BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 20 April, 2007, 19:39 GMT 00:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کراچی: لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج
کراچی(فائل فوٹو)
کراچی میں لوڈشیڈنگ کے مسئلے پر پہلے بھی احتجاج ہوتا رہا ہے(فائل فوٹو)
کراچی میں جاری بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف شہر کے مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں۔

کراچی میں بجلی کا بحران سنگین صورتحال اختیار کر گیا ہے اور ایک اندازے کے مطابق شہر بھر میں روزانہ تین سے چھ گھنٹے کے لیے لودشیڈنگ کی جا رہی ہے۔ بجلی کی بندش سے شہر میں پانی کی فراہمی کا نظام بھی متاثر ہوا ہے۔

بجلی کی اس غیر اعلانیہ لوڈشینگ پر کراچی کی کاروباری اور مذہبی تنظیموں کے رہنماؤں نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس صورتحال پر قابو نہ پایا گیا تو وہ شہر میں ایک مہم چلائیں گے جس میں عوام کو بجلی کا بل ادا نہ کرنے کے لیے قائل کیا جائے گا۔

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف شہر میں سب سے بڑے مظاہرے کا اہتمام متحدہ مجلس عمل کی جانب سے گلشن ِ اقبال کے علاقے میں کیا گیا جبکہ اس کے علاوہ آل پاکستان سمال بزنس ایسوسی ایشن کی جانب سے بھی شہر کے وسطی علاقے میں احتجاج کیا گیا۔

کراچی کے مشرقی ضلع ملیر کے رہائشی اظہر قریشی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا’ ہم گزشتہ ایک ہفتے سے رات کا بیشتر حصہ فٹ پاتھ پرگزار رہے ہیں کیونکہ گرمی ناقابلِ برداشت ہے اور بجلی غائب‘۔

بجلی کی بندش سے عام افراد کے علاوہ طالبعلم بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں اور شہر میں جاری میٹرک کے امتحانات کی تیاری میں مصروف طلباء و طالبات اس غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ ایک طالبعلم فہیم لودھی کا کہنا تھا کہ اس لوڈشیڈنگ نے ان کی تعلیمی کارکردگی پر برا اثر ڈالا ہے۔ انہوں نے کہا’اگرچہ میٹرک کے امتحانات جاری ہیں لیکن تاریکی اور اس گھٹن والی گرمی میں کون پڑھ سکتا ہے‘۔

پاکستان بھر میں گیارہ ہزار دو سو میگا واٹ بجلی پیدا ہوتی ہے

سندھ کے وزیرِ صنعت محمد علی صدیقی کا کہنا ہے کہ لوڈشیڈنگ کی وجہ سے کراچی کی تاجر اور صنعتکار برادری کو روزانہ ایک ارب روپے کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کراچی کو روزانہ چھ سو پچاس میگا واٹ بجلی درکار ہے جبکہ واپڈا کی جانب سے فراہم کردہ بجلی صرف تین سو میگا واٹ ہے۔

تاہم واپڈا کے حکام اس دعوی کی تردید کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ کے ای ایس سی کو روزانہ چھ سو پچیس میگا واٹ بجلی فراہم کر رہے ہیں۔ واپڈا حکام کے مطابق پاکستان بھر میں گیارہ ہزار دو سو میگا واٹ بجلی پیدا ہوتی ہے جبکہ ملکی ضرورت کے لیے بارہ ہزار پانچ سو میگا واٹ بجلی درکار ہے اور اسی کمی کی وجہ سے لوڈشیڈنگ کرنا پڑتی ہے۔

اسی بارے میں
بجلی کے بحران پراحتجاج
28 June, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد