بجلی معطل: سرحد، مظاہرے گرفتاریاں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ملک کے دیگر شہروں کی طرح صوبہ سرحد کے اکثر اضلاع میں بھی واپڈا کے مرکزی لائن میں خرابی کی وجہ سے کئی گھنٹوں تک بجلی کی سپلائی معطل رہی جبکہ بعض علاقوں سے واپڈا کے خلاف مظاہروں اور واپڈا کے دفاتر پر حملوں کی اطلاعات بھی ملی ہیں۔ صوبہ سرحد کے مختلف اضلاع سے ملنے والے اطلاعات کے مطابق دوپہر دو بجے اچانک بجلی بند ہوگئی اور شام آٹھ بجے تک مسلسل معطل رہی۔ اس طویل بریک ڈاؤن کی وجہ سے کاروبار زندگی بری طرح متاثر ہوا اور بعض علاقوں سے پانی کے کمی کی اطلاعات بھی موصول ہوئی۔ سرحد کے بیشتر اضلاع میں پہلا روزہ ہونے کے باعث لوگوں کو افطاری تیار کرنے میں بھی مشکلات کا سامنا رہا۔ پشاور میں واپڈا کے ایک ترجمان نے بتایا کہ منگلاڈیم سے بجلی کی مین لائن میں تکنیکی خرابی کے باعث ملک کے اکثر علاقوں میں بجلی کی سپلائی معطل ہوئی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ رات نو بجے تک پشاور شہر کے زیادہ تر علاقوں میں بجلی کی سپلائی بحال ہو چکی تھی۔ انہوں نے کہا کہ بعض علاقے ابھی بھی تاریکی میں ڈوبے ہوئے ہیں اور مکمل بحالی تک مزید وقت لگ سکتا ہے ۔ ادھر صوبہ سرحد کے دوسرے بڑے شہر مردان میں درجنوں مشتعل مظاہرین نے بجلی کی طویل معطلی کے خلاف احتجاج کر تے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے اور واپڈا کے ایک شکایات دفتر پر حملہ کر کے وہاں پر موجود دو تین چارپائیوں کو تیل چھڑک کر آگ لگائی اور تھوڑ پھوڑ کی۔ پولیس نے واپڈا آفس پر حملے کے الزام میں بارہ افراد کوگرفتار کر کے ان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔ پولیس کے مطابق ضلع مردان کے دیگر علاقوں تخت بھائی، جلالہ، جھنڈے اور شیر گھڑھ میں بھی لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور واپڈا کے خلاف احتجاج مظاہرے کیئے۔ دوسری طرف اخبارات کے دفاتر میں بھی رات گئے تک کالوں کا نہ ختم ہونے والہ سلسلہ جاری رہا اور عوام طرح طرح کے سوالات پو چھتے رہے۔ |
اسی بارے میں واپڈا تنصیبات کو اڑانے کی کوشش16 June, 2005 | پاکستان واپڈا کے متعدد اہلکار اغواء12 January, 2005 | پاکستان واپڈا لوڈشیڈنگ: وزیر پریشان01 October, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||