BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 31 October, 2005, 10:38 GMT 15:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہائیڈل رائلٹی، ثالث ٹرائبونل کا قیام

ہائیڈل بجلی
صوبہ سرحد اور واپڈا کے درمیان 15 برس سے ہائیڈل بجلی کی رائلٹی پر تنازعہ چلا آ رہا ہے
پاکستان کے صوبہ سرحد اور بجلی فراہم کرنے والے ادارے واپڈا کے درمیاں ’ہائیڈل بجلی‘ کی رائلٹی کے تعین کے لیے پانچ رکنی ثالث ٹرائبونل بنانے کے معاہدہ پر دستخط کیے گئے ہیں۔

پندرہ سالہ پرانے تنازعے کے حل کے لیے پانچ رکنی ’ثالث ٹرائبونل‘ کو چھ ماہ کے اندر سفارشات تیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

اس ٹرائبونل کے سربراہ سپریم کورٹ کے سابق جج اجمل میاں ہوں گے جبکہ صوبہ سرحد سے سینیٹر پروفیسر خورشید احمد اور صوبائی پبلک سروس کمیشن کے چیئرمین عبداللہ اور واپڈا کی طرف سے اس ادارے کے سابق سینئر افسران جاوید اختر اور منظور اے شیخ نمائندے ہوں گے۔

وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والے اس معاہدے کے موقع پر وزیراعظم شوکت عزیز اور صوبہ سرحد کے وزیراعلیٰ اکرم درانی اور دیگر حکام بھی موجود تھے۔ جبکہ معاہدے پر دستخط چیئرمین واپڈا طارق حمید، صوبہ سرحد کے فنانس سیکریٹری ضیا الرحمٰن اور وزارتِ پانی و بجلی کے سیکریٹری اشفاق محمود نے کیے۔

واضح رہے کہ صوبہ سرحد اور واپڈا کے درمیان گزشتہ پندرہ برسوں سے رائلٹی بڑھانے کے معاملے پر تنازعہ چلا آرہا ہے اور ماضی میں صوبائی حکومتوں کی کوششوں کے باوجود بھی معاملہ آگے نہیں بڑھ سکا۔ جس کی وجہ یہ تھی کہ مرکز اور متعلقہ صوبے میں ایک ہی جماعت کی حکومت ہونا بتایا جاتا ہے۔

اس بار جب مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کی حکومت صوبے میں قائم ہوئی تو یہ معاملہ شدت سے اٹھایا گیا اور وفاقی حکومت نے مصالحت کے لیے ثالثی ٹریبونل قائم کیا۔

صوبہ سرحد کے محکمہ مالیات کے وزیر سراج الحق جو معاہدے کے وقت موجود تھے، وہ کہتے رہے ہیں کہ ان کے صوبے کا حصہ اٹھارہ ارب روپے سالانہ بنتا ہے لیکن وفاقی حکومت انہیں چھ ارب روپے دیتی ہے۔

معاہدے کے وقت وزیراعظم نے کہا کہ ثالث ٹرائبونل قائم کرنے کے سے وفاق اور صوبوں میں ہم آہنگی کی فضا بڑھے گی جبکہ وزیراعلیٰ اکرم درانی نے صدر اور وزیراعظم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ان کے صوبے کو اپنا حق مل جائے گا۔

صوبہ سرحد کا موقف رہا ہے کہ مالی سال انیس سو تہتر۔چوہتر سے لے کر حساب ہونا چاہیے اور اس وقت سے لے کر آج تک جتنی رقم کم ملی ہے وہ ادا کی جائے لیکن اس ٹرائبونل کے ’ٹرمز آف ریفرنس‘ میں کہا گیا ہے کہ صوبہ سرحد کے اس مطالبے سے قطع نظر کہ انہیں اس عرصے سے ادائیگی ہو، ٹرائبونل اس مدت کی علیحدہ حساب کے علاوہ مالی سال انیس سو نوے ۔ اکانوے سے لے کر موجودہ مالی سال تک کا علیحدہ حساب کتاب کرے۔

اس عرصے کے دوران واپڈا یا ان کی جانب سے وفاقی حکومت نے جو صوبہ سرحد کو ادائیگیاں کی ہیں ان کا بھی حساب کتاب کیا جائے گا اور اگر ثالث ٹرائبونل کے طے کردہ رقم سے صوبے کی وصول کردہ رقم زیادہ ہوگی تو وہ واپس کرے گا اور کم ہونے کی صورت میں واپڈا یا وفاقی حکومت انہیں ادا کرے گی۔

ٹرائبونل کو ہدایت کی گئی ہے کہ جنوری سن اکانوے، بارہ ستمبر سن ترانوے، انتیس مئی سن ستانوے اور بائیس دسمبر سن انیس سو اٹھانوے کو ہونے والے مشترکہ مفادات کی کونسل کے اجلاسوں کے فیصلوں کو مدنظر رکھ کر اپنی سفارشات مرتب کرے۔

’ٹرمز آف ریفرنس‘ کے مطابق جہاں بھی اختلافی معاملہ پیدا ہو تو فریقین کا موقف اپنی جگہ لیکن مشترکہ مفادات کی کونسل کا فیصلہ حتمی تصور ہوگا۔

اسی بارے میں
واپڈا: خشک سالی کی وارننگ
26 July, 2005 | پاکستان
آدھے محاصل صوبوں کو دیں
29 April, 2004 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد