BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 08 May, 2006, 12:54 GMT 17:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
برقی ٹرانسمیشن لائن کا منصوبہ

برقی ٹرانسمیشن لائن
پاکستان کو بین الاقوامی ذرائع سے برقی توانائی چاہئیے
پاکستان، افغانستان ،تاجکستان اور کرغستان کے توانائی کے وزراء نے پیر کو اسلام آباد میں وسطی ایشیا سے افغانستان اور پاکستان تک برقی توانائی فراہم کرنے کے لیئے کثیرالملکی برقی ٹرانسمیشن لائن بچھانے کے منصوبے کے بارے میں دو روزہ مذاکرات شروع کیئے ہیں۔

اس ٹرانسمیشن لائن کے ذریعے پاکستان اپنی معیشت کی بڑھتی ہوئی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیئے وسط ایشیا سے ایک ہزار میگا واٹ بجلی درآمد کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

اس دو روزہ کانفرنس میں ان چاروں ممالک کے علاوہ عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک، یو ایس ایڈ اور اسلامی ترقیاتی بینک کے نمائندے بھی شریک ہیں۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ اس ٹرانسمیشن لائن منصوبے کے لیئے بین الاقوامی ادارے قرضے کی سہولت دینے کو تیار ہیں۔

پاکستان کے بجلی و پانی کے وفاقی وزیر لیاقت جتوئی نے اس کانفرنس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی توانائی کی ضروریات تیزی سے بڑھ رہی ہیں اور ان ضروریات کو پورا کرنے کے لیئے حکومت کو بین الاقوامی ذرائع سے برقی توانائی چاہئیے ہوگی۔ واضح رہے کہ وسطی ایشیا کے ممالک پہلے ہی پاکستان کو برقی توانائی برآمد کرنے کی پیشکش کر چکے ہیں اور پاکستان نے تاجکستان کے ساتھ ایک مفاہمت کی یاداشت پر بھی دستخط کیئے ہیں جس کی رو سے پاکستان تاجکستان سے ایک ہزار میگا واٹ بجلی حاصل کرسکے گا۔

اس منصوبے کے فریم ورک کو کل حتمی شکل دی جائے گی تاہم افغانستان کے حالات کے پیش نظر ابھی یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ ٹرانسمیشن لائن ایک حقیقت بھی بن پائے گی یا نہیں۔ تاہم افغانستان کے وزیر محمد جلیل شمس کا کہنا ہے کہ اس ٹرانسمشن لائن کے ذریعے افغانستان کو برقی توانائی کی فراہمی ہی اس منصوبے کی حفاظت کی گارنٹی ہو گی کیونکہ جب لوگوں کو پتہ ہو گا کہ اس لائن سے انہیں برقی توانائی مل رہی ہے تو وہ اس کی خود حفاظت کریں گے۔

پاکستان کے بجلی کے وزیر لیاقت جتوئی نے اس موقع پر کہا کہ چاروں ممالک مذہبی،ثقافتی اور دوستانہ تعلقات کی وجہ سے ایک دوسرے کے بہت قریب ہیں جو اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیئے کلیدی حیثیت رکھتے ہے۔

اس منصوبے پر چاروں ممالک کی بات چیت بالکل ابتدائی مراحل میں ہے اور ابھی تک اس منصوبے پر لاگت اور دیگر تفصیلات کے بارے میں کچھ طے نہیں ہوا ہے۔

اسی بارے میں
بدترین خشک سالی کا خطرہ
08 May, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد