پاکستان کو چھ ارب ڈالر کا قرضہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عالمی بینک نے پاکستان کو چار سال کے دوران چھ اعشاریہ پانچ بلین امریکی ڈالر مالیت کے قرضہ جات فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ بات عالمی بینک جنوبی ایشیا کی جانب سے پاکستان کے’ کنٹری نمائندے‘ جان وال کی تصدیق سے جاری ہونے والے اعلامیے میں کہی گئی ہے۔ اعلامیے کے مطابق عالمی بینک کے بورڈ آف ایگزیکٹو ڈائریکٹرز کے اجلاس میں پاکستان کے لیئے ملکی امداد کی حکمتِ عملی کی دستاویز پر بحث کی گئی۔ یہ دستاویز سنہ 2006 سے لے کر سنہ 2009 تک کی مدد و قرضہ جات کا احاطہ کرتی ہے جس کی قرضہ جاتی رقم لچکدار قرضوں کے ساتھ چھ اعشاریہ پانچ بلین امریکی ڈالر بنتی ہے۔ عالمی بینک کی طرف سے ملکی امداد کی اس حکمت عملی میں ترجیحات گزشتہ برس اکتوبر میں پاکستان میں آنے والے زلزلے کے نقصانات اور اس سے متاثرہ علاقوں کی ازسرِ نو تعمیر پر مرکوز کی گئی ہیں۔ عالمی بینک کے اس چار سالہ قرضے میں زلزلے کے متاثرین کی امداد و بحالی اور متاثرہ علاقوں کی تعمیرِ نو کے لیئے ایک بلین امریکی ڈالر مختص کیئے گئے ہیں جن میں سے آٹھ سو چالیس ملین ڈالر پہلے سے ہی منظور شدہ ہیں۔ بینک کے اعلٰی عملداروں کے مطابق’ اس کے علاوہ اس چار سالہ قرضہ جات کا بقیہ حصہ حکومت پاکستان کی ترجیحات کے مطابق ترقی و تعمیر، غربت کے خاتمے، اور قرضہ میں اضافے کی رقم انفرا اسٹرکچر، خاص طور توانائي، صاف پانی اور انسانی ترقی پر خرچ کی جائےگی‘۔ ’ کنٹری اسسٹنس سٹریٹجی‘ کی مد میں دی جانے والی رقم میں صوبہ پنجاب اور سرحد کو تین سو چالیس ملین یا چونتیس کروڑ ڈالر کی رقم کی امداد منظور کی گئی ہے۔ اس تین سو چالیس ملین ڈالر کی رقم میں سے ایک سو ملین ڈالر صوبہ پنجاب کی آبپاشی، پچاس ملین ڈالر میونسپل نظام کی بہتری اور ایک سو ملین ڈالر کی امداد تعلیمی ترقی پر خرچ کی جائےگي۔ پنجاب کے شہروں میں میونسپل خدمات کے نظام میں بہتری کے مقصد سے خرچ ہونے والی یہ رقم وہاں میونسپل تحصیل اتھارٹیز کوجاری کی جائےگي جبکہ صوبہ سرحد کو ملنے والی یہ قرضہ جاتی رقم نوے ملین ڈالر ہے جس کا بیشتر حصہ صوبائی حکومت کی طرف سے درمیانی سطح کی اصلاحات پر صرف ہوگا جن میں انسانی ترقی، سوشل سیکٹر اور سیاسی اصلاحات بھی شامل ہیں۔ صوبہ پنجاب کو ملنے والے قرضہ جات کی واپسی کے لیئے مدت بیس سال اور آٹھ سال کا ’گریس پیریڈ‘ شامل ہے جبکہ صوب سرحد کو دیے گئے قرضہ جات کی واپسی کے لیئے پینتیس سال اور’گریس پیریڈ‘ دس برس کا دیا گیا ہے۔ واشنگٹن میں موجود صحافتی ذرائع کے مطابق پاکستان کو چار سالوں کے لیئے اس خطیر امدای رقم میں مجوزہ کالا باغ ڈیم سمیت بڑے ڈیموں کی تعمیر کے لیئے رقوم مختص نہیں اور نیز یہ کہ عالمی بینک کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان نے مجوزہ ڈیم بنائے بھی تو چار سال کے بعد ہی بنائےگا اور جب بھی پاکستان نے اس رقم کی درخواست کی تو عالمی بینک اس کے مثبت جواب کا پابند ہے۔ | اسی بارے میں بش کا دورہ: خواہش اور حقیقت02 March, 2006 | پاکستان زلزلہ متاثرین اور عالمی امداد کے وعدے25 October, 2005 | پاکستان زلزلہ: کون کتنی امداد دے رہا ہے؟24 October, 2005 | پاکستان پاکستان ایک کاروبار موافق ملک 14 September, 2005 | پاکستان پاکستان کی اقتصادی حالت26 April, 2005 | پاکستان عالمی بنک کو پاکستان کا خط19 January, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||