’روزانہ آدھے گھنٹے بجلی بند‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں بجلی و پانی کی فراہمی کے ادارے، واپڈا نے بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا اعلان کیا ہے جس کے تحت ملک بھر میں مختلف اوقات میں روزانہ کم سے کم آدھے گھنٹے کے لیے بجلی کی فراہمی معطل رہے گی۔ یہ بات واپڈا کے ممبر پاور محمد انور خالد نے لاہور میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتےہوئے کہی۔ واپڈا کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق اس وقت پاکستان کی بجلی کی مجموعی پیداوار دس ہزار میگا واٹ سے زیادہ ہے جس کا ان دنوں صرف ایک تہائی حصہ ہائیڈل پاور یعنی پانی کے ذریعے پیدا کیا جارہا ہے۔ ممبر پاورنے کہا کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ کا سامنا پوری قوم کو کرنا ہوگا کیونکہ منگلا اور تربیلا ڈیموں میں پانی کی قلت ہوگئی ہے جس کی وجہ سے ان ڈیموں سے پیدا ہونے والی بجلی کی پیداوار میں کمی آئی ہے۔ ممبر پاور نے بتایا کہ ملک بھر میں بجلی فراہم کرنے والا ہر فیڈر کم سے کم آدھ گھنٹے کے لیے بند کیا جائے گا اور چار جنوری سے شروع ہونے والا یہ سلسلہ نو جنوری تک جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ نوجنوری کو لوڈ شیڈنگ کےدورانیہ پر نظر ثانی کی جائے گی اور اگر دورانیہ بڑھانے کی مجبوری ہوئی تو قوم کو آگاہ کیا جائے گا اور نظر ثانی شدہ دورانیہ پر بارہ جنوری سے عملدرآمد شروع ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکام نے لوڈ شیڈنگ کے بارے میں عوام کو اعتماد میں لینےکی پالیسی اپنائی ہے اور بجلی کی تقسیم کرنے والی کمپنیوں کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ لوڈ شیڈنگ کے نظام الاوقات مشتہر کریں۔ اس کے علاوہ عوام سے اپیل بھی کی جائے گی کہ وہ اس سلسلے میں واپڈا سے تعاون کرتے ہوئے بجلی کے غیرضروری آلات بند رکھیں۔ واپڈا ملک میں صنعتی شہروں میں ہفتہ وار رخصت کے مختلف دن مقرر کرنے کے منصوبہ پر بھی کام کر رہا ہے۔ ممبر واپڈا نے بتایا کہ اس ضمن میں مختلف شہروں کے چمبرز آف کامرس کو تجاویز ارسال کی گئی تھیں جن کا مثبت جواب آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس حکمت عملی کے ذریعے مختلف شہروں کے ہفتہ وار رخصت کےدن پیر، منگل، بدھ جمعرات اور سنیچر میں سے ایک ایک دن مقرر کیے جائیں گے اور اس طرح سے کم سے کم چار سو میگا واٹ بجلی کی منیجمنٹ کی جاسکے گی۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ سنہ دو ہزار سات میں پاکستان کو توانائی کے شعبے میں بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ حکومت پاکستان توانائی کے بحران سے نمٹنے کے لیے ایران اور وسط ایشیائی ممالک سے تیل وگیس پائپ لائن بچھانے کے منصوبوں پر غور کر رہی ہے۔ دوسری جانب گلگت میں بھاشاڈیم کا سنگ بنیاد رکھا جاچکا ہے جبکہ متنازعہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر بھی جلد شروع کرنے کے بارے میں صدر جنرل پرویز مشرف پہلے ہی اعلان کر چکےہیں۔ | اسی بارے میں واپڈا کے خلاف کارروائی کا فیصلہ23 December, 2006 | پاکستان واپڈا مفاہمت: کریڈٹ کی جنگ14 October, 2006 | پاکستان کالا باغ اور دیامیر کے لیے فنڈ 03 June, 2006 | پاکستان واپڈا: خشک سالی کی وارننگ26 July, 2005 | پاکستان واپڈا لوڈشیڈنگ: وزیر پریشان01 October, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||