BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 09 May, 2006, 13:56 GMT 18:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
برقی ٹرانسمیشن منصوبے پر اتفاق

برقی ٹرانسمیشن لائن
تاجکستان سے سالانہ چار ہزار میگا واٹ بجلی درآمد کی جائےگی۔
پاکستان ، افغانستان، تاجکستان اور کرغستان وسط ایشیا سے برقی توانائی کی درآمد پر متفق ہوگئے ہیں۔

اس بات کا اعلان پاکستان کے پانی اور بجلی کے وزیر لیاقت جتوئی نے متعلقہ ممالک کے نمائندوں کے ہمراہ دو روزہ کانفرنس کے اختتام کے بعد ایک نیوز کانفرنس میں کیا۔

انہوں نے بتایا کہ امریکہ ، جاپان، عالمی بینک، ایشیائی بینک اور اسلامی ترقیاتی بینک نے تاجکستان سے کابل کے ذریعے جلال آباد سے پشاور تک ’ٹرانسمیشن لائن‘ بچھانے کے لیئے مطلوبہ فنڈز فراہم کرنے کا یقین دلایا ہے۔

وزیر نے بتایا کہ پاکستان میں دس سے بارہ فیصد سالانہ کی اوسط سے بجلی کی مانگ میں اضافہ ہو رہا ہے اور اُسے پورا کرنے کے لیئے سالانہ تاجکستان سے چار ہزار میگا واٹ بجلی درآمد کی جائےگی۔

اس کثیرالملکی برقی ٹرانسمیشن لائن بچھانے کے متعلق انہوں نے کہا کہ جلد ہی اس کی’فزیبلٹی‘ پر کام شروع ہوگا اور تمام متعلقہ ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ جلد سے جلد لائن بچھانے کام شروع کیا جائے۔

افغانستان میں بدامنی کی وجہ مجوزہ ٹرانسمیشن لائن کی حفاظت کے بارے میں لیاقت جتوئی نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کی حکومتیں دہشت گردوں کے خلاف لڑ رہی ہیں اور افغان حکومت نے اس لائن کی حفاظت کی مکمل ذمہ داری اٹھائی ہے۔

افغانستان کے توانائی کے وزیر محمد جلیل شمس کا کہنا ہے کہ اس ٹرانسمیشن لائن سے جب افغان شہریوں کو بجلی ملے گی تو وہ اس کی خود ہی حفاظت کریں گے۔

نیوز کانفرنس کے بعد بی بی سی سے بات کرتے ہوئے لیاقت جتوئی نے بتایا کہ ابتدائی تخمینے کے مطابق چھ سو کلومیٹر طویل اس ٹرانسمیشن لائن پر ساٹھ کروڑ ڈالر کی لاگت آسکتی ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اس بارے میں درست اندازہ فزیبلٹی مکمل ہونے پر ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ فی الحال بھارت اس ٹرانسمیشن لائن سے استفادہ نہیں کرسکتا۔تاہم انہوں نے کہا کہ مستقبل میں اگر بھارت چاہے تو فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

ایک لاکھ تینتالیس ہزار مرّبع کلومیٹر کے رقبے اور تہتر لاکھ کی آبادی والے ملک تاجکستان سے پاکستان تک بچھائی جانے والی اس پائپ لائن کے ذریعے فراہم ہونے والی بجلی کی قیمت اور دیگر تیکنیکی نکات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ اس بارے میں مناسب وقت پر بات کریں گے۔

اسی بارے میں
بدترین خشک سالی کا خطرہ
08 May, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد