BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 20 May, 2006, 09:57 GMT 14:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پشاور: طلبہ کےدرس قرآن پر پابندی

پشاور یونیورسٹی
یونیورسٹی اعلامیہ کے مطابق کیمپس کے اندر چندہ اکٹھا کرنے پر بھی پابندی عائد ہوگی۔
متحدہ مجلس عمل کی صوبائی حکومت نے کہا ہے کہ پشاور یونیورسٹی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں درس قرآن پر پابندی لگانے کا فیصلہ انہیں اعتماد میں لیئے بغیرکیا ہے۔

سنیئر صوبائی وزیر سراج الحق نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی نے یہ فیصلہ سستی شہرت حاصل کرنے کے لیئے کیا ہے۔

دوسری جانب پشاور یونیورسٹی کی انتظامیہ کی جانب سے یونیورسٹی کے اندر درس قرآن اور وعظ و نصیحت پر پابندی عائد کیئے جانے کے بعد طلبہ بدستور احتجاج کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ مارچ کے مہینے میں پشاور یونیورسٹی کے پرووسٹ کی جانب سے ایک اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں یونیورسٹی حدود میں سیاسی سرگرمیوں کی حوصلہ شکنی کے سلسلہ میں درس قرآن، وعظ و نصیحت اوردیگر سیاسی پروگراموں پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔ اعلامیہ کے مطابق خلاف ورزی کرنے والے طلبہ کو یونیورسٹی سے خارج کرنے اور انہیں دیگر یونیورسٹیوں میں داخلہ نہ دینے کی سزا دی جائےگی۔

اس فیصلے کے خلاف بعض طلبہ تنظیموں نے احتجاجی مظاہرے کیے اور اسے ایک غیر اسلامی فیصلہ قرار دیا۔

اسلامی جمعیت طلبہ یونیورسٹی کیمپس کے جنرل سیکرٹری رفیع اللہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے الزام لگایا کہ یونیورسٹی انتظامیہ کیمپس کے اندر سیکولرزم کی ترویج کرنے کے لیئے اس قسم کے فیصلے کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آغا خان آڈیٹوریم میں وائس چانسلر اور پرووسٹ کی موجودگی میں مبینہ طور پر فحاشی اور ڈانس پارٹیاں ہوتی ہیں اور ان کو پولیس کی مکمل تحفظ بھی حاصل ہوتا ہے جبکہ دوسری طرف درس وقرآن اور وعظ و نصیحت پر پابندی ہے۔

اس سے قبل بعض طلبہ تنظیموں کے زیر اہتمام کیمپس کے اندر مختلف ہاسٹلز اور مساجد میں درس قرآن کے تقریبات منعقد ہوا کرتی تھیں جس پر انتظامیہ کو اعتراض تھا کہ ان پروگراموں کی آڑ میں طلبہ تنظیمیں اپنی سیاست چمکاتی ہیں۔

شعبہ صحافت کی ایک طالبہ تہمینہ اشرف نے کہا کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے درس قرآن کے حوالے سے جو فیصلہ کیا ہے وہ درست ہے کیونکہ ان کے بقول طلبہ کی اولین ذمہ داری تعلیم حاصل کرنا ہے۔

انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ اس قسم کی سرگرمیوں میں کوئی برائی نہیں لیکن اس کا ایک خاص وقت ہونا چاہیے کیونکہ ’طلبہ یہاں پڑھنے آتے ہیں ان کی پہلی ترجیح تو پڑھائی ہونی چاہیے۔‘

اعلامیہ کے مطابق کسی سیاسی، مذہبی یا دیوسرے گروپ کے لیے کیمپس کے اندر چندہ اکٹھا کرنے پر بھی پابندی عائد ہوگی۔

جب یونیورسٹی کے رجسٹرار شیر بہادر سے اس سلسلے میں رابط کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی انتظامیہ از خود طلبہ کی تربیت کے لیئے کیمپس کے اندر درس قرآن کا انعقاد کر رہی ہے۔

’ ہم سب مسلمان ہیں اور یہ کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا کہ درس قرآن پر یونیورسٹی کے اندر پر پابندی ہوگی بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ پہلی دفعہ ایم اے، ایم ایس سی کی جماعتوں کے لیئے یونیورسٹی نے سرکاری سطح پر مکمل قرآن پاک کے مکمل ترجمے کو شامل کیاہے۔‘

متحدہ مجلس عمل کی صوبائی حکومت نے یونیورسٹی انتظامیہ کے اس فیصلے پر سخت ناپسندگی کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’پا کستان کی کسی بھی یونیورسٹی میں، کراچی، لاہور اور اسلام آباد، کہیں پر بھی یہ پابندی نہیں پھر پشاور میں اس قسم کی پابندی لگانا سمجھ سے بالاتر ہے۔‘

سراج الحق نے مزید بتایا کہ ممبران سرحد اسمبلی نے اس پابندی پر سخت ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔

اس فیصلے کے خلاف بعض اراکین سرحد اسمبلی نے التواء کی تحاریک پیش کی جس کے بعد سپیکر نے حکومتی اور اپوزیشن ممبران پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی جو یونیورسٹی انتظامیہ سے اس فیصلے کے بارے میں بات کرےگی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد