کالا باغ اور دیامیر کے لیے فنڈ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں پانی اور بجلی کی پیداوار کے ادارے واپڈا کے چیئرمین طارق حمید کے مطابق حکومت نے واپڈا کو کالا باغ اور دیامیر بھاشا ڈیم کے لیے بجٹ میں دس ارب روپے دینے کا اشارہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ رقم ملتے ہی آئندہ مالی سال میں دونوں منصوبوں کے لیے ایک ساتھ اراضی خریدنے کا کام شروع ہوجائے گا۔ وہ سنیچر کو لاہور میں وفاق ایوان ہائے تجارت میں ایک تقریب کے بعد اخبار نویسوں سے گفتگو کر رہے تھے۔ اس سے قبل تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ایک تازہ ترین رپورٹ کا حوالہ دیا اور کہا کہ اس ایک سال کےدوران چوبیس ملین ایکڑ فٹ پانی سمندر میں گیا ہے جبکہ ماہرین کی رپورٹ کے مطابق صرف آٹھ ملین ایکٹر فٹ پانی جانا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ دو میگا ڈیم بنا کر بارہ ملین ایکٹر فٹ پانی بچایا جاسکتا تھا۔ ان کا اشارہ کالاباغ اور بھاشا ڈیم کی جانب تھا جس کی تعمیر پر سرحد اور سندھ میں شدید مخالفت پائی جاتی ہے۔ چیئرمین واپڈا نے کہا کہ ایٹمی پلانٹ سے آٹھ ہزار میگا واٹ بجلی بنانے کی بات تو کی جاتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ چین سے صرف تین تین سو میگا واٹ بجلی کے پلانٹ پاکستان کو ملتے ہیں اور ان میں سے بھی دوسرا سن دو ہزار دس میں جاکر کام شروع کرے گا۔ تاہم انہو ں نے کہا کہ ’چین نے خود پر اپنے ملک میں چھ سو میگا واٹ کا بجلی گھر اب بنانا شروع کیا ہے شاید آئندہ دو چار سال میں پاکستان کو بھی چھ سو میگا واٹ کا بجلی گھر مل جائے‘۔ انہوں نے کہا کہ ’ہوا سے بجلی بنانے کے لیے کیٹی بندر میں آئندہ ایک دو ہفتے میں ایک سو میگا واٹ بجلی بنانے کے منصوبے پر کام شروع ہوجائے گا ۔تاہم چیئرمین واپڈا کے مطابق فی الحال یہ بجلی تھرمل سے بھی زیادہ مہنگی پڑ رہی ہے۔
وفاق ایوان ہائے صنعت وتجارت میں مختلف صنعتکاروں اور تاجر نمائندوں نے واپڈا کے خلاف شکایات کیں جن میں نمایاں بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ تھی۔ چئیرمین واپڈا نے بتایاکہ انہوں نے سالانہ آٹھ فی صد کے لحاظ سے منصوبہ بندی کی تھی لیکن ان کی توقع کے خلاف اس سال بجلی کی طلب بارہ فی صد بڑھ گئی جس کی وجہ سے مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے لاہور کی ایک گلی میں جہاں دس ایئر کنڈیشنر چلتے تھے وہاں اب سو چلتے ہیں جس کی وجہ سے آئے روز ٹرانسفارمر جل جاتے ہیں اور فیڈرگرم ہوکر بند ہوجاتے ہیں۔ چیئر مین واپڈاطارق حمید نے کہا کہ ان مسائل کے حل کے لیے چھوٹے موٹے ڈیم نہیں بلکہ بجلی کی پیداور میں ایک جمپ کی ضرورت ہے۔ چیئرمین واپڈا نے کہا کہ کراچی میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کی ذمہ داری اب وپڈا پر نہیں ڈالی جا رہی اور معاملہ صاف ہوگیا ہے کہ یہ کراچی کو بجلی سپلائی کرنے والی کمپنی کا اپنا مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ واپڈا کے چالیس ہزار میٹر ریڈر ہیں اور ان کے خلاف عوام کی شکایات بھی ہیں۔ انہوں نے کہا واپڈا کو ہر ماہ بجلی کے ایک کروڑ اٹھاون لاکھ میٹروں کی ریڈنگ کرنا ہوتی ہے تاہم اب ان میٹروں کی کمپیوٹر کے ذریعے ریڈنگ کی جائے گی اس کے لیے تمام میٹروں کو تبدیل کرنا ہوگا اور ہر میٹر میں ایک چپ لگائی جائے گی اور خود بخود بل بن جایا کرے گا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ بھارت کے مقابلے میں پاکستان میں زرعی شعبے سے بجلی کی قیمت زیادہ وصول کی جاتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بھارت میں پاکستانی روپے کے لحاظ سے ایک روپے نوے پیسے کا یونٹ زراعت کو دیا جاتا ہے جبکہ پاکستان میں ساڑھے تین روپے کا یونٹ دیا جاتا ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ صنعتوں کو بھارت کے مقابلے میں پاکستان میں نسبتا سستی بجلی فراہم کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی قیمتوں میں ڈھائی سال کے دوران کوئی اضافہ نہیں ہوا جبکہ اس دوران تیل کی قیمت میں اٹھانوے فی صد اور سوئی گیس کی قیمت میں اڑتالیس فی صد اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کی قیمت بڑھانا ایک سیاسی فیصلہ ہے۔ |
اسی بارے میں ڈیم پر پھر اجلاس بلائیں: اپوزیشن23 January, 2006 | پاکستان دریائےسندھ پر ڈیمز کے خلاف احتجاج18 January, 2006 | پاکستان کالاباغ سے پہلے بھاشا اور منڈا ڈیم18 January, 2006 | پاکستان کالاباغ سے پہلے بھاشا اور منڈا ڈیم17 January, 2006 | پاکستان کالاباغ کی سائیٹ یا کھنڈرات06 January, 2006 | پاکستان کالا باغ ڈیم: رخ اب سرحد کی طرف06 January, 2006 | پاکستان کالا باغ ڈیم نے زلزلہ بھلا دیا31 December, 2005 | پاکستان کالاباغ: مشترکہ مفاد کونسل میں31 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||