کراچی میں بجلی کا شدید بحران | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کو دن بدن بجلی کی کمی کا سامنا ہے مگر کراچی میں یہ کمی شدت اختیار کر گئی ہے جہاں جاری طویل لوڈشیڈنگ اور بریک ڈاؤن نے ایک طرف تو عام شہریوں کو مشکلات سے دوچار کیا ہے۔ دوسری طرف صنعتکاروں کو اربوں روپوں کا نقصان پہنچ رہا ہے۔ گزشتہ ایک ہفتے سے روزانہ شہری اور تاجر سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کرکے لوڈشیڈنگ اور بریک ڈاؤن کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ حکومت نے رواں سال کے بجٹ میں جنرل سیلز ٹیکس کی مد میں واپڈا کے لیے پونے چار ارب اور کے ای ایس سی کے لیے تقریبا ساڑہ تین ارب روپے سبسڈی کا اعلان کیا ہے۔ اس طرح گزشتہ سال بھی ان اداروں کو سبسڈی دی گئی تھی مگر ان اداروں سے عوام کو کوئی ریلیف نہیں مل پا رہا ہے۔ جگمگاتی روشنیوں کی وجہ سے کراچی روشنیوں کا شہر کہلاتا تھا مگر یہ اب ماضی کے قصے ہوگئے ہیں۔ اب تو کراچی کے شہریوں کو ہر سال موسم گرما کے ساتھ بجلی کی لوڈشیڈنگ کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کپڑوں کے ایک دکاندار ریحان کا کہنا ہے کہ چوبیس میں سے بارہ گھنٹے بجلی بند رہتی ہے جس وجہ سے نہ دکان پر اور نہ ہی گھر پر آرام کرسکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کو یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ بجلی کا بل تو وہی آتا ہے اس میں کوئی کمی نہیں ہوتی۔ اصولی طور پر جب بجلی نہیں ہے تو بل بھی کم آنا چاہیے۔ شاھ فیصل کالونی کی رہائشی فرخندہ نرس ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بجلی نہ ہونے کی وجہ سے ان کی نیند پوری نہیں ہوتی اور بجلی کے آنے جانے کی وجہ سے بجلی سے چلنے والی مشنری خراب ہو رہی ہے۔
کراچی میں ہر سال آبادی میں اضافے کے ساتھ بجلی کا استعمال بھی بڑہ رہا ہے۔ کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کو تئیس سو سے ساڑہ تئیس سو میگاوٹ بجلی کی ضرورت ہے جس میں سے چھ سو میگاواٹ واپڈا فراہم کرتا ہے جبکہ بارہ سو سے تیرہ سو میگاواٹ کے ای ایس سی اپنی پیداوار سے حاصل کرتی ہے۔ کے ای ایس سی کے ترجمان سید سلطان احمد کا کہنا ہے کہ اس سال اپریل ماہ میں بجلی کی کھپت میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے ان کے مطابق اس سال 2300 سے 2350 میگا واٹ بجلی استعمال ہو رہی ہے جبکہ محکمہ کے پاس دو ہزار سے اکیس سو میگا واٹ بجلی موجود ہے۔ سید سلطان احمد کا کہنا ہے کہ محکمے کے پاس دو ڈھائی سو میگا واٹ بجلی کی کمی کا سامنا ہے وہ بھی اس صورت میں جب کے ای ایس سی کی تمام مشینیں صحیح چل رہی ہوں، واپڈا سے بجلی مل رہی ہو، کینپ سے اکہتر میگاوٹ بجلی مل رہی ہو، دو نجی بجلی گھر دو سو تین اور دو سو چالیس میگاوٹ بجلی فراہم کر رہے ہوں، اس صورتحال کے باوجود بھی پندرہ سو سے دوسو میگاوٹ بجلی کی کمی کا سامنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کے ای ایس سی کے بن قاسم بجلی گھر کے دو یونٹ کام نہیں کر رہے ہیں جس سے چار سو بیس میگاواٹ بجلی کی پیداوارہوتی ہے۔ کے ای ایس سی کا کہنا ہے کہ صنعتی علاقوں میں لوڈشیڈ نگ نہیں کی جارہی ہے مگر کراچی ایوان صنعت و تجارت اس کو غلط قرار دیتا ہے۔ کراچی چیمبر کے صدر مجید عزیز بتاتے ہیں کہ بارہ بارہ گھنٹے سائٹ کے علاقے میں لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے جس سے صنعتکار پریشان ہیں ان کے مطابق ہر آدمی جنریٹر لگانے کی سکت نہیں رکھتا کیونکہ سب کے پاس اتنے وسائل نہیں۔ ان کا کہنا ہے بجلی کی قلت کی وجہ کراچی میں سے بیاسی سے پچاس کروڑ روپے فی گھنٹہ نقصان ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چیمبر نے پہلے کہہ دیا تھا کہ بجلی کی کمی کے خلاف لوگ سڑکوں پر نکلیں گے اب تاجر اور صنعتکار بھی سڑکوں پر ہوں گے۔ کراچی ہوزری اور گارمنٹس کی صنعت کا مرکز ہے بجلی کی کمی نے ایک طرف تو مالکان کے لیے آرڈر کی ترسیل میں مشکلات کی ہے تو دوسری طرف خرچے میں اضافہ ہوا ہے۔ سائٹ ایریا میں ایس اے احمد کپڑوں کے کاروبار کے مالک محمد حامد بتاتے ہیں کہ روزانہ پانچ سے چھ گھنٹے بجلی بند رہتی ہے جس وجہ سے جنریٹر چلانا پڑتا ہے جس سے خرچہ بڑھ جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بجلی کی کمی کی وجہ سے شپمنٹ میں تاخیر ہورہی ہے۔ خریدار کا اس سے کوئی واسطہ نہیں کہ بجلی ہے یا نہیں وہ کہتا ہے کسی بھی طرح آرڈر پورا کیا جائے۔ فیکٹری میں کام کرنے والے مزدوروں کا کہنا ہے کہ جنریٹر سے صرف مشین چلائی جاتی ہے جس وجہ سے انہیں سخت گرمی محسوس ہوتی ہے۔ لوڈشیڈنگ کی وجہ سے وہ گھر پر نیند بھی پوری نہیں کرسکتے ہیں۔ پاکستان میں پندرہ ہزار سے زائد میگاواٹ بجلی کی ضرورت ہے جس میں اس وقت کوئی انتیس میگاواٹ کی کمی ہے۔ حکومت نے بجلی کی بچت کے لیے شام آٹھ بجے کاروباری مراکز بند کرنے کا اعلان کیا تھا جس سے پانچ سو میگاواٹ بجلی کی بچت کا اندازہ لگایا گیا تھا مگر اس فیصلے پر عملدرآمد نہیں ہوسکا۔ واپڈا کے مطابق ہر سال دس لاکھ نئے صارف کنکشن کی درخواست دیتے ہیں۔ محکمۂ خزانہ کے معاون سلمان شاھ کا کہنا ہے کہ ہر سال بجلی کی کمی کی وجہ سے دو سو بلین روپے کا نقصان ہورہا ہے۔ |
اسی بارے میں ’روزانہ آدھے گھنٹے بجلی بند‘03 January, 2007 | پاکستان پاکستان: بجلی کا بڑا بریک ڈاؤن 24 September, 2006 | پاکستان کراچی، بجلی کا بحران شدید تر04 May, 2006 | پاکستان بجلی معطل اور دھماکوں کی آوازیں28 March, 2007 | پاکستان مچھ میں حملہ، بجلی کی فراہمی متاثر01 April, 2007 | پاکستان کراچی: بجلی کے لیے 9 ارب کا قرضہ04 June, 2007 | پاکستان مکران: بجلی کا بحران، احتجاج 04 June, 2007 | پاکستان بجلی کی بندش، میران شاہ میں ہڑتال14 January, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||