BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 04 December, 2006, 14:48 GMT 19:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سرحد میں ہفتہ انسداد کرپشن

سرحد اسمبلی
ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق ملک کے دیگر صوبوں کے مقابلے میں صوبہ سرحد کرپشن میں سب سے آخری نمبر پر ہے
سرحد کی صوبائی حکومت اور قومی احتساب بیورو (نیب) نے بدعنوانی کی روک تھام بالخصوص نچلی سطح پر کرپشن کے خاتمے کےلیے چار سے نو نومبر تک صوبہ بھر میں ہفتہ انسداد کرپشن منانے کا اعلان کیا ہے۔

اس مہم کے دوران پورے صوبے میں سیمنار ، مباحثے ، تعلیمی اداروں میں تقرری مقابلے اور واک سمیت دیگر سرگرمیوں کا بھی انعقاد کیا جائے گا ۔

پیر کو پشاور میں صحافیوں کو بریفینگ دیتے ہوئے نیب سرحد کے قائم مقام سربراہ بریگیڈیر مصدق عباسی اور صوبائی سیکرٹری اسٹبلشمنٹ میاں صاحب جان نے کہا کہ اس مہم کے دوران ضلعی حکومتوں کے دفاتر میں سپیشل سیل قائم کیے جائینگے جن میں موجود نیب اہلکار ضلعی حکومتوں کے کرپٹ اہلکاروں کے خلاف عوامی شکایات وصول کرینگے جن پر کاروائی بھی ہوگی۔

انہوں نے واضع کیا کہ نو دسمبر کو پورے ملک میں عالمی یوم انسداد بدعنوانی کا دن منایا جارہا ہے جبکہ صوبائی حکومت نے اس ضمن میں پورا ہفتہ منانے کا فیصلہ کیا ہے جس کا نعرہ ’ ہم سب ملکر کرپشن ختم کرسکتے ہیں’ رکھا گیا ہے۔

 ہر سال پاکستان میں بیس سے تیس فیصد جی ڈی پی کرپشن کی نظر ہوجاتا ہے جبکہ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق کرپشن کے عام واقعات میں ملک کو ہر سال 47 ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے جو ان کے بقول بہت بڑا نقصان ہے۔
مصدق عباسی(سربراہ نیب)

ان کا کہنا تھا کہ اس ہفتے کے دوران عوام کو بتایا جائے گا کہ سرکاری دفاتر عوام کے ٹیکسوں سے قائم ہیں اور ان کاکام عوام کو مفت سروسز فراہم کرنا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ 8 دسمبر کو نشترہال پشاور میں گریڈ 18 اور ان سے اوپر گریڈوں کے افسران کےلیے سیمنار کا انعقاد کیا گیا ہے اسی طرح صوبہ بھر کے ڈی سی اوز کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ یہ ہفتہ بھر پور طریقے سے منائیں اور اس میں عوام خصوصاً طلبہ کی شرکت کو یقینی بنائیں تاکہ انہیں بدعنوانی کے بارے میں آگاہی حاصل ہوسکیں۔

نیب سرحد کے قائم مقام سربراہ مصدق عباسی نے بی بی سی کو بتایا کہ ہر سال پاکستان میں بیس سے تیس فیصد جی ڈی پی کرپشن کی نظر ہوجاتا ہے جبکہ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق کرپشن کے عام واقعات میں ملک کو ہر سال 47 ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے جو ان کے بقول بہت بڑا نقصان ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ جو بڑے بڑے ترقیاتی منصوبے ہیں ان میں بھی ہر سال بڑے پیمانے پر بدعنوانیاں ہوتی ہے۔ مصدق عباسی نے ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی ایک رپورٹ کا حوالے دیتے ہوئے کہا کہ ملک کے دیگر صوبوں کے مقابلے میں صوبہ سرحد کرپشن میں سب سے آخری نمبر پر ہے ۔

اسی بارے میں
جج بدعنوان ہیں، عدالت عظمیٰ
04 December, 2003 | پاکستان
کرپشن اور عدلیہ
15 August, 2006 | پاکستان
’مشرف حکومت کرپٹ ہے‘
20 September, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد