کراچی: بجلی کا بحران شدید تر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی کو ایک مرتبہ پھر بجلی کی فراہمی میں شدید کمی کا سامنا ہے اور طویل لوڈشیڈنگ کی وجہ سے شہر کے مختلف علاقوں میں لوگوں نے احتجاج کیا ہے جس دوران گاڑیوں پر پتھراؤ بھی کیا گیا۔ جمعرات کو مظاہرین نے شہر کی مصروف شاہراہ عبداللہ ہارون روڈ رکاوٹیں کھڑی کر کے بلاک کر دی جبکہ بدھ کی شب اختر کالونی، قیوم آباد اور تین ہٹی کے علاقوں میں احتجاج کے دوران ایک پولیس چوکی کو نذر آتش کر دیاگیا تھا جبکہ کچھ ریستورانوں پر پتھراؤ بھی کیا گیا۔ کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کا کہنا ہے کہ واپڈا نے بجلی کی سپلائی میں ایک سو بیس میگا واٹ کی کمی کردی ہے، جس وجہ سے ایک سے ڈیڑھ گھنٹے بجلی کی لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے۔ کے ای ایس سی کے ترجمان سید سلطان کا کہنا ہے واپڈا صرف چھ سو میگا واٹ بجلی فراہم کر رہا ہے، جس کی وجہ سے بدھ سے ایک سو بیس میگاوٹ بجلی کی کمی ہے۔ ان کے مطابق شہر کو پانچ علاقوں میں تقسیم کر کے ایک سے ڈیڑھ گھنٹے بجلی کی لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دوپہر بارہ بجے سے لے کر شام چھ بجے تک اگر بجلی کی کمی ہوگی تو صنعتی علاقے میں ہوگی اور رہائشی علاقوں میں فراہمی جاری رہےگی۔ کے ای ایس سی کا کہنا ہے کہ واپڈا کو بھی بجلی کا کمی کا سامنا ہے مگر رات آٹھ بجے سے لے کر رات ایک بجے تک وہ سات سو بیس میگاواٹ بجلی فراہم کرے گا جبکہ باقی وقت چھ سو میگا واٹ بجلی فراہم کی جائےگی۔ سید سلطان کے مطابق کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کو تئیس سو سے ساڑھے تئیس سو میگاواٹ بجلی کی ضرورت ہے جس میں سے سات سو میگاواٹ واپڈا فراہم کرتا تھا جبکہ تیرہ سو میگاواٹ کے ای ایس سی اپنی پیداوار سے حاصل کرتی ہے۔ اس صورتحال میں کے ای ایس سی کو پہلے ہی تین ساڑھے تین سو میگا واٹ بجلی کی کمی کا سامنا تھا اور اب واپڈا کی جانب سے ایک سو بیس میگا واٹ بجلی کی کمی سے اس قلت میں اضافہ ہوگیا ہے۔ کے ای ایس سی کے ڈائریکٹر آپریشن عدنان بشیر کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال بائیس سو میگا واٹ سے زائد مانگ تھی جو اس وقت چوبیس سو میگا واٹ ہو چکی ہے اور اس صورتحال میں ڈیمانڈ اور سپلائی کا فرق بہت زیادہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال ٹرانسمیشن لائن میں دو ہزار پانچ میگاواٹ لوڈ اٹھانے کی گنجائش تھی جبکہ ان دنوں مانگ بائیس سو تیس میگاواٹ تھی اور اگر مطلوبہ پیداوار موجود بھی ہوتی تو ترسیل کی گنجائش نہیں تھی جبکہ اس وقت تئیس سو پچاس میگاواٹ فراہم کرنے کا نیٹ ورک موجود ہے۔ کراچی چیمبر آف کامرس کا کہنا ہے کہ ساڑھے تین سو بڑی مارکیٹوں کے تیس ہزار سے زائد دکاندار پانچ ٹاؤن پر مشتمل پندرہ ہزار سے زائد صنعتیں اور اٹھارہ ٹاؤنز میں ہزاروں گھریلو صنعتیں اور اٹھارہ ملین آبادی بجلی کی بحران کی وجہ سے سخت مشکلات کا شکار ہے اور صنعت کاروں اور دکانداروں کو پچاس کروڑ روپے فی گھنٹہ نقصان ہوتا ہے۔ کراچی چیمبر آف کامرس کے نائب صدر ثاقب نسیم کا کہنا ہے کہ نجکاری کے بعد یہ دعوے کئے گئے تھے کہ کے ای ایس سی کی گنجائش بڑھانے کے لیے 4 ملین ڈالرز کی سرمایہ کاری ہوگی جس سے نہ صرف لائن لاسز میں کمی آئیگی بلکہ حکومت جو ایک ارب روپے کی سبسڈی دے رہی ہے اس میں بھی کمی واقع ہوگی۔ ان کے مطابق حکومت سبسڈی دے رہی ہے مگر کے ای ایس سی کے لائن لاسز چالیس فیصد ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بجلی کے بحران کی ذمے دار حکومت کی ناقص پالیسی اور کے ای ایس کی بدانتظامی ہے کیونکہ نجکاری کے بعد کے ای ایس سی پیداوار میں ایک کلوواٹ کا بھی اضافہ نہیں کر سکی ہے۔ | اسی بارے میں لوڈ شیڈنگ سے پریشان زمیندار19 April, 2007 | پاکستان کراچی: لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج20 April, 2007 | پاکستان ’آٹھ بجے کے بعد بازار بندہونگے‘04 May, 2007 | پاکستان ’دکانیں آٹھ بجے بند نہیں کریں گے‘07 May, 2007 | پاکستان کراچی میں بجلی کا شدید بحران 14 June, 2007 | پاکستان لوڈ شیڈنگ: سڑکیں بند، مظاہرے13 June, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||