BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 02 June, 2006, 07:32 GMT 12:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان کو چھ ارب ڈالر کا قرضہ

عالمی بنک
یہ فیصلہ عالمی بنک کے بورڈ آف ایگزیکٹو ڈائریکٹرز کے اجلاس میں کیا گیا
عالمی بینک نے پاکستان کو چار سال کے دوران چھ اعشاریہ پانچ بلین امریکی ڈالر مالیت کے قرضہ جات فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

یہ بات عالمی بینک جنوبی ایشیا کی جانب سے پاکستان کے’ کنٹری نمائندے‘ جان وال کی تصدیق سے جاری ہونے والے اعلامیے میں کہی گئی ہے۔

اعلامیے کے مطابق عالمی بینک کے بورڈ آف ایگزیکٹو ڈائریکٹرز کے اجلاس میں پاکستان کے لیئے ملکی امداد کی حکمتِ عملی کی دستاویز پر بحث کی گئی۔

یہ دستاویز سنہ 2006 سے لے کر سنہ 2009 تک کی مدد و قرضہ جات کا احاطہ کرتی ہے جس کی قرضہ جاتی رقم لچکدار قرضوں کے ساتھ چھ اعشاریہ پانچ بلین امریکی ڈالر بنتی ہے۔

عالمی بینک کی طرف سے ملکی امداد کی اس حکمت عملی میں ترجیحات گزشتہ برس اکتوبر میں پاکستان میں آنے والے زلزلے کے نقصانات اور اس سے متاثرہ علاقوں کی ازسرِ نو تعمیر پر مرکوز کی گئی ہیں۔

عالمی بینک کے اس چار سالہ قرضے میں زلزلے کے متاثرین کی امداد و بحالی اور متاثرہ علاقوں کی تعمیرِ نو کے لیئے ایک بلین امریکی ڈالر مختص کیئے گئے ہیں جن میں سے آٹھ سو چالیس ملین ڈالر پہلے سے ہی منظور شدہ ہیں۔

بینک کے اعلٰی عملداروں کے مطابق’ اس کے علاوہ اس چار سالہ قرضہ جات کا بقیہ حصہ حکومت پاکستان کی ترجیحات کے مطابق ترقی و تعمیر، غربت کے خاتمے، اور قرضہ میں اضافے کی رقم انفرا اسٹرکچر، خاص طور توانائي، صاف پانی اور انسانی ترقی پر خرچ کی جائےگی‘۔

’ کنٹری اسسٹنس سٹریٹجی‘ کی مد میں دی جانے والی رقم میں صوبہ پنجاب اور سرحد کو تین سو چالیس ملین یا چونتیس کروڑ ڈالر کی رقم کی امداد منظور کی گئی ہے۔

 عالمی بینک کی طرف سے ملکی امداد کی اس حکمت عملی میں ترجیحات گزشتہ برس اکتوبر میں پاکستان میں آنے والے زلزلے کے نقصانات اور اس سے متاثرہ علاقوں کی ازسرِ نو تعمیر پر مرکوز کی گئی ہیں۔

اس تین سو چالیس ملین ڈالر کی رقم میں سے ایک سو ملین ڈالر صوبہ پنجاب کی آبپاشی، پچاس ملین ڈالر میونسپل نظام کی بہتری اور ایک سو ملین ڈالر کی امداد تعلیمی ترقی پر خرچ کی جائےگي۔ پنجاب کے شہروں میں میونسپل خدمات کے نظام میں بہتری کے مقصد سے خرچ ہونے والی یہ رقم وہاں میونسپل تحصیل اتھارٹیز کوجاری کی جائےگي جبکہ صوبہ سرحد کو ملنے والی یہ قرضہ جاتی رقم نوے ملین ڈالر ہے جس کا بیشتر حصہ صوبائی حکومت کی طرف سے درمیانی سطح کی اصلاحات پر صرف ہوگا جن میں انسانی ترقی، سوشل سیکٹر اور سیاسی اصلاحات بھی شامل ہیں۔

صوبہ پنجاب کو ملنے والے قرضہ جات کی واپسی کے لیئے مدت بیس سال اور آٹھ سال کا ’گریس پیریڈ‘ شامل ہے جبکہ صوب سرحد کو دیے گئے قرضہ جات کی واپسی کے لیئے پینتیس سال اور’گریس پیریڈ‘ دس برس کا دیا گیا ہے۔

واشنگٹن میں موجود صحافتی ذرا‏ئع کے مطابق پاکستان کو چار سالوں کے لیئے اس خطیر امدای رقم میں مجوزہ کالا باغ ڈیم سمیت بڑے ڈیموں کی تعمیر کے لیئے رقوم مختص نہیں اور نیز یہ کہ عالمی بینک کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان نے مجوزہ ڈیم بنائے بھی تو چار سال کے بعد ہی بنائےگا اور جب بھی پاکستان نے اس رقم کی درخواست کی تو عالمی بینک اس کے مثبت جواب کا پابند ہے۔

اسی بارے میں
پاکستان کی اقتصادی حالت
26 April, 2005 | پاکستان
عالمی بنک کو پاکستان کا خط
19 January, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد