آبادی پر کنٹرول کے لیے علما کواعزازیہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیر برائے بہبود آبادی چوہدری شہباز حسین نے بتایا ہے کہ مسلمان ممالک میں آبادی کی شرحِ اضافہ روکنے کےلیئےمانع حمل اقدامات پر موثر عمل درآمد کے لیئے ’او آئی سی‘ سے رجوع کیا جائے گا۔ یہ بات انہوں نے بدھ کے روز ایک نیوز بریفنگ میں کہی جہاں افغانستان، کرغیستان اور سوڈان کے علماء بھی موجود تھے۔ انہوں نے بتایا کہ آبادی پر کنٹرول کی خاطر مانع حمل اقدامات کے بارے میں جامع منصوبہ بندی کے لیے دنیا کے انیس اسلامی ممالک سے آئے ہوئے مہمان اسلام آباد میں منعقد کردہ دو روزہ کانفرنس شریک ہوئے۔ کانفرنس کے شرکاء نے متفقہ طور پر ’ایکشن پلان‘ منظور کرتے ہوئے فیصلہ کیا ہے کہ اس بارے میں بڑے پیمانے پر اقدامات کے لیئے ’او آئی سی‘ کا پلیٹ فارم استعمال کیا جائے۔ ایک سوال پر چوہدری شہباز حسین نے کہا کہ اسقاط حمل غیر اسلامی ہے جبکہ مانع حمل کے اقدامات کو بیشتر علماء اسلامی تعلیمات کے منافی نہیں سمھجتے۔ لیکن زنا باالجبر کی صورت میں بچے کی پیدائش کے بارے میں سوال پر انہوں نے مبہم جواب دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کچھ علماء پہلے مانع حمل سمیت بہبود آبادی کے مختلف اقدامات کے سخت مخالف تھے لیکن اب وہ خاموش ہوگئے ہیں اور کئی علماء حکومتی اقدامات کے موافق ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مانع حمل اقدامات کے درست ہونے کے متعلق مصر کی جامعہ الازہر سمیت کئی دیگر اہم اداروں کے مفتیوں نے فتوے جاری کر رکھے ہیں۔ وزیر نے کہا کہ مسلمان معاشروں میں علماء کا بے حد احترام کیا جاتا ہے اس لیئے ان کی شرکت مانع حمل اقدامات پر عمل کرانے میں سود مند ثابت ہوئی ہے اور یہ ہی وجہ ہے کہ پاکستان حکومت نے نچلی سطح تک تیرہ ہزار مساجد کے پیش اماموں اور علماء کی تربیت کا سلسلہ جولائی میں شروع کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق رواں سال کے بجٹ میں پینتیس سو ’ماسٹر ٹرینرز‘ کی تربیت مکمل کی ہے جو ہر ضلع میں مقامی علماء کو تربیت دیں گے اور مانع حمل اقدامات کی ترغیب دینے والے پیش اماموں اور علماء کو حکومت ماہانہ اعزازیہ بھی دے گی ان کے مطابق اس پروگرام کے لیئے آئندہ بجٹ میں رقم مختص ہوگی۔ انہوں نے ایک سوال پر کہا کہ پاکستان میں آبادی میں اضافے کی شرح میں کمی ہوئی ہے اور اب یہ شرح ایک اعشاریہ نو فیصد سے کم ہوکر ایک اعشاریہ آٹھ فیصد ہوئی ہے۔ اس موقع پر افغانستان سے آئے ہوئے ڈاکٹر محمد ایاز نیازی نے کہا کہ آبادی کی شرح میں اضافہ روکنے کے اقدامات ہر ملک کی اپنی صورتحال کے تحت کیے جانے چاہیے۔ انہوں نے مثال دی کہ افغانستان میں لڑائی کے دوران کافی تعداد میں ہلاکتیں ہوتی ہیں اور وہاں لوگوں کو آبادی میں کمی لانے کی کیسے ترغیب دیں۔ تاہم انہوں نے قرآنی آیات اور اسلامی تعلیمات کے حوالے دے کر اسلام میں قتل کی سختی سے ممانعت ہے لیکن مانع حمل اقدامات قتل کے زمرے میں نہیں آتے کیونکہ ایسا کرنا پیشگی احتیاطی تدابیر ہیں۔ | اسی بارے میں آبادی پر علماء کی تشویش06 May, 2005 | پاکستان آبادی میں ہر مِنٹ پانچ افراد کا اضافہ24 April, 2005 | پاکستان کنڈومز کے استعمال کا رجحان04 December, 2004 | پاکستان بچے دو: دوا اورتعلیم مفت01 October, 2004 | پاکستان آبادی کی منصوبہ بندی کا محرک گانا10 July, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||