BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 05 June, 2006, 10:11 GMT 15:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایک لاکھ سکول بجلی سے محروم

ملک بھر میں پرائمری سے یونیورسٹی تک دو لاکھ سات ہزار کے قریب تعلیمی ادارے ہیں
پاکستان کی حکومت نے رواں مالی سال کے بارے میں جاری کردہ اقتصادی سروے میں بتایا ہے کہ ملک میں ایک لاکھ ساڑھے سات ہزار سے زیادہ سکولوں میں بجلی کی سہولت دستیاب نہیں ہے۔

تعلیمی اداروں میں سہولتوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ 68211 سکولوں میں پینے کا پانی میسر نہیں، بیاسی ہزار دو سکولوں میں بیت الخلاء نہیں ہیں، اٹھارہ ہزار کے قریب سکول کھلے آسمان تلے ہیں اور اسی ہزار سے زیادہ سکولوں کی چار دیورای نہیں ہے۔

حکومتی اعداد وشمار کے مطابق پاکستان میں خواندگی کی شرح مجموعی آبادی کے ساٹھ فیصد تک کرنے کے لیئے مقررہ کردہ حدف بھی رواں سال حاصل نہیں ہوسکا اور شرح خواندگی تریپن فیصد رہی ۔

تعلیم یافتہ خواتین، پنجاب سب سے آگے
 چاروں صوبوں میں خواتین کی شرح خواندگی کے اعتبار سے پنجاب چوالیس فیصد شرح کے ساتھ تمام صوبوں سے آگے ہے۔

رپورٹ کے مطابق دنیا کے ان پڑھ افراد کی نصف آبادی جنوبی ایشیا میں رہتی ہے جوکہ پوری دنیا کی آبادی کا بائیس فیصد ہے۔ جنوبی ایشیا میں سری لنکا اور مالدیپ نے سو فیصد شرح خواندگی کا حدف پورا کرلیا ہے۔

پاکستان میں مجموعی پیداوار کا دو اعشاریہ ایک فیصد تعلیم پر خرچ کیا گیا۔ جبکہ دیگر ممالک میں یہ شرح اس سے زیادہ ہے۔

سکول
اسی ہزار سے زیادہ سکولوں کی چار دیورای نہیں

اقتصادی جائزے میں حکومت نے بتایا ہے کہ ملک بھر میں پرائمری سے یونیورسٹی تک دو لاکھ سات ہزار کے قریب تعلیمی ادارے ہیں۔ جس میں ایک لاکھ ستاسی ہزار پانچ سو کے قریب پرائمری اور مڈل سکول شامل ہیں جبکہ یونیورسٹیوں کی تعداد ایک سو تین بتائی گئی ہے۔
شرح خواندگی، سندھ سب سے آگے
 چاروں صوبوں میں شرح خواندگی کے تناسب سے صوبہ سندھ چھپن فیصد کے ساتھ سب سے آگے ہے۔

پاکستان کے تمام تعلیمی اداروں میں دو کروڑ نوے لاکھ اور نوے ہزار کے قریب طلباء نے داخلہ لیا اور انہیں پڑھانے کے لیئے تمام سطحوں کے تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی تعداد گیارہ لاکھ سات ہزار کے قریب ہے۔

حکومتی رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر ملک میں شرح خواندگی تریپن فیصد ہے جس میں سے مردوں میں یہ شرح پینسٹھ اور خواتین میں چالیس فیصد ہے۔ چاروں صوبوں میں شرح خواندگی کے تناسب سے صوبہ سندھ چھپن فیصد کے ساتھ سب سے آگے ہے۔

صوبہ پنجاب میں پچپن، سرحد میں پینتالیس اور بلوچستان میں باون فیصد شرح خواندگی ہے۔ چاروں صوبوں میں خواتین کی شرح خواندگی کے اعتبار سے پنجاب چوالیس فیصد شرح کے ساتھ تمام صوبوں سے آگے ہے۔

خواتین کی شرح خواندگی میں صوبہ سندھ اکتالیس فیصد کے ساتھ دوسرے اور سرحد چھبیس فیصد کے ساتھ تیسرے اور بلوچستان میں خواتین کی شرح خواندگی سب سے کم یعنی انیس فیصد ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد