واپڈا کے خلاف کارروائی کا فیصلہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کی حکومت نے پانی اور بجلی کے ترقیاتی ادارے واپڈا کے خلاف قانونی جنگ سپریم کورٹ میں لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ وزیر اعلی اکرم خان درانی کی زیر صدارت پشاور میں صوبائی کابینہ کے ایک اجلاس میں کیا گیا۔ کابینہ نے معروف قانون دان عبدالحفیظ پیرزادہ کی تجاویز کی روشنی میں اپنا کیس تیار کرنے کے لیئے صوبائی وزیر قانون ملک ظفر اعظم کی سربراہی میں ایک کمیٹی بھی تشکیل دی۔ واپڈا نے گزشتہ دنوں بجلی کے منافع کے قضیے کے حل کے لیئے قائم ثالثی کمیٹی کا فیصلہ نہ مانتے ہوئے سپرئم کورٹ میں اس فیصلے کے خلاف کیس دائر کیا تھا۔ ثالثی کمیشن نے اپنے فیصلے میں واپڈا کو خالص بجلی کا اربوں روپے کا منافع اور بقایاجات صوبائی حکومت کو ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔اس رقم کی پہلی قسط واپڈا کو اس ماہ ادا کرنی تھی۔ کابینہ نے سرحد اسمبلی کے سپیکر بخت جہاں خان کی سربراہی میں ایک دوسری کمیٹی بھی تشکیل دی جو سیاسی جماعتوں اور ناظمین کے ساتھ ملاقاتوں کے ذریعے متفقہ لائحہ عمل تیار کرنے کی کوشش کرے گا۔ اس کمیٹی کو اپنا کام فورا شروع کرنے کی ہدایت کی گئی۔ اس موقع پر اپنے خطاب میں وزیر اعلی سرحد اکرم خان درانی نے افسوس کا اظہار کیا کہ واپڈا کے عدالت میں جانے سے صوبے کی ترقی کا جو منصوبہ انہوں نے تیار کیا تھا وہ بری طرح متاثر ہوگا۔ | اسی بارے میں سرحد میں ہفتہ انسداد کرپشن 04 December, 2006 | پاکستان واپڈا مفاہمت: کریڈٹ کی جنگ14 October, 2006 | پاکستان بجلی معطل: سرحد، مظاہرے گرفتاریاں 25 September, 2006 | پاکستان پن بجلی: سرحد میں نئی پالیسی کا اعلان07 September, 2006 | پاکستان سرحد میں پانی کی قلت22 May, 2006 | پاکستان کالا باغ اور دیامیر کے لیے فنڈ 03 June, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||