ہے۔

ایدھی کے سرد خانے میں موجود چالیس لاشوں کی تاحال شناخت نہیں ہوسکی ہے۔

ایدھی کے عملدار انور کاظمی نے بی بی سی کو بتایا کہ لاشوں کی حالت بہت خراب ہے اور ان کے جسموں پر لگے زخم کی وجہ سے ان سے تعفن اٹھ رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ شام تک ان کی تدفین کردی جائےگی کیونکہ ان لاشوں کو مزید نہیں رکھا جاسکتا۔

انہوں نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں اکثریت بڑی عمر کے لوگوں کی ہے۔ ان کے پاس اس سے پہلے اتنی تعداد میں لاشیں نہیں آئی ہیں اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ہلاکتیں بارش اور اس کے نتیجے میں ہونے والی تباہ کاریوں کی وجہ سے ہوئی ہیں۔

انور کاظمی نے بتایا کہ انہیں تمام لاشیں ہسپتالوں اور پولیس کے ذریعے ملیں۔

سائن بورڈ گرنے سے ہلاکتوں کے بعد حکومت نے بڑے سائن بورڈ ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے

دوسری جانب آج تیسرے روز شہر میں بازار کھل گئے ہیں مگر پانی اور بجلی کی فراہمی اب تک معطل ہے اور سہراب گوٹھ، لانڈھی، ناظم آباد اور شاہراہ فیصل پر لوگوں نے بجلی کی معطلی کے خلاف احتجاج بھی کیا ہے۔

کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کے ترجمان سید سلطان احمد نے احتجاج کی اطلاعات کو رد کرتے ہوئے بتایا کہ نوے فیصد علاقوں میں بجلی بحال کی جاچکی ہے۔ تاہم ایسے علاقے جہاں کھمبے گرگئے ہیں، وہاں کام جاری ہے کیونکہ کھمبوں کی دوبارہ تنصیب میں چوبیس گھنٹے لگتے ہیں۔

کراچی واٹر بورڈ کے ترجمان قدیر احمد صدیقی کا کہنا ہے کہ پیر کی صبح تک صورتحال میں بہتری آئی ہے۔ شہر میں پانچ سو پانچ ملین گیلن پانی فراہم کیا جاتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بارش کے بعد سے گزشتہ شب تک بجلی کے بریک ڈاؤن کی وجہ سے حب اور گھارو کے پلانٹس سے پانی کی فراہمی بند ہوگئی تھی جس کے باعث گلبرگ، نارتھ ناظم آباد، جمشید ٹاؤن، لیاقت آباد ٹاؤن، کیماڑی ٹاؤن، اورنگی، بلدیہ اور سائٹ کے علاقوں میں پانی کی فراہمی ممکن نہیں ہو سکی۔

سندھ اور بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں گرج چمک کیساتھ بارش کا امکان ہے

شہر میں ہزاروں ٹیلیفون بھی خراب ہوگئے ہیں تاہم پی ٹی سی ایل کے ترجمان کا کہنا ہے کہ معمولی نوعیت کی شکاتیں ملی ہیں کوئی بڑا فالٹ نہیں ہوا ہے۔

دوسری جانب محکمہ موسمیات کا کہنا ہے آئندہ چوبیس گھنٹوں میں کراچی سمیت سندھ اور بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ درمیانے درجے کی بارش کا امکان ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بارش کے دوران تیس ناٹس فی گھنٹے کی رفتار سے ہوائیں بھی چلیں گی اور ان کی رفتار میں اضافہ بھی ممکن ہے۔

محکمہ موسمیات کراچی کے ماہر نعیم شاہ کا کہنا تھا کہ ہواؤں میں تیزی کی وجہ سے سمندر میں تین فٹ تک کی لہریں اٹھیں گی اس لیے ماہی گیروں کو سمندر میں جانے سے روکا گیا ہے۔

دوسری طرف سنیچر کو طوفان سے سب سے زیادہ نقصان گڈاپ ٹاؤن میں ہوا جس کے ناظم مرتضی بلوچ نے بتایا کہ وہاں کل بائیس لوگ ہلاک ہوئے ہیں اور ایک ہزار گھروں کی چھتیں یا دیواریں گری ہیں۔ مختلف اندازوں کے مطابق کراچی میں ہلاک ہونے والوں کی کل تعداد دو سو سے زائد ہے۔

مرتضیٰ بلوچ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے خیموں کا بندوبست کیا ہے لیکن کوئی وہاں آنے کو تیار نہیں۔ انہوں نے کہا پورے گڈاپ ٹاؤن میں بجلی بند ہے جس کی وجہ سے ٹیوب ویل بھی بند ہیں جس سے پینے کا پانی نہیں مِل رہا۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً بیس کروڑ کا نقصان ہو چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گورنر سندھ نے بتایا تھا کہ ان کے علاقے میں مدد بھیجی جائے گی لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔

سمندری طوفان نے سندھ کے ساحلی علاقوں میں بھی نقصان پہنچایا ہے جہاں بڑی تعداد میں کچے مکانات اور پولٹری فارم تباہ ہو گئے ہیں اور کچھ اموات کی بھی اطلاعات ہیں۔

سنیچر کو ساٹھ ناٹس فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والے طوفان نے ٹھٹہ کے ساحلی علاقوں کیٹی بندر اور کھارو چھان میں ماہی گیروں کے کچے گھر تباہ کردیے۔

سنیچر کو طوفان سے سب سے زیادہ نقصان گڈاپ ٹاؤن میں ہوا ہے

ساکرو سے ایک شہری شفیع موگر نے بتایا کہ کیٹی بندر میں ایک کشتی ڈوبنے سے ایک ہی خاندان کے تین افراد سمیت چار لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔

ساحلی علاقوں میں پچاس فیصد کچے مکانات گرچکے ہیں، کئی کشتیاں ٹوٹ گئیی ہیں اور ماہی گیروں کے جال سمندر میں بہہ گئے ہیں۔

ساحلی علاقوں میں بڑی تعداد میں پولٹری فارم اور پان کے باغات ہیں جن کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

شہروں سے دور چھوٹے جزیروں میں رہنے والے ماہی گیروں کا رابطہ شہر سے منقطع ہوگیا ہے اور کھانے پینے کی اشیاء کی قلت ہو گئی ہے۔

واضح رہے کہ انیس سو نانوے میں ساحلی علاقوں میں آنے وانے طوفان نے شدید تباہی پھیلائی تھی۔ حکومت کی جانب سے ریلیف کے لیے تاحال کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔

دوسری جانب سندھ کے ریلیف کمشنر انوار حیدر کا کہنا ہے کہ کراچی میں بارش میں ہلاک ہونے والوں کے ورثاء کو معاوضہ دیا جائےگا۔ انہوں نے بتایا کہ شہری حکومت کی جانب سے اڑسٹھ ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے تاہم ابھی سروے جاری ہے جو جیسے ہی مکمل ہوگا، متاثرہ خاندان کے کفیل کو ایک لاکھ روپے اور باقی کو پچاس ہزار روپے معاوضہ دیا جائےگا۔ گرنے والے مکانات کا معاوضہ دینے پر بھی غور کیا جاسکتا ہے۔

طوفانِ باد و باراں
کراچی میں گرمی کے بعد طوفانی بارش اور ہلاکتیں
کراچیسائن بورڈ گر گئے
عوامی مقامات پر تحفظ کس کی ذمہ داری ہے؟
ایدھی فاؤنڈیشن کراچی: ایدھی بے بس
مسلح افراد نے گھنٹوں لاشیں نہیں اتارنے دیں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد