پن بجلی: سرحد میں نئی پالیسی کا اعلان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سرحد حکومت نے صوبے میں پن بجلی کی پیداوار بڑھانے کے لیئے نئی پالیسی کی منظوری دے دی ہے۔ اس پالیسی میں سرمایہ کاروں کو دو سال کے لیئے ٹیکسوں میں چھوٹ دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس نئی پالیسی کی منظوری صوبائی کابینہ نے وزیر اعلی اکرم خان درانی کی صدارت میں صوبائی دارالحکومت پشاور میں ہونے والے ایک اجلاس میں دی ہے۔ اجلاس کے فیصلوں سے آگاہ کرتے ہوئے صوبائی وزیر اطلاعات آصف اقبال نے صحافیوں کو بتایا کہ نئی پالیسی کا مقصد پن بجلی کے صوبے میں موجود وافر وسائل کو بروئےکار لانا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں چالیس ہزار میگا واٹ پن بجلی تیار کرنے کی گنجائش ہے جس میں سے ستر فیصد صوبہ سرحد میں تیار کی جا سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس صوبے میں وسائل اور فنڈز دستیاب ہوں تو پچیس ہزار میگا واٹ بجلی تیار کی جا سکتی ہے ۔ تاہم ماضی میں اس شعبے کو نظرانداز کیئے جانے کی وجہ سے یہ صوبہ اس وقت پانی سے صرف چھ ہزار چھ سو میگا واٹ بجلی تیار کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ پانچ سو میگا واٹ کے منصوبے زیر تعمیر ہیں جبکہ چھ ہزار میگا واٹ کے منصوبوں کی نشاندہی ہوچکی ہے۔ آصف اقبال کا کہنا ہے کہ اس اہم شعبے میں سرمایہ کاروں کی دلچسپی بڑھانے اور ان کی مشکلات دور کرنے کے لیے پانچ برس پہلے تیار کی جانے والی پالیسی پر نظرثانی کی گئی ہے۔ انہیں امید ہے کہ ان نئی مراعات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سرمایہ کار بڑی تعداد میں آگے آئیں گے۔ نئی پالیسی کے تحت پن بجلی کے منصوبے کی لاگت اور مشنری پر صوبائی حکومت نے دو برس کے لیئے کسی قسم کا ٹیکس نہ لینے کا اعلان کیا ہے۔
اس کے علاوہ سرمایہ کار اب اپنی بجلی صنعتی شعبے کے علاوہ کمرشل اور گھریلو صارفین کو بھی فروخت کر سکیں گے، سرمایہ کاروں کو اپنے منصوبے حکومت کی پیشگی منظوری کے ساتھ فروخت کرنے کی اجازت ہوگی، پانی کا معاوضہ بھی نہیں لیا جائے گا، پہلے سے تیار کی ہوئی فیزبلٹی استعمال میں لانے کی قید نہیں ہوگی اور لیز کی مدت بھی تینتیس سے بڑھا کر پچاس برس کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ رجسٹریشن اور دیگر فیسوں میں بھی دو برس تک چھوٹ دی جائے گی۔ صوبائی حکومت نے سرمایہ کاروں کو اس سلسلے میں مکمل تحفظ فراہم کرنے کی بھی یقین دہانی کرائی ہے۔ صوبہ سرحد میں پن بجلی گھر قائم کرنے کے وسیع مواقع موجود ہیں لیکن سرکاری پالیسیوں میں پیچ و خم کی وجہ سے سرمایہ کار سامنے آنے سے کتراتے رہے ہیں۔ تازہ تبدیلیاں اقتصادی ماہرین اور سرمایہ کاروں کی تجاویز کو سامنے رکھ کر تیار کی گئی ہیں۔ دیکھنا ہے کہ نئی تبدیلیاں اس قدرتی دولت سے فائدہ اٹھانے میں کتنی معاون ثابت ہوتی ہے۔ | اسی بارے میں ہائیڈل رائلٹی، ثالث ٹرائبونل کا قیام31 October, 2005 | پاکستان ہائیڈرو پراجیکٹ پر مذاکرات 07 May, 2005 | پاکستان ہم نے گاؤں میں بجلی بنائی ہے21 June, 2004 | پاکستان برقی ٹرانسمیشن منصوبے پر اتفاق09 May, 2006 | پاکستان کراچی میں بجلی کا بحران01 July, 2006 | پاکستان اسلام آباد میں پانی کی شدید قلت03 May, 2006 | پاکستان ’کبھی پانی پینے پلانے پہ جھگڑا‘20 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||