لوڈ شیڈنگ: سڑکیں بند، مظاہرے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
واپڈا کی برقی ترسیل پر لوڈ بڑھنے سے پشاور اور صوبے کے دیگر اضلاع میں بجلی کی لوڈشیڈنگ میں اضافہ ہوا ہے جبکہ صوبے کے مختلف شہروں سے لوڈشیڈنگ کے خلاف مظاہروں اور سڑکیں بند کرنے کے واقعات کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ صوبائی دارلحکومت پشاور میں گزشتہ چند دنوں سے بجلی کی بندش کا سلسلہ جاری ہے جس میں کمی کی بجائے روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ بدھ کو نوتھیہ اور ورسک روڈ کے علاقوں میں لوگ واپڈا کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے اور بجلی کی بار بار بندش کے خلاف مظاہرے کیے۔ مظاہرین نے سڑک بند کر کے واپڈا اور حکومت کے خلاف نعرہ بازی کی۔ شہر کے تقریباً تمام علاقوں میں روزانہ تین سے چار گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہوتی ہے جس سے کاروبار زندگی معطل ہوکر رہ گیا ہے جبکہ کئی علاقوں میں بجلی کے ٹرانسفرامر خراب ہونے کی بھی اطلاعات ملی ہیں۔ پشاور میں واپڈا حکام کا کہنا ہے کہ برقی رو پر لوڈ بڑھنے کی وجہ سے لوڈشیڈنگ کا موجودہ سلسلہ جولائی کے آخر تک جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ سرحد میں اس وقت 2260 میگا واٹ بجلی استعمال ہورہی ہے جبکہ کمی پوری کرنے کےلئے340 میگا واٹ کی لوڈشیڈنگ ہورہی ہے تاہم ان کے مطابق لوڈ منیجمنٹ کا سلسلہ صرف پشاور اورسرحد میں نہیں ہورہا بلکہ پورے ملک میں جاری ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ سرحد سے زیادہ لوڈ منیجمنٹ تو لاہور، ملتان، گوجرانوالہ اور پنجاب کے دیگر شہروں میں ہورہی ہے لیکن وہاں پر کوئی احتجاج یا مظاہرے نہیں ہورہے۔ ادھر سرحد کے دیگر اضلاع سوات، ٹانک، چارسدہ ، لکی مروت اور ڈی آئی خان سے بھی لوڈشیڈنگ اور واپڈا حکام کے خلاف مظاہروں کی اطلاعات ملی ہیں۔ اس سلسلے میں سب سے بڑا مظاہرہ سوات میں ہوا جس میں تاجروں اور مقامی لوگوں نے سینکڑوں کی تعداد میں شرکت کی۔ سوات کے مقامی صحافی شرین زادہ نے بتایا کہ مینگورہ بازار کے تاجر اور عام شہری سڑکوں پر نکل آئے اور سہراب چوک میں جمع ہوکر لوڈشیڈنگ کی مذمت کی اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||