مکران: بجلی کا بحران، احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے تین شہروں گوادر تربت اور پنجگور میں بجلی کا شدید بحران جاری ہے جس کے خلاف آج تربت میں تاجر اور سیاسی جماعتوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔ مظاہرین نے وفاقی اور صوبائی حکومت کے علاوہ بجلی فراہم کرنے والے ادارے کے خلاف شدید نعرہ بازی کی ہے اور کہا ہے کہ اس وقت تربت میں درجہ حرارت سینتالیس ڈگری سے زیادہ ہے اور برف کی قیمت چالیس سے پچاس روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب تربت کے قریب آندھی سے تیرہ کھمبے گر گئے تھے جس کے بعد گوادر پنجگور اور تربت کو بجلی کی ترسیل معطل ہو گئی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی اسی طرح کھمبے گر گئے تھے جس سے ایک ماہ تک بجلی منقطع رہی۔ کچھ روز بجلی بحال رہی اور اب پھر ایک مرتبہ کھمبے گر گئے ہیں۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ جس علاقے میں کھمبے گرے ہیں یہاں لوگ کھمبوں کے بریسز چوری کرکے کباڑ میں بیچ دیتے ہیں۔ کوئٹہ میں موجود بجلی کے محکمے کے سربراہ شفیق خٹک نے بتایا کہ بجلی کے کھمبے روانہ کر دیے گئے ہیں اور آئندہ پانچ روز تک بجلی بحال کر دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پنجگور اور پسنی میں مقامی جنریٹرز سے جس حد تک ہو سکتا ہے بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت انکوائری ہو رہی ہے کہ کھمبے گرنے کی کیا وجہ ہے اور جو کوئی اس میں ملوث پایا گیا اس کے خلاف کارروائی ضرور ہو گی۔ اس کے علاوہ نوشکی میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے قائدین کی گرفتاری کے خلاف آج کاروباری مراکز بند ہیں۔ نوشکی کے پولیس افسر عیسیٰ نے بتایا ہے کہ حالات پرامن ہیں اور کسی قسم کا کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ | اسی بارے میں بجلی معطل: سرحد، مظاہرے گرفتاریاں 25 September, 2006 | پاکستان کوئٹہ: پٹری پر دھماکہ، بجلی منقطع31 March, 2007 | پاکستان کوئٹہ: بجلی کی بندش پر احتجاج 13 April, 2006 | پاکستان بجلی معطل اور دھماکوں کی آوازیں28 March, 2007 | پاکستان مچھ میں حملہ، بجلی کی فراہمی متاثر01 April, 2007 | پاکستان بجلی کے بحران پراحتجاج28 June, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||