واپڈا مفاہمت: کریڈٹ کی جنگ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سرحد میں آج کل صوبے اور پانی اور بجلی کی ترقی کے ادارے واپڈا کے درمیان بجلی کے خالص منافع پر گزشتہ دنوں ثالثی کمیشن کے فیصلے پر مسرت کے اظہار کے ساتھ ساتھ مختلف سیاسی جماعتیں اس کا ’کریڈٹ‘ لینے کی بھی سرتوڑ کوشش کر رہی ہیں۔ ریٹائرڈ جسٹس اجمل میاں کی سربراہی میں قائم اس کمیشن نے ایک سال کے اجلاسوں کے بعد نو اکتوبر کو اپنے فیصلے میں واپڈا کو سرحد کے انیسو سو اکانوے سے ایک سو دس ارب روپے سے زائد کے بقایاجات ادا کرنے کا حکم دیا۔ ثالثی کمیشن کے اس فیصلے سے صوبہ سرحد اور واپڈا کے درمیان بجلی کے خالص منافع اور رائلٹی پر چودہ برس پرانا قضیہ اختتام کو پہچنا ہے۔ کمیشن کے فیصلے پر فوری طور پر عمل درآمد شروع ہوگا اور اسے کسی بھی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکے گا۔ صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت اس فیصلے پر عمل درآمد کی ضامن ہے۔ ثالثی کے لیے قائم پانچ رکنی کمیشن میں ریٹائرڈ جسٹس اجمل میاں کے علاوہ صوبہ سرحد کی نمائندگی سینٹر خورشید احمد اور عبداللہ نے کی جبکہ واپڈا کی جانب سے جاوید اختر اور منظور اے شیخ نے شرکت کی۔ اس فیصلے کو سرحد حکومت نے اپنی سیاسی کامیابی اور ایک تاریخی فیصلہ قرار دیا۔ وزیر اعلی اکرم خان دورانی کا کہنا تھا کہ اس وہ اہم مسئلے کے حل کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو ساتھ لے کر چلے ہیں۔ اس سلسلے میں سینئر وزیر سراج الحق نے جو کہ صوبائی محکمہ خزانہ کا بھی قلمدان رکھتے ہیں تین روز میں تین اخباری کانفرنسیں منعقد کرکے ثالثی کمیشن کے فیصلے کو ایک اہم پیش رفت قرار دینے کی کوشش کی ہے۔ ان میں سے دو کانفرنسیں پشاور میں جب کہ ایک اسلام آباد میں ہوئی۔ پشاور میں ہفتے کے روز صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’بے شک اس حل کا کریڈٹ جو بھی لے انہیں مطلب اس بات سے ہے کہ صوبے کو یہ خطیر رقم مل سکے تاکہ غربت کا خاتمہ ممکن ہو‘۔ وہ اس تاثر کی بھی نفی کرچکے ہیں کہ اس فیصلے کا اس وقت سامنے آنے کا مقصد ایم ایم اے کو اگلے برس متوقع عام انتخابات میں ایک مرتبہ پھر کامیاب کرانا ہے۔
صحافیوں کو اس فیصلے کی کاپیاں بھی مہیا کی گئیں۔ ایک سو تریسٹھ صفحات کی اس کتاب میں صوبائی حکومت کے موقف کے علاوہ واپڈا کے نمائندے جاوید اختر کا تفصیلی بیان بھی منسلک ہے۔ ان کا اعتراض اے جی این قاضی کمیٹی فارمولے پر تھا جو ان کے بقول تھیوری میں غیرآئینی اور عملی طور پر ناقابل عمل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فارمولے کی وجہ سے واپڈا کو منافع نہیں بلکہ بڑا نقصان برداشت کرنا پڑتا۔ مختلف سیاسی جماعتیں اس معاملے سے لا تعلق نہیں ہیں اور کئی کو فکر لاحق ہے کہ اس سے ایم ایم اے کو اپنی ساکھ بحال کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ حکمراں مسلم لیگ کے صوبائی سربراہ امیر مقام نے اس مسئلے کے حل کو صدر اور وزیراعظم کی کاوشوں کا نتیجہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایم ایم اے حکومت کا اس میں کوئی عمل دخل نہیں تھا۔ حزب اختلاف کی دوسری جماعت مسلم لیگ (ن) نے بھی اس معاملے پر بیان داغا کہ اس قضیے کے حل کا سہرا ان کے سر ہے کیونکہ ان کے دورے حکومت میں اے جی این قاضی کمیٹی قائم کی گئی تھی۔ اس معاملے پر صوبائی اسمبلی کی تمام جماعتوں یکساں موقف کا اظہار کیا اور صوبائی اسمبلی کی متفقہ قرار دادوں کے ذریعے اس مسئلے کو زندہ رکھا۔ لیکن ایم ایم اے کی خوش قسمتی ہے کہ ان تمام کوششوں کا نتیجہ ان کے دور حکومت میں سامنے آیا ہے۔ حزب اختلاف کی بیان بازی کی اصل وجہ حزب اختلاف کی جماعتوں کی وہ فکر بھی ہے کہ آئندہ برس متوقع عام انتخابات سے قبل صوبائی حکومت کو اتنی کثیر رقم ملنے سے ایم ایم اے کو انتخابی فائدہ ہوسکتا ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما حاجی محمد عدیل نے اس فیصلے کو صوبے کے حقوق پر سودے بازی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے کا حق تین سو ارب روپے بنتا تھا لیکن صوبائی حکومت نے صرف ایک سو دس ارب روپے پر رضامندی ظاہر کرکے گھاٹے کا سودا کیا ہے۔ انہوں نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ مستقبل میں کوئی بھی حکومت اس فیصلے کو مسترد کرسکتی ہے۔ اکثر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت کو اس سے ناصرف مالی بلکہ سیاسی فائدہ بھی ہوسکتا ہے۔ صوبائی حکومت نے اس بابت ہوم ورک پہلے سے ہی شروع کر دیا ہے یعنی رقم ملنے پر کہاں اور کیسے خرچ کرنی ہے۔ تاہم اس سارے تناظر میں تمام نظریں اگلے تین ماہ پر لگی ہوں گی جب واپڈا کو ثالثی کمیشن کے فیصلے کے مطابق پہلی قسط یعنی چالیس ارب روپے سے زائد کا بندوبست کرنا ہوگا۔ کچھ لوگ یہ خدشہ بھی ظاہر کر رہے ہیں کہ اس فیصلے کی وجہ سے کہیں واپڈا ملک میں بجلی کی قیمت میں اضافہ نہ کر دے۔ نرخ میں اضافہ عوام پر مزید اقتصادی بوجھ بڑھنے کا سبب بن سکتا ہے۔ سرحد حکومت نے یہ بھی واضع کر دیا ہے کہ اگر اس مرتبہ یہ رقم ادا نہ کی گئی اور لیت و لعل سے کام لیا گیا تو وہ کوئی بھی انتہائی قدم اٹھانے میں حق بجانب ہو گی۔ ایسے میں صورتحال بظاہر حل کی جانب تو بڑھی ہے لیکن اس فیصلے پر عمل درآمد میں تاخیر سے اس کے بگڑنے کا بھی خدشہ موجود ہے۔ | اسی بارے میں بھاشا ڈیم، رائلٹی اور آئینی حقوق16 March, 2006 | پاکستان بھاشا ڈیم: نام اور رائلٹی پر تنازعہ28 January, 2006 | پاکستان بھاشا کی رائلٹی بھی متنازعہ19 January, 2006 | پاکستان کالا باغ اور دیامیر کے لیے فنڈ 03 June, 2006 | پاکستان واپڈا کے متعدد اہلکار اغواء12 January, 2005 | پاکستان واپڈا لوڈشیڈنگ: وزیر پریشان01 October, 2004 | پاکستان واپڈا افسر ساتھی کے ہاتھوں قتل11 June, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||